سورت کےناصر نگر کے مکینوں سے ’غیر قانونی‘ انہدام کے بعد بحالی کیلئے رقم وصول کرنے پر عدالت کا سورت میونسپل کارپوریشن سے سوال۔
EPAPER
Updated: August 11, 2026, 1:28 PM IST | Agency | Ahemdabad
سورت کےناصر نگر کے مکینوں سے ’غیر قانونی‘ انہدام کے بعد بحالی کیلئے رقم وصول کرنے پر عدالت کا سورت میونسپل کارپوریشن سے سوال۔
گجرات ہائی کورٹ نے پیر کے روز سورت میونسپل کارپوریشن سے سوال کیا کہ ناصر نگر کے رہائشیوں سے بحالی کے لیے رقم وصول کرنے کی قانونی بنیاد کیا ہے، جبکہ مبینہ طور پر ان کے گھروں کو قانونی اختیار کے بغیر منہدم کیا گیا تھا۔ عدالت نے یہ بھی سوال کیا کہ جب انہدامی کارروائی کی ریاستی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ انکوائری جاری تھی تو سورت کے میونسپل کمشنر اور اعلیٰ پولیس افسران کو اپنے عہدوں پر برقرار رہنے کی اجازت کیوں دی گئی۔ جسٹس نکھل ایس کریل نے کہا کہ ریاستی حکومت اور میونسپل کارپوریشن کو وضاحت کرنی ہوگی کہ جن رہائشیوں کے گھروں کو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر منہدم کیا گیا، انہیں بحالی حاصل کرنے کے لیے اقتصادی طور پر کمزور طبقے(ای ڈبلیو ایس) کی ہاؤسنگ اسکیم کے تحت رقم ادا کرنے کا پابند کیوں کیا جائے۔ عدالت نے یہ بھی سوال کیا کہ اس معاملہ میں الزامات کا سامنا کرنے والے اعلیٰ افسران کو انکوائری مکمل ہونے تک ان کے عہدوں سے کیوں نہیں ہٹایا گیا۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ گجرات حکومت کی جانب سے۱۸؍ جولائی کو تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی کو یہ جانچنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ آیا انہدامی کارروائی گجرات میونسپل کارپوریشن ایکٹ کے تحت مقررہ قانونی طریق کار کے مطابق کی گئی تھی یا نہیں۔ کمیٹی کو میونسپل کمشنر، پولیس افسران اور اس کارروائی میں شامل نجی افراد کے کردار کی بھی تحقیقات کرنی ہیں۔ توقع ہے کہ کمیٹی اپنی انکوائری دو ماہ کے اندر مکمل کرے گی۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ جن اعلیٰ افسران کے کردار کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، انہیں اپنے عہدوں پر برقرار رکھنے سے انکوائری متاثر ہوسکتی ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب ان کے ماتحت کام کرنے والے جونیئر افسران کے بیانات بھی ریکارڈ کرنا ضروری ہوں۔
یہ بھی پڑھئے:گرین لینڈ کا ٹرمپ سے منسلک آئل کمپنی کو غیر مجاز ڈرلنگ پر انتباہ!
عدالت نے کہا کہ یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ’’انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے‘‘۔ عدالت نے قرار دیا کہ سورت میونسپل کارپوریشن اور بالآخر ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ انہدام سے بے گھر ہونے والے افراد کو رہائش فراہم کی جائے۔ یہ رہائش ان کے گھروں کو دوبارہ تعمیر کرکے یا سرکاری اسکیموں کے ذریعے متبادل مکانات فراہم کرکے دی جا سکتی ہے۔ عدالت نے اس تجویز کو بھی مسترد کر دیا کہ رہائشیوں کی بحالی کے اخراجات این جی اوز ادا کریں۔ عدالت نے واضح کیا کہ حکام اپنی ذمہ داری سول سوسائٹی پر منتقل نہیں کرسکتے۔ عدالت نے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا کہ انہدام کو بعد میں پیش کی گئی کسی وجہ کی بنیاد پر جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ خیال رہے کہ یہ مقدمہ۳۰؍ مئی کو سورت کے ناصر نگر میں ہونے والی انہدامی کارروائی سے متعلق ہے، جس میں مبینہ طور پر مناسب قانونی اجازت کے بغیر مکانات منہدم کیے جانے کے بعد۱۰۰؍ سے زائد خاندان بے گھر ہوگئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق یہ انہدامی کارروائی ایک ایسےحد بندی کے عمل کے دوران کی گئی تھی جو ایک نجی ڈیولپر کی درخواست پر شروع کیا گیا تھا۔ اس سے قبل جولائی میں گجرات ہائی کورٹ نے سورت میونسپل کمشنر کے اپنے حلف نامہ کا حوالہ دیتے ہوئے مشاہدہ کیا تھا کہ یہ انہدامی کارروائی ’مکمل طور پر غیر قانونی‘ تھی اور حکام کو بے گھر ہونے والے خاندانوں کی بحالی کے اقدامات کرنے کی ہدایت دی تھی۔