ممبئی میں آرایس ایس کی صدسالہ تقریب میں موہن بھاگو ت نے مکالمے کی ضرورت پر زوردیا، یکساں سول کوڈ کیلئے سب کو اعتماد میں لینے کی بات کہی۔
EPAPER
Updated: February 09, 2026, 10:35 AM IST | Mumbai
ممبئی میں آرایس ایس کی صدسالہ تقریب میں موہن بھاگو ت نے مکالمے کی ضرورت پر زوردیا، یکساں سول کوڈ کیلئے سب کو اعتماد میں لینے کی بات کہی۔
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے اتوار کو ممبئی میں بھگوا تنظیم کی صد سالہ تقریب میں ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ’’یکساں سول کوڈ سب کو اعتماد میں لے کر اس طرح بنایا جانا چاہئے کہ اس سے سماج میں تقسیم پیدا نہ ہو۔ ‘‘
وہ آر ایس ایس کے صد سالہ پروگرام سے خطاب کررہے تھے جس میں سلمان خان، وکی کوشل، اننیا پانڈے، کرن جوہر، مدھر بھنڈارکر، راکیش تورانی اور موسیقار پنڈت ہردی ناتھ منگیشکر بھی موجود تھے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اتراکھنڈ میں نافذ کئے گئے یکساں سول کوڈ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اتراکھنڈ میں ۳؍لاکھ تجاویز دی گئیں اور تمام فریقین سے بات چیت کے بعد یہ قانون منظور ہوا۔ ‘‘ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اکثریت یا اقلیت جیسا کوئی تصور نہیں، ’’ہم سب ایک ہی سماج ہیں۔ ‘‘انہوں نے مسلم اور عیسائی برادریوں کے ساتھ اعتماد، دوستی اور مکالمے کی ضرورت پر زور دیا تاہم دونوں پر تنقید بھی کی۔ بھاگوت نے کہا کہ ’’اسلام کو امن کا مذہب کہا جاتا ہے، لیکن امن نظر نہیں آتا۔ اگر مذہب میں روحانیت نہ ہو تو وہ غالب اور جارحیت سے پر نظر آتا ہے۔ آج اسلام اور عیسائیت میں جو کچھ نظر آتا ہے وہ حضرت عیسیٰ اور حضرت محمدؐ کی تعلیمات کے مطابق نہیں۔ ہمیں حقیقی اسلام اور حقیقی عیسائیت کے عملی نمونے کی ضرورت ہے۔ ‘‘ اس سوال پر کہ آر ایس ایس کے ’’اچھے دن‘‘ کیا بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد آئے، بھاگوت نے کہاکہ ’’ہمارے لئے اچھے دن بی جے پی کی وجہ سے نہیں آئے... بلکہ معاملہ الٹا ہے۔ ہم رام مندر کی تعمیر کیلئے ہمیشہ پرعزم رہے۔ جنہوں نے ہمارا ساتھ دیا وہی فائدہ اٹھانے والے ہیں۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کیلئے ’’اچھے دن‘‘ رضا کاروں کی محنت اور نظریاتی وابستگی کی وجہ سے آئے۔ آر ایس ایس کے پروگرام میں سلمان خان کی شرکت پر چند حلقوں میں چہ میگوئیاں ہورہی ہیں۔ شیوسینا (اُدھو) کے ترجمان سنجے راؤت نے سوال کیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے پروگرام میں شریک ہوئے یا پھران پر کسی طرح کا کوئی دباؤ تھا۔