امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے اس حکم نامے کو مسترد کردیا ، جس میں ٹرمپ نے ۱۰۰؍ سال پرانے پیدائشی شہریت کے آئینی حق کو کالعدم کردیا تھا۔
EPAPER
Updated: June 30, 2026, 10:08 PM IST | Washington
امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے اس حکم نامے کو مسترد کردیا ، جس میں ٹرمپ نے ۱۰۰؍ سال پرانے پیدائشی شہریت کے آئینی حق کو کالعدم کردیا تھا۔
امریکی سپریم کورٹ نے منگل۳۰؍ جون کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پیدائشی شہریت ختم کرنے کی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس اصدارتی حکم نامے کو روک دیا، جس کا مقصد ایک آئینی اصول کو ختم کرنا تھا جو ایک صدی سے زائد عرصے سے تسلیم شدہ ہے۔ یہ حکم نامہ، جو ٹرمپ کی امیگریشن ایجنڈے کا ایک حصہ تھا، ابتدا ہی سے اپنی آئینی حیثیت کے حوالے سے قانونی چیلنجوں کا سامنا کر رہا تھا۔عدالت نے ٹرمپ کی ایک مرکزی دلیل کو مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ پیدائشی شہریت صرف ان افراد پر نافذ ہونی چاہیے جو امریکہ میں ’’مقیم‘‘(ڈومیسائل) ہیں، یعنی ان کا ارادہ ملک میں مستقل طور پر رہنے کا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی سپریم کورٹ کا ڈونالڈ ٹرمپ کے اختیارارت میں ۹۰؍ سالوں میں سب سےبڑا اضافہ
بعد ازاں چیف جسٹس جان رابرٹس نے اکثریتی رائے میں لکھا کہ ۱۴؍ ویں ترمیم کی اس طرح تشریح کرنے کے لیے تاریخی یا قانونی بنیاد بہت محدودہے۔رابرٹس نے لکھا کہ’’ اگر کانگریس کا ارادہ شہریت کو ہر فرد کی رہائش (ڈومیسائل) سے مشروط کرنا تھا، جو ایک ایسا سوال ہے جس کا فیصلہ بعض اوقات بہت مشکل ہوتا ہے، تو یہ توقع کرنا معقول ہے کہ اس موضوع پر کم از کم کچھ بحث ضرور ہوتی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ لفظ ’’ڈومیسائل‘‘ شہری حقوق ایکٹ کی متعلقہ دفعات پر بحث میں صرف دو مرتبہ آیا ہے اور شہریت کی شق (Citizenship Clause) پر مباحثوں کے دوران صرف ایک مرتبہ، جہاں اسے ریاستی شہریت اور آئین کے تحت قومی شہریت میں فرق کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ اور ایران جنگ کے بعد نوجوان امریکی ریپبلکنز اسرائیل سے بدظن ہورہے ہیں: رپورٹ
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران رائے دہندگان سے متعدد وعدے کئے تھے، ان میں شہریت قانون بھی ایک تھا، جس کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن پر لگام لگانا، اور نوزائدہ کو امریکی شہریت دلانے کے مقصد سے حاملہ خواتین کے امریکی میں داخلے کے مقصد کو بے اثر کرنا تھا۔ جبکہ ملک میں پیدائش پر امریکی شہریت حاصل ہونا آئینی حق ہے ۔