مودی سرکار نے کسانوں کےایک اور مطالبہ کےآگے گھٹنے ٹیکے، پرالی جلانا اب جرم نہیں

Updated: November 28, 2021, 8:04 AM IST | new Delhi

وزیر زراعت نریندر تومر نے بیان جاری کیا ، کہا کہ’’ پرالی جلانے کو جرم کے زمرے سے باہر کردیا گیا ہے،اب کسان واپس چلے جائیں‘‘

Union Agriculture Minister Narendra Singh Tomarne has appealed to the farmers to return
مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومرنے کسانوں سے واپس جانے کی اپیل کی ہے

 مرکزکی مودی حکومت نے کسانوں کے ایک اور مطالبہ کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔ مرکزی وزیر زراعت نریندرسنگھ تومر نے تینوں زرعی قوانین کی واپسی کا بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے قبل کہا کہ حکومت نے کسانوں کے ذریعے پرالی جلانے کے عمل کو جرم کے زمرے سے باہر کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کا یہ مطالبہ بھی قبول کر لیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر تومر نے کہا کہ کسانوں کے تقریباً تمام مطالبات قبول کر لئے گئے ہیں۔ ایسے حالات میں انہیں اب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جانا چاہئے۔
 وزیر زراعت  تومر نے کہا جب تینوں زرعی قوانین واپس لینے کا اعلان وزیر اعظم نریندر مودی خود کر چکے ہیں اور پارلیمنٹ میں بل لانے کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے تو پھر کسانوں کی تحریک کا اب کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ اب کسانوں کو بھی فراخدلی کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور احتجاج ختم کر دینا چاہئے۔ کسان تحریک کے دوران مظاہرین کے خلاف درج مقدمات کو واپس لینے کے تعلق سے نریندر تومر نے کہا کہ یہ ریاستوں کا موضوع ہے، لہٰذا متعلقہ ریاستی حکومتیں ان معاملات پر فیصلہ کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم مودی نے کسانوں کو کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) دینے کے لئے کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے، ان کی رپورٹ آتے ہی اس پر بھی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔
 نریندر تومر  نے کسانوں کے معاوضہ کے مطالبہ پر بھی مودی حکومت کا پلہ جھاڑتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ بھی ریاستوں کا ہے کہ جہاں جہاں کسانوں کی اموات ہوئی ہیں وہاں کی ریاستی حکومتیں انہیں معاوضہ دینے کا فیصلہ کرسکتی ہیں۔ اسے مرکز کے سر ڈالنے کی کوشش نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ حکومت ایم ایس پی سے لے کر کسانوں کے دیگر تمام مطالبات کو تسلیم کررہے ہیں اور انہیں پور اکرنے کی سمت میں قدم اٹھارہی  ہے اس لئے کسانوں کو بھی اب  اپنی جانب سے بڑا دل کرتے ہوئے واپس چلے جانا چاہئے۔
 غور طلب ہے کہ نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) نے دسمبر۲۰۱۵ء میں فصلوں کی باقیات (پرالی)  جلانے پر پابندی عائد کر دی تھی اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کسانوں پر جرمانے عائد کرنے کا التزام کیا تھا۔ این جی ٹی کے حکم کے مطابق۲؍ایکڑ اراضی پر پرالی جانے پر۲۵۰۰؍ روپے،۵؍ایکڑ تک کی اراضی پر پرالی جلانے پر ۵؍ہزار روپے اوراس سے زیادہ اراضی پر پرالی جلانے پر۱۵؍ ہزار روپے تک کا جرمانہ عائد کیا جاتا تھا  لیکن اب مرکز کی جانب سے اسے جرم کے زمرے سے باہر کردیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK