سنی دعوت اسلامی کے ممبرا متل گراؤنڈ پر اتوار کو منعقدہ سنی اجتماع میں علماء اور مبلغین نے کئی اہم عنوانات کا احاطہ کرتے ہوئے حاضرین کو پیغامات دیئے۔
EPAPER
Updated: February 09, 2026, 12:13 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbra
سنی دعوت اسلامی کے ممبرا متل گراؤنڈ پر اتوار کو منعقدہ سنی اجتماع میں علماء اور مبلغین نے کئی اہم عنوانات کا احاطہ کرتے ہوئے حاضرین کو پیغامات دیئے۔
سنی دعوت اسلامی کے ممبرا متل گراؤنڈ پر اتوار کو منعقدہ سنی اجتماع میں علماء اور مبلغین نے کئی اہم عنوانات کا احاطہ کرتے ہوئے حاضرین کو پیغامات دیئے۔ امیر سنی دعوت اسلامی مولانا محمد شاکر علی نوری نے اپنے خطاب میں خاص طور پر نوجوانوں کو نصیحت کی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ اور اس کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں۔ کسی قوم کی اصل طاقت کا اندازہ اس کے نوجوانوں کی تعلیم، فکر اور کردار سے لگایا جاتا ہے۔ جس قوم کے نوجوان علم و اخلاق کے زیور سے آراستہ ہوں، وہی قوم تاریخ کے افق پر سربلند نظر آتی ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ آج ہمارے نوجوان تعلیمی کمزوری اور اخلاقی پستی کا شکار ہیں۔ حالانکہ تاریخِ اسلام اس حقیقت کی گواہ ہے کہ نوجوانی کے دور ہی میں عظیم کارنامے انجام دیئے گئے۔ رکن شوری سنی دعوت اسلامی الحاج محمد خالد بانیگر نے ماہ رمضان کا استقبال کیسے کریں ؟ موضوع پر خطاب کیا اور بتایا کہ رمضان المبارک کی مقدس ساعات ہمیں کیسے گزارنی ہیں۔ مبلغ سنی دعوت اسلامی مولانا محمد موسی نے ماہ شعبان کے فضائل سے حاضرین کو آگاہ کرایا۔
یہ بھی پڑھئے: آج ممبرا میں متل گراؤنڈ پرسنّی اجتماع، علماء اہم عناوین پرخطاب کریں گے
مفتی محمد زبیر مصباحی( شیخ الحدیث جامعہ غوثیہ نجم العلوم، ممبئی) نے شرعی مسائل کے جوابات دئیے اور بطور خاص رمضان المبارک سے متعلق رہنمائی کی۔ اجتماع میں ظہر کے بعد سنی دعوت اسلامی کی ٹیم’ اُمید ‘کے زیرِ اہتمام منعقدہ خصوصی نشست میں طلبہ اور نوجوانوں کی تعلیم اور کریئر سے متعلق رہنمائی کی گئی۔ مولانا سید امین القادری ( مالیگاؤں ) نے منشیات کے تباہ کن اثرات پر روشنی ڈالی۔ مولانا نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ جوانی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، اس کی قدر اور حفاظت لازم ہے، کیونکہ قیامت کے دن جوانی کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ مولانا نے نشہ آور اشیاء کو فرد اور معاشرے کی تباہی کا سبب قرار دیتے ہوئے نوجوانوں کو ہر قسم کے نشے سے مکمل اجتناب کرنے کی سخت تاکید کی۔
مولانا سید معین الدین اشرف عرف معین میاں نے دعائیہ اور ناصحانہ کلمات سے اجتماع کا آغاز کیا اور حاضرین کو دعوت عمل دی۔ رات میں ۱۰؍بجے رقت آمیز دعا پر اجتماع ختم ہوا۔