Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایس آئی آر پرعدلیہ کے ضمیر کو جگانے کی کوشش،چیف جسٹس کو اپوزیشن کا مکتوب

Updated: June 30, 2026, 11:35 PM IST | Hamidullah Siddiqui | New Delhi

الیکشن کمیشن کی جانبداری اور انتخابی نتائج پر اثر کا حوالہ دیا، کہا: جب کوئی اُمید نہ ہوتو جمہوریت عدلیہ کی طرف دیکھتی ہے۔ ڈی ایم کے اور’ آپ‘ نے بھی دستخط کئے

Through the letter, the opposition has given a message of complete unity against the Election Commission
مکتوب کے ذریعہ الیکشن کمیشن کے خلاف اپوزیشن نےپوری طرح متحد ہونے کا پیغام دیا ہے

اپوزیشن کی ۲۳؍ جماعتوں نے عدلیہ کے ضمیر پر دستک دینے کی کوشش کرتے ہوئے منگل ۳۰؍ جون کو ایس آئی آر کے تعلق سے چیف جسٹس آف انڈیاسوریہ کانت کو ایک مشترکہ خط لکھ کرالیکشن کمیشن کے متعصبانہ طرز عمل اورانتخابی نتائج میں ہیر پھیرکی شکایت کی ہے ۔اپوزیشن کے اس خط پر ڈی ایم کے اور عام آدمی پارٹی کے قائدین کے بھی دستخط ہیں جو ’انڈیا‘ اتحاد کا حصہ نہیں ہیں اور جنہوں نے قومی راجدھانی دہلی میں منعقدہ  اپوزیشن کے اجلاس میں  شرکت نہیں کی تھی۔
چیف جسٹس آف انڈیا کے نام اپوزیشن   کےخط کے مندرجات کوعام نہیں کیا گیاتاہم اندازہ ہے کہ جس طرح سے اپوزیشن کی حکمرانی والی ریاستوں میں ایس آئی آر کے ذریعہ بڑے پیمانہ پر لوگوں کوحق رائے سے محروم کرکے الیکشن کمیشن نے  مبینہ طور پر بی جے پی کیلئے راستہ آسان کرنے کی کوشش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق مکتوب میں  مختلف ریاستوں کی مثالیں پیش کی گئی ہیں  اوردیگر انتخابی بے ضابطگیوں کا حوالہ دیاگیاہے۔  اس کے ساتھ ہی عدلیہ کے ضمیر کو جگانے کی کوشش کرتے ہوئے جانکار ذرائع نے بتایا کہ ’’ہم نے عدلیہ سے  مداخلت کی اپیل کی ہے کیوں کہ جب کوئی امید نہیں  بچتی تو  ہندوستانی جمہوریت عدلیہ کی طرف دیکھتی ہے۔ہمارے مکتوب میں مختلف ریاستوں کی چنندہ مثالیں پیش کی گئی ہیں اور بتایاگیا ہے کہ کس طرح ایس آئی آر کاغلط استعمال کیا جارہاہے۔‘‘
 سپریم کورٹ کو لکھے گئے اس خط پرمعروف وکیل کپل سبل  نے بھی آزاد رکن پارلیمنٹ کے طور پر دستخط  کئے ہیں۔ کانگریس کے کمیونی کیشن انچارج  اورجنرل سیکریٹری جے رام رمیش  نے مکتوب کے تعلق سے بتایا ہے کہ ’’۲۱؍سیاسی جماعتوں کے علاوہ ایک آزاد ممبر پارلیمنٹ نے ۸؍جون ۲۰۲۶ء کو  انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں شرکت کی جہاں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ایس آئی آر عمل اور الیکشن سے متعلق دیگر امور پر معزز چیف جسٹس آف انڈیا کو ایک مشترکہ خط لکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔اسی  کے مطابق ۲۳؍ سیاسی جماعتوں اور ایک آزادرکن پارلیمان کے دستخط کے ساتھ  مشترکہ  خط  چیف جسٹس آف انڈیا کو بھیج دیا گیا ہے۔‘‘جے رام رمیش نے مزید لکھا  ہےکہ اپوزیشن کی جماعتیں یقینی طور پر یکجہتی، اتحاد اور مزاحمت پر قائم ہیں۔ مکتوب میں کمیشن کےمتعصبانہ طرز عمل اور انتخابی نتائج میںہیرا پھیری کو اجاگر کرنے کے ساتھ  ہی  انتخابی مشینری اورایس آئی آر کو اپوزیشن کے خلاف استعمال کئے جانے کا حوالہ دیاگیاہے۔

new delhi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK