• Mon, 09 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امتحانی مرکز دور دینے سے طلبہ کو پریشانی کا اندیشہ

Updated: February 09, 2026, 12:10 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

متعدد طالبات نے اپنے کالج کے اطراف کے ادارے کو چھوڑ کر دور دراز سینٹر دینے کی شکایت کی۔ بورڈ نے رد و بدل کرنے سے معذرت کی۔

HSC students outside an examination center in Sion. Photo: INN
سائن کے ایک امتحانی مرکز کے باہرایچ ایس سی کی طالبات۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری ایجوکیشن(ایم ایس بی ایس ایچ ایس ای)کی جانب سے ۱۰؍فروری ۲۰۲۶ء سے بارہویں جماعت(ایچ ایس سی) اور ۲۰؍  فروری سے دسویں جماعت(ایس ایس سی) کے تحریری بورڈ امتحانات شروع ہونے والے ہیں۔ ریاستی ایجوکیشن بورڈ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ امتحان بورڈ اور ریاستی ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے یہ خاص خیال رکھا جاتا ہےکہ امتحان دینے میں طلبہ کو کسی طرح کی پریشانی نہ ہو۔ اسی دعوے کے درمیان انقلاب کو متعدد ایسی شکایتیں موصول ہوئی ہیں جن میں طلبہ کو ان کا امتحان سینٹر ان کے کالج اور رہائش گاہ سے کافی دور دیاگیا ہے۔ امتحان سینٹر دور ہونے سے انہیں آمد و رفت میں شدید دقتوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ اگر ٹریفک جام ملتا ہے تو انہیں تاخیر بھی ہوسکتی ہے۔ کالج سے دور سینٹر ملنے کی شکایت میرا روڈ میں رہنے والی بارہویں (سائنس)کی ایک طالبہ نے کی۔ انہوں نے بتایاکہ وہ شیوار گارڈن کے پاس واقع ایس وی پی وی اسکول و جونیئر کالج میں زیر تعلیم ہیں ۔ یہ کالج ان کے گھر کے قریب واقع ہے لیکن ان کا ایچ ایس سی کا امتحان سینٹر بی ایم ایس ہائی اسکول اینڈ جونیئرکالج دیا گیا ہے یہ کافی دور ہے اورگھر سے آٹو رکشا سے اس امتحان سینٹر پر جانے کا کرایہ ۸۳؍ روپے ہوتا ہے۔ 
انہوں نے مزید بتایاکہ ’’ان کی کالج کی کئی طالبات کا سینٹر وہاں دیاگیا ہے۔ حالانکہ متعدد طالبات کا بنیگر اسکول اینڈ جونیئر کالج اور راول جونیئر کالج میں بھی سینٹر دیاگیا ہے جو ان کی کالج سے قریب ہے۔ ‘‘ متاثرہ طالبہ نے بورڈ سے درخواست کی ہے کہ امتحان کا مرکز طلبہ کی کالج کے قریبی کالجوں میں ہی دیاجائے کیونکہ طلبہ پہلے ہی امتحان کے دباؤ میں ہوتے ہیں اور ایسے میں اگر ان کا مرکز دور ہو تو ا ن کی بے چینی مزید بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح کی شکایت ممبرا میں رہنے والی ایک طالبہ نے بھی کی۔ انہوں نے بتایاکہ وہ ممبرا ریلوے اسٹیشن کے قریب رہتی ہے اورامرت نگر میں واقع عبداللہ پٹیل ہائی اسکول و جونیئر کالج برائے طالبات میں بارہویں (کامرس) میں زیر تعلیم ہے۔ امسال ان کے کالج کی سبھی طالبات کااگزام سینٹر سمباسس اسکول میں دیا گیا جو کہ بائی پاس ٹول ناکہ کے پاس ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کامیڈین کنال کامرا آئی ٹی ایکٹ میں ترمیم اور سہیوگ پورٹل کیخلاف عدالت سے رجوع

انہوں نےمزید کہا کہ ’’ہماری کالج کےآس پاس متعدد جونیئر کالج ہیں، ان میں سینٹ میری کالج(کھڑی مشین روڈ)، کیون میری اسکول، اسد اللہ انگلش اسکول اینڈ جونیئر کالج(نزدکوسہ قبرستان )، شعیب کالج اور سمیہ اسکول وغیرہ شامل ہیں ، ان ہائی اسکول اور جونیئر کالجوں کو چھوڑ کر کوسہ سے بھی آگے بائی پاس روڈ کے ٹول ناکہ کے پاس امتحان سینٹر دیا گیا ہے۔ امتحان کے اوقات میں ممبرا کوسہ میں کافی ٹریفک ہوتا ہے اس لئے اگر ٹریفک کی وجہ سے کوئی طالب علم یا طالبہ کو امتحان سینٹر پہنچنے میں تاخیر ہو جائے تو مسئلہ ہو سکتا ہے۔ ‘‘طالبہ نے کہاکہ چونکہ مَیں ممبرا ریلوے اسٹیشن کے قریب رہتی ہوں تو مجھے پورا ممبرا کوسہ پار کر کے امتحان سینٹر جانا پڑے گا۔ دیگر طالبات نے بھی اسی طرح کی تشویش کا اظہار کیا۔ 
اس تعلق سے جونیئر کالج انتظامیہ سے استفسار کرنے پر انہوں نے بتایاکہ ہمارے کالج کی تقریباً ۲۵۰؍ طالبات کا سینٹر سمباسس میں دیا گیا ہے، حالانکہ گزشتہ برس تک آس پاس کی کالجوں میں سینٹر دیاجاتا تھا۔ دور کے کالج میں سینٹر دینے کی ہم نے امتحان بورڈ کے افسران سے شکایت کی تو انہوں نے جواز پیش کیا کہ اب سب تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اسلئے ا س امتحان میں کسی طرح کا رد و بدل ممکن نہیں۔ البتہ انہوں نے اگلے امتحان کیلئے ہماری درخواست پر غور کرنے کا یقین دلایا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہےکہ جب بورڈ امتحان کے مراکز کی تقسیم کی جاتی ہے تو کیا افسران یہ چیک نہیں کرتے کہ جس کالج کے طلبہ کو سینٹر دیا جارہا ہےاس آس پاس کا ہائی اسکول یا جونیئرکالج ہے یا نہیں اور اگر قریب کالج موجود ہے تو طلبہ کو دور کے کالج میں امتحان سینٹر نہ دیاجائے۔ 
امتحانی مراکز کے قریب زیراکس کی دکان بند کرنے کی ہدایت
ایچ ایس سی اور ایس ایس سی بورڈ امتحانات کیلئے ’’کاپی مکت ابھیان‘‘(نقل سے پاک امتحان مہم)‘‘کے حصے کے طورپر، امتحانی مراکز کے ۵۰۰؍ میٹر کے دائرے میں فوٹو کاپی (زیروکس) اور پرنٹنگ کی دکانیں /پریس کو بند رکھنے کا حکم ریاستی وزیر برائے اسکولی تعلیم دادا بھوسے نے دیا ہے۔ ایجوکیشن وزیر کے مطابق حساس امتحانی مراکز کی نگرانی ڈرون اور ویڈیو سرویلنس کے ذریعے کی جائے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK