• Sat, 31 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریپبلکن کے وسط مدتی انتخاب میں پیچھے رہنے پر ٹرمپ کا ایران پرحملہ زیرغور: رپورٹ

Updated: October 31, 2026, 7:03 PM IST | Washington

ایک رپورٹ کے مطابق اگر ریپبلکن وسط مدتی انتخابات میں پیچھے رہ گئے تو ٹرمپ ایران پر بڑے حملے پر غور کر سکتے ہیں، جبکہ قطری ثالث امریکہ-ایران مذاکرات کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،تاہم امریکہ انتخابات سے قبل کومعاہدے کا بہترین موقع قرار دے رہا ہے۔

US President Donald Trump. Photo: X
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

جمعہ کو ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اگلے ہفتے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن کی خراب کارکردگی کی صورت میں ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی منظوری دینے کیلئے رضامند  ہو سکتے ہیں۔ایک امریکی اہلکار نے Axios کو بتایا، ’’اگر وہ شرمندہ یا بے اختیار محسوس کریں گے تو وہ کچھ جرات مندانہ کریں گے،‘‘انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیغام ایرانی حکام تک پہنچایا جا رہا ہے، جنہیں بتایا جا رہا ہے کہ ان کے پاس معاہدے کا بہترین موقع ابھی ہے۔بعد ازاںوہائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے اس خیال کو مسترد کرتے ہوئے آؤٹ لیٹ کو بتایا کہ انتخابی نتائج ایران سے متعلق ٹرمپ کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھئے: ’میں اب اسرائیلی ہونے پر فخر محسوس نہیں کرتی‘: اسرائیلی اداکارہ خیلی گولڈن برگ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قطری ثالثوں نے جمعہ کو تہران میں۱۲؍ گھنٹے سے زیادہ وقت گزارا، واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہ راست مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے وہائٹ ہاؤس کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں رہے۔ ایک سفارتی ذریعے نے اسے ’’مثبت پیش رفت‘‘ قرار دیا، ساتھ ہی سنیچر  کو دوحہ میں بات چیت جاری رہنے والی ہے۔علاوہ ازیں ایک امریکی اہلکار کے مطابق، مسابقتی مطالبات پر بات چیت تعطل کا شکار ہے۔ امریکہمذاکرات میں واپسی کے حصے کے طور پر جوہری مراعات چاہتا ہے، جبکہ تہران کا اصرار ہے کہ امریکہ پہلے اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے، منجمد فنڈز جاری کرے اور تیل کی فروخت کی اجازت دے۔جبکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوحہ ایران پر زور دے رہا ہے کہ وہ محدود پابندیوں میں نرمی کے بدلے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو اپنی بمباری شدہ جوہری تنصیبات میں داخلے کی اجازت دے۔
ٹرمپ کے حلقے میں تقسیم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کسی بھی معاہدے پر شکوک کا شکار ہیں اور ایران کی قیادت کو مزید کمزور کرنے کے حامی ہیں۔ دوسری جانب نائب صدر جے ڈی وینس اور ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کی۲؍ ریلیاں منسوخ ، سروے میں ڈیموکریٹس کو برتری

یہ رپورٹ آبنائے ہرمز پر ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سامنے آئی ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اسٹریٹجک آبی گزرگاہ ہے۔واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے۲۸؍ فروری کو ایران کے خلاف حملے کیے، جس کے نتیجے میں خطے میں ایران کی جانب سے جوابی کارروائی شروع ہوئی۔جون میں واشنگٹن اور تہران کی جانب سے دستخط شدہ یادداشت اور اس کے بعد کی سفارتی کوششوں کے باوجود، آبنائے میں سیکیورٹی انتظامات اور آمد ورفت پر کشیدگی برقرار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK