Inquilab Logo Happiest Places to Work

منی لانڈرنگ الزام:’ نیوز کلک‘ کو راحت،ای ڈی کی کارروائی کالعدم قرار دی گئی ، تحقیقات منسوخی کا حکم

Updated: June 11, 2026, 11:09 PM IST | New Delhi

دہلی ہائی کورٹ نے کہا، یہ آزاد اور غیر جانبدار صحافت پر اختیارات کا من مانا استعمال تھا،معاملے میں تفتیشی ایجنسیاں ٹھوس شواہد کے بغیر وسیع پیمانے پر تحقیقات کرتی رہیں

Prabir Prakasith (blue T-shirt) leaves the court after the hearing.
پربیر پرکائستھ(نیلی ٹی شرٹ) عدالت میں سماعت کے بعد باہر

غیرملکی فنڈنگ معاملے میںخبررساں پورٹل’نیوز کلک‘ اور اسکے بانی اورمدیر پرابیر پرکائستھ کو دہلی ہائیکورٹ سے راحت ملی ہے۔ ہائی کورٹ نے ’نیوزکلک‘ اورکائستھ کے خلاف ای ڈی کی کارروائی کالعدم قرار دی ہے اور ان کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے میں درج ایف آئی آر اور ای ڈی کی منی لانڈرنگ تحقیقات کو منسوخ کردیا ہے۔عدالت نے اس معاملے پر کہا کہ’’ یہ آزاد اور غیر جانبدار صحافت پر اختیارات کا من مانا استعمال تھا۔‘‘
 رپورٹ کے مطابق جسٹس نِینا بنسل کرشنا نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ کارروائی آزاد اور غیر جانبدار صحافت پر اختیارات کا من مانا حملہ اور ان کا غلط استعمال تھی۔ انہوں نے کہا کہ تفتیشی ایجنسیاں ٹھوس شواہد کے بغیر وسیع پیمانے پر تحقیقات کرتی رہیں۔عدالت نے کہا کہ ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات کو درست مان بھی لیا جائے تو بھی دھوکہ دہی اور اعتماد شکنی کا فوجداری مقدمہ نہیں بنتا۔ اسلئے ایف آئی آر کو برقرار رکھنا قانون کا سنگین غلط استعمال تھا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ دھوکہ دہی کے مقدمے میں کوئی ایسا فریق ہونا ضروری ہے جسے دھوکہ دیا گیا ہو، لیکن اس معاملے میں کسی کی جانب سے کوئی شکایت ہی درج نہیں کرائی گئی تھی۔
معاملہ کیا ہے؟
 دہلی پولیس نے اگست۲۰۲۰ء میں نیوز کلک کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔ الزام تھا کہ ویب سائٹ کو’ورلڈ وائیڈ میڈیا ہولڈنگز ایل ایل سی‘ نامی امریکی کمپنی سے۹ء۵۹؍کروڑ روپے کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل ہوئی۔ تحقیقات میں کہا گیا کہ جس شیئر کی اصل قیمت۱۰؍روپے تھی، اسے۱۱؍ہزار۵۱۰؍ روپے فی شیئر کے پریمیم پر خریدا گیا، جبکہ اس وقت نیوز کلک منافع بھی نہیں کما رہا تھا۔ حکام کا دعویٰ تھا کہ ایسا ہندوستانی میڈیا اداروں میں۲۶؍ فیصد ایف ڈی آئی کی حد سے بچنے کے لیے کیا گیا۔
 اس کے بعد ای ڈی نے نیوز کلک کے دفاتر، اس کے ڈائریکٹروں اور شیئر ہولڈرز کے مقامات پر چھاپے مارے۔ یہ کارروائی پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کی گئی۔ تلاشی کے دوران غیر ملکی کرنسی، دستاویزات اور ڈیجیٹل شواہد ضبط کیے گئے۔ ای ڈی کی تحقیقات میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ نیوز کلک کو ۳؍ سال کے دوران۳۸ء۰۶؍ کروڑ روپے کی غیر ملکی فنڈنگ ملی۔ اس میں ۹ء۵۹؍کروڑ روپے ایف ڈی آئی کے ذریعے اور ۲۸ء۴۶؍کروڑ روپے خدمات کی برآمدات کے عوض حاصل ہوئے تھے۔
۲۰۲۳ء میں نیا تنازع شروع ہوا
 ۷؍اگست۲۰۲۳ءکو نشی کانت دوبے نے لوک سبھا میں ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کئی صحافیوں پر چینی پروپیگنڈا پھیلانے کا الزام لگایا تھا۔بعد ازاں مرکزی وزیرانوراگ ٹھاکرنے بھی کہا کہ امریکی کاروباری شخصیت نیویلے رائے سنگھم کا تعلق چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ایک پروپیگنڈا وِنگ سے ہے۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ نیوز کلک ایک عالمی سطح کی پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے۔ اس کے بعد۱۷؍ اگست۲۰۲۳ء کو نیوز کلک کے خلاف یو اے پی اے اور تعزیراتِ ہند کی دفعات۱۵۳(اے)اور۱۲۰؍بی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
صحافیوں سے پوچھ گچھ اور گرفتاریاں
 ۳؍اکتوبر۲۰۲۴ء کو اسی مقدمے کی بنیاد پر پربیر پورکائستھ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ دہلی پولیس نے اس معاملے میں مجموعی طور پر۴۶؍افراد سے پوچھ گچھ کی، جن میں۳۷؍ مرد اور۹؍ خواتین شامل تھیں۔نیوز کلک اور اس سے وابستہ صحافیوں کے ۳۱؍ مقامات پر دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے تلاشی کارروائیاں بھی انجام دی تھیں۔ نیوز کلک ایک آن لائن نیوز پورٹل ہے، جو ملک اور دنیا بھر کی خبریں شائع کرتا ہے۔ اسے پی پی کے نیوز کلک اسٹوڈیو پرائیویٹ لمیٹیڈنامی کمپنی چلاتی ہے۔ پربیر پورکایستھ نے۲۰۰۹ء میں اس کی بنیاد رکھی تھی اور وہی اس کے ایڈیٹر اِن چیف بھی ہیں۔ نیوز کلک کے خلاف ای ڈی سمیت پانچ مختلف ایجنسیاں تحقیقات کر رہی تھیں۔ سب سے پہلے دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے ایف آئی آر درج کی تھی۔ اس سے قبل دہلی پولیس کی اکنامک آفینس ونگ اور محکمہ انکم ٹیکس بھی اس معاملے سے متعلق الگ الگ تحقیقات کر رہے تھے۔ بعد ازاں سی بی آئی نے بھی مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی تھیں۔

new delhi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK