ریلوے امتحان میں بدانتظامی ، بہار کے طلبہ سڑکوں پر ،شدید احتجاج

Updated: January 26, 2022, 9:38 AM IST | patna

گروپ ڈی امتحان کے ضابطوں میں اچانک تبدیلی سے طلبہ مشتعل ،مختلف اضلاع میں زبردست ہنگامہ اور توڑ پھوڑ 

Patna, angry students pelted stones at police, prompting police to take defensive action and then retaliate. (Photo: PTI)
پٹنہ میں ناراض طلبہ نے پولیس پر پتھرائو کردیا تھا جس کے پیش نظر پولیس کو دفاعی اقدام اور پھر جوابی کارروائی کرنی پڑی ۔ ( تصویر: پی ٹی آئی )

ریلوے بھرتی بورڈ (آرآربی) کے ذریعے گروپ ڈی کے امتحان کے ضابطوں میں اچانک کی گئی تبدیلیوں اور این ٹی پی سی کے امتحان کے نتائج میں دھاندلی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کررہے طلبہ نے منگل کوریاست بھر میں جم کر ہنگامہ کیا اور مختلف اضلاع میں ریلوے اسٹیشنوں پر توڑ پھوڑ کی ۔پٹنہ کے راجندر نگر ٹرمنس پر پیر کو ہنگامہ کے بعد منگل کو آر ہ، بکسر، نوادہ اور مظفر پور میں بھی طلبہ نے ریلوے اسٹیشنوں پر ہنگامہ کیا اورریلوے ٹریک پر بیٹھ کر ٹرینوں کی آمد ورفت کو متاثر کیا۔ احتجاجی طلبہ پر کئی مقامات پرپٹریاں تک اکھاڑنے کا الزام عائد ہو رہا ہے۔جس کی وجہ سے مسافروں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔بکسر میں برونی اسپیشل اور کلہڑیا میں شرم جیوی ایکسپریس کو روک دیا گیا۔ نوادہ اسٹیشن پر ریلوے انجن میں آگ لگادی گئی اورٹریک سے کلپ نکالنے کے علاوہ سگنل کو بھی نقصان پہنچایاگیا۔اس سے ٹرینوںکی آمدورفت مکمل طورپر بند ہوگئی تھی۔
 طلبہ ریلوے کے خلاف اس قدر برہم تھے کہ انہوں نے ریلوے اسٹیشنوں پر ہنگامہ کرنے کے ساتھ ساتھ پتھرائو بھی کیا جس میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔دراصل ۲۰۱۹ءمیں مختلف عہدوں کے لئے اسامی نکالی گئی تھی ۔جس میں ۱۲؍ویں سے لے کر گریجویٹ سطح کی تقریباً ۳۵؍ہزاراسامیاں تھیں۔جبکہ گروپ ڈی کے بھی مختلف عہدوں کے لئے تقریباًایک لاکھ اسامیاںتھیں ۔طلبا کا الزام ہے کہ ایک ہی امیدوار کو کئی کئی جگہ کامیاب دکھاکر اسامیاں پوری کرلی گئی ہیں جبکہ حقیقتاً کئی اسامیاں خالی رہ گئی ہیں۔اس کے خلاف پٹنہ میں بھی گزشتہ دودنوں سے مظاہرہ جاری تھا لیکن منگل کو طلبہ کا غصہ ابل پڑا۔  انہوں نے پٹنہ کے بھکھناپہاڑی پر  گھنٹوں تک سڑک کو جام رکھا ۔اطلاع ملتے ہی کئی تھانوںکی پولیس موقع پر پہنچی اور طلبہ کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن طلبا مشتعل ہوگئے۔ ناراض طلبہ نے پہلے تو پولیس پر پتھراؤ شروع کردیا اور پھر توڑ  پھوڑ  کرنے لگے جس کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج  کردیا۔ اس کے علاوہ آنسو گیس کے گولے بھی داغے۔  ہنگامہ کررہے کچھ طلباء کو حراست میں لیا گیا ہے۔  یہ ہنگامہ تقریباً ۹؍گھنٹے تک  جاری رہا ۔
 اس بارے میں ڈی ایم ڈاکٹر چندر شیکھر نے کہاکہ طلبہ نے تقریباً ۵؍ سے۶؍گھنٹے تک مسلسل احتجاج کیا ۔انہوں نے  الزام لگایا کہ ان طلبہ کو اکسانے میں کوچنگ کلاسیز  والوں کا ہاتھ ہے ۔انہوں نے ہی ان طلبا کی ہمت بڑھائی ہے لیکن اب اس کی جانچ کی جارہی ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK