Inquilab Logo Happiest Places to Work

کشمیر: چنار بک فیسٹیول میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی جیل ڈائری کی غیرمعمولی مانگ

Updated: July 27, 2026, 8:36 PM IST | Srinagar

سری نگر میں ۲۶؍ جولائی کو ختم ہونے والے چنار بک فیسٹیول میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے منسوب جیل ڈائری غیرمعمولی توجہ کا مرکز رہی۔ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں کتاب کے اسٹال پر خریداروں کی بھیڑ رہی جبکہ منتظمین اور ناشرین کا کہنا ہے کہ چند ہی گھنٹوں میں بیشتر نسخے فروخت ہوئے۔ ان کے مطابق قارئین ایران کی سیاسی، مذہبی اور فکری قیادت کو بہتر طور پر سمجھنے میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔

A view from the Chinar Book Festival. Photo: X
چنار بک فیسٹیول کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس

سری نگر میں ۲۶؍ جولائی کو ختم ہونے والے سالانہ چنار بک فیسٹیول میں اس مرتبہ سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والی کتابوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے منسوب جیل ڈائری شامل ہے، جس کے لیے قارئین کی غیرمعمولی دلچسپی دیکھی گئی۔ دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ اور خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال نے کشمیری قارئین میں ایران کی مذہبی و سیاسی قیادت کے بارے میں جاننے کا رجحان نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔ کتاب فروخت کرنے والے ناشرین اور اسٹال منتظمین کا کہنا ہے کہ فیسٹیول کے آغاز کے چند ہی گھنٹوں میں کتاب کے بیشتر نسخے فروخت ہو گئے اور مسلسل نئے آرڈرز موصول ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق خریدار صرف ایران کی موجودہ سیاسی صورتحال نہیں بلکہ آیت اللہ خامنہ ای کی فکری زندگی، جدوجہد اور نظریاتی پس منظر کو بھی سمجھنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی پولیس کا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو طلبہ احتجاج کے دوران پی ایم مودی سے متعلق پوسٹس ہٹانے کا حکم

فیسٹیول میں موجود ایک کتاب فروش نے کہا کہ ’’لوگ صرف خبریں نہیں پڑھنا چاہتے بلکہ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ ایران کی قیادت کن نظریات اور تجربات سے گزری ہے۔‘‘ ایک اور ناشر کے مطابق ’’ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ کے بعد اس موضوع پر کتابوں کی مانگ میں واضح اضافہ ہوا ہے، اور خامنہ ای کی جیل ڈائری سب سے زیادہ طلب کی جانے والی کتابوں میں شامل ہے۔‘‘ کتاب خریدنے آئے متعدد قارئین نے بھی اپنی دلچسپی کی وجہ بیان کی۔ ایک نوجوان طالب علم نے کہا کہ ’’ہم روزانہ ایران سے متعلق خبریں سنتے ہیں، اس لیے ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہاں کی قیادت کی فکری تشکیل کیسے ہوئی۔‘‘ ایک اور قاری کا کہنا تھا: ’’صرف سیاسی بیانات کافی نہیں ہوتے، کتابیں کسی شخصیت کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے کا موقع دیتی ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: کیرالا: مَیں ہوتا تو طلبہ پر گولی چلانے کا حکم دیتا: آر ایس ایس لیڈر کا متنازع بیان

منتظمین کے مطابق اس سال کشمیر بک فیسٹیول میں مشرقِ وسطیٰ، اسلامی تاریخ، عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات سے متعلق کتابوں کی مانگ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ عالمی واقعات نے نوجوان قارئین میں سنجیدہ مطالعے کا رجحان بڑھایا ہے اور وہ مختلف ممالک کی سیاسی و مذہبی شخصیات کے بارے میں مستند مواد تلاش کر رہے ہیں۔ ادبی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سیاسی بحرانوں کے دوران متعلقہ شخصیات پر لکھی گئی سوانح عمریوں، یادداشتوں اور ڈائریوں کی فروخت میں اضافہ ایک معمول کا رجحان ہے۔ ان کے مطابق قارئین روزمرہ خبروں کے بجائے تاریخی اور فکری پس منظر کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اس نوعیت کی کتابیں زیادہ توجہ حاصل کرتی ہیں۔ 
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، ایران سے متعلق عالمی مباحث اور حالیہ جنگ نے دنیا بھر میں ایران کی سیاست، مذہبی قیادت اور تاریخ پر مبنی کتابوں میں دلچسپی کو بڑھا دیا ہے۔ کشمیر چنار بک فیسٹیول میں خامنہ ای کی جیل ڈائری کی مقبولیت کو بھی اسی وسیع تر رجحان کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK