Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲۶-۲۵ء میں مودی سرکار نے نجکاری سے ۴۵؍ ہزار کروڑ کمائے

Updated: August 11, 2026, 12:42 PM IST | Agency | New Delhi

۳۳؍ہزار ۸۳۷؍کروڑ کے ہدف سے زیادہ حاصل کرلیا، ۲۷-۲۰۲۶ء میں سرکاری کمپنیوں کے حصص اور اثاثے بیچ کر۸۰؍ ہزار کروڑ اکٹھا کرنے کا منصوبہ۔

Nirmala Sitharaman. Picture: INN
نرملا سیتارمن۔ تصویر:آئی این این

وزیراعظم مودی بھلے ہی اب تک کی سرکاروں  کو نکمی اور ناکارہ قرار دیتے ہوئے مگر ان کے ذریعہ قائم کی گئی کمپنیوں  کے حصص اور اثاثے بیچ کر ان کی حکومت نے مالی سال ۲۶-۲۰۲۵ء میں مجموعی طور پر۴۵؍ہزار ۳۰۶؍ کروڑ روپے حاصل کئے ہیں  جو نظر ثانی شدہ تخمینے سے بھی زیادہ ہے۔ وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری نے پیر کو اس کی تفصیلات لوک سبھا میں  پوچھے گئے ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔ حکومت نے مالی سال۲۶-۲۰۲۵ء کے نظرثانی شدہ تخمینے میں متفرق سرمایہ جاتی وصولیوں کے تحت۳۳؍ہزار ۸۳۷؍ کروڑ روپے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ اس میں سرکاری شعبے کے اداروں کے حصص کی فروخت اور سرکاری اثاثوں سے پیسہ حاصل کرنا شامل ہے۔ چودھری نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ ’’حکومت ہند نے مالی سال ۲۶-۲۰۲۵ءمیں مجموعی طور پر۴۵؍ ہزار ۳۰۶ء۰۵؍ کروڑ روپے حاصل کئے جس میں ۱۶؍ ہزار ۸۸۵ء۵۶؍ کروڑ روپے شیئر کی فروخت سے ور۲۸؍ہزار ۴۲۰ء۴۹؍ کروڑ روپے اثاثوں کی فروخت سے حاصل ہوئے ہیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے:امریکی عدالت نے گوتم اور ساگر اڈانی کے خلاف فوجداری الزامات خارج کر دیے

موجودہ مالی سال۲۷-۲۰۲۶ء کیلئے حکومت نے متفرق سرمایہ جاتی وصولیوں کے تحت۸۰؍ہزار کروڑ روپے حاصل کرنے کا بجٹ ہدف مقرر کیا ہے۔ مالی سال ۲۷-۲۰۲۶ء میں اب تک حکومت کو متفرق سرمایہ جاتی وصولیوں کے تحت ۵۹؍ہزار ۸۳؍ کروڑ روپے حاصل ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً۶؍ہزار ۳۶۷؍ کروڑ روپے سرکاری کمپنیوں  کی املاک اور اثاثوں کو فروخت کر کے حاصل کئے گئے ہیں ۔ حصص کی فروخت کے ذریعے۵۲؍ہزار ۷۱۶؍ کروڑ روپے حاصل ہوئے ہیں ۔ یہ رقم سینٹرل بینک آف انڈیا، کول انڈیا لمیٹڈ، لائف انشورنس کارپوریشن (ایل آئی سی)، این ایچ پی سی، این ایل سی انڈیا، جنرل انشورنس کارپوریشن آف انڈیا، انڈین ریلوے فائنانس کارپوریشن لمیٹڈ اور کوچین شپ یارڈ میں آفر فار سیل کے ذریعے حصص فروخت کرنے کے علاوہ انڈین میڈیسنز فارماسیوٹیکل کارپوریشن لمیٹڈ کی اسٹریٹجک ڈس انویسٹ منٹ سے حاصل ہوئی ہے۔ مالی سال ۲۶-۲۰۲۵ء میں حصص کی فروخت سے حکومت کو۱۶؍ہزار ۸۸۶؍ کروڑ روپے حاصل ہوئے تھے، جبکہ۲۵-۲۰۲۴ء میں یہ رقم۱۰؍ہزار ۱۶۳؍ کروڑ روپے تھی۔ اس سے قبل مالی سال۲۴-۲۰۲۳ء میں ۱۶؍ہزار ۵۰۷؍ کروڑ روپے، ۲۳-۲۰۲۲ء میں ۳۵؍ہزار ۲۹۴؍ کروڑ روپے اور ۲۲-۲۰۲۱ء میں ۱۳؍ہزار ۵۳۴؍ کروڑ روپے حصص کی فروخت سے حاصل ہوئے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے:ہندوستان نے مغربی ایشیا کے بحران کے درمیان ایل این جی کے ذرائع کو متنوع بنایا ہے

رواں  مالی سال ۲۷-۲۰۲۶ء کے نجکاری کے اہداف کے حوالے سے اسی ماہ مودی سرکار نے بڑی کامیابی اس وقت حاصل کی جب اس نے لائف انشورنس کارپوریشن (ایل آئی سی) کے۳۱؍ ہزار ۵۵۰؍ کر وڑ روپے کے حصص فروخت کرنے کا عمل مکمل کیا۔ یہ گزشتہ کئی برسوں میں حکومت کی جانب سے کسی سرکاری کمپنی سے شیئرز کی سب سے بڑی فروخت ہے۔ کول انڈیا اور انڈین ریلوے فائنانس کارپوریشن سمیت دیگر کمپنیوں کے شیئرز کی فروخت کو ملا کر اب تک ۵ء۵؍ ارب ڈالر سے زیادہ حاصل کئے جا چکے ہیں ۔ حکومت کی آئی ڈی بی آئی بینک کے شیئرز کی فروخت کے زیر التواء عمل کو بھی اسی سال مکمل کریگی۔ 

ایل آئی سی کے شیئرز کی فروخت

۲۷-۲۰۲۶ء کےنجکاری اہداف کے تحت گزشتہ ہفتے حکومت نے ایل آئی سی  کے ۶ء۵؍ فیصد شیئر کو آفر فار سیل (او ایف ایس) کے ذریعے فروخت کر کے  تقریباً۳۱؍ہزار ۵۵۲؍ کروڑ روپے حاصل کیے۔ حصص کی کم از کم قیمت۳۸۲؍روپے فی شیئر مقرر کی گئی تھی  جس کے باعث یہ ملک کا اب تک کا  سب سے بڑا’ او ایف ایس ‘بن گیا ہے۔۴؍ اور ۵؍  اگست کو منعقد ہونے والی دو روزہ او ایف ایس کی زبردست مانگ رہی۔  اس فروخت سے ایل آئی سی کو سیکوریٹیزاینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) کی اقل ترین عوامی شیئر ہولڈنگ کی شرط بھی پوری کرنے میں مدد ملی۔ ایل آئی سی میں عوامی حصہ داری بڑھ کر۱۰؍ فیصد ہوگئی ہے۔

ڈیویڈنڈ سے بھی آمدنی میں اضافہ 

حکومت  کی آمدنکی ڈیویڈنڈ سے بھی بڑھی ہے۔  ریزرو بینک آف انڈیا، سرکاری بینکوں اور مالیاتی اداروں سے حکومت کو ملنے والی ڈیویڈنڈ کی رقم یکم اپریل سے۵؍ اگست تک۳ء۲۴؍ لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے، جو رواں مالی سال کیلئے ابتدا میں مقرر  کئے گئے۳ء۱۶؍ لاکھ کروڑ روپے کے پورے سال کے ہدف سے بھی زیادہ ہے۔اس میں آر بی آئی نے ریکارڈ۲ء۸۷؍لاکھ کروڑ روپے کا حصہ دیا ہے۔ حکومت کو توقع ہے کہ رواں مالی سال غیر مالیاتی سرکاری کمپنیاں۷۵؍ہزار  کروڑ روپے کا ڈیویڈنڈ ادا کریں گی۔ اب تک حکومت کو اس مد میں۲؍ہزار ۵۵۰؍ کروڑ روپے حاصل ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK