• Mon, 09 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان: بازار کمیٹی کے گودام میں این آئی ایف ٹی کے امتحانی مرکز سے طلبہ برہم

Updated: February 09, 2026, 12:15 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan

اتوار کو کلیان کرشی اتپن بازار سمیتی( اے پی ایم سی) ایک گودام میں منعقد کئے گئے داخلہ امتحان کے دوران ہزاروں طلبہ اور ان کے والدین کو شدید مشکلات اور اذیت ناک حالات کا سامنا کرنا پڑا۔

Students and parents at the examination center set up in a grain warehouse at APMC. Photo: INN
اے پی ایم سی میں اناج کے ایک گودام میں بنائے گئے امتحانی مرکز پر طلبہ اور والدین۔ تصویر: آئی این این

ملک کے معروف تعلیمی ادارے ’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی (این آئی ایف ٹی)‘ نے کلیان میں بدانتظامی کی ایسی مثال قائم کی ہے جس نے پورے تعلیمی نظام کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ اتوار کو کلیان کرشی اتپن بازار سمیتی( اے پی ایم سی) ایک گودام میں منعقد کئے گئے داخلہ امتحان کے دوران ہزاروں طلبہ اور ان کے والدین کو شدید مشکلات اور اذیت ناک حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ انتظامیہ کی اس لاپروائی کے خلاف عوامی سطح پر سخت ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ 
تفصیلات کے مطابق کے ممبئی اور مضافاتی علاقے وسئی، ویرار، دہانو اور بوریولی سے سیکڑوں طلبہ علی الصباح اے پی ایم سی کے امتحانی مرکز پر پہنچے ۔ تاہم وہاں کے حالات دیکھ کر سب حیران رہ گئے۔ امتحانی مرکز کے بالکل قریب مذبح اور کوڑا کرکٹ کا انبار ہونے کی وجہ سے فضا میں شدید بدبو اور تعفن پھیلا ہوا تھا جس کے باعث کئی طلبہ کی طبیعت ناساز ہوگئی اور بعض کو قے کی شکایت بھی ہوئی۔ حد تو یہ ہوئی کہ ہر طالب علم سے۲، ۲؍ہزار روپے امتحانی فیس وصول کرنے کے باوجود وہاں پینے کے صاف پانی اور مناسب بیت الخلاء جیسی بنیادی سہولیات تک موجود نہیں تھیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ریتو تاؤڑے ممبئی میں بی جے پی کی پہلی میئر

امتحان کیلئے آنے والے والدین نے سوال اٹھایا کہ اتوار کے دن جب تمام بڑے اسکول اور کالج بند ہوتے ہیں اور وہاں تمام جدید سہولیات میسر ہوتی ہیں تو آخر انتظامیہ نے طلبہ کو اس بدبودار گودام میں لانے کا فیصلہ کیوں کیا؟ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کے روشن مستقبل کیلئے قرض لے کر فیس بھرتے ہیں لیکن حکومت اور متعلقہ ادارے ان کے بچوں کو تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے بجائے گندگی کے ڈھیروں پر بٹھا رہے ہیں۔ سخت دھوپ اور گندگی کے درمیان زمین پر بیٹھے والدین نے انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ کیا حکومت چاہتی ہے کہ ہمارے بچے گندگی میں رہ کر ہی اپنی تعلیم کا آغاز کریں ؟ سرپرستوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ان بچوں کی ذہنی اور جسمانی اذیت کا نوٹس لیا جائے اور اس غیر انسانی حرکت کے پیچھے موجود افراد کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK