Updated: July 27, 2026, 9:57 PM IST
| New Delhi
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان پر کہ ’’جین زی جذباتی ہے، ٹھنڈے دماغ سے نہیں سوچتی‘‘، سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ بھاگوت نے کہا کہ نوجوان نسل اکثر جذبات میں فیصلے کرتی ہے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا کہ نوجوانوں کا اختیار پر سوال اٹھانا کوئی نئی بات نہیں۔ ان کے بیان کے بعد متعدد سوشل میڈیا صارفین نے امتحانی پرچہ لیک، نوجوانوں کے احتجاج، روزگار اور مستقبل کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے ان پر تنقید کی۔
موہن بھاگوت خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کا جین زی (Gen Z) نسل سے متعلق دیا گیا بیان سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ بھاگوت نے حیدرآباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نوجوان نسل جذباتی ہے اور اکثر ٹھنڈے دماغ سے سوچنے کے بجائے جذبات کے زیرِ اثر فیصلے کرتی ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ’’جین زی جذباتی ہے۔ یہ ٹھنڈے دماغ سے نہیں سوچتی۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ نوجوانوں ہی نے ہمیشہ حکمرانوں سے سوال پوچھا ہے۔‘ ‘ موہن بھاگوت کے مطابق ہر دور کے نوجوان اختیار پر سوال اٹھاتے رہے ہیں، اس لیے اس رجحان کو صرف موجودہ نسل سے جوڑنا درست نہیں۔ انہوں نے والدین اور بزرگوں کو بھی نصیحت کی کہ وہ نوجوانوں کو صرف نصیحتیں دینے کے بجائے اپنی زندگی سے عملی مثال پیش کریں کیونکہ نئی نسل اپنے بڑوں کے رویے سے زیادہ سیکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کشمیر: چنار بک فیسٹیول میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی جیل ڈائری کی غیرمعمولی مانگ
تاہم ان کے ’’جین زی جذباتی ہے‘‘ والے بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی۔ متعدد صارفین نے کہا کہ نوجوان اپنے مستقبل، امتحانی بے ضابطگیوں، بے روزگاری اور دیگر عوامی مسائل پر آواز اٹھا رہے ہیں، اس لیے ان کے احتجاج کو صرف جذباتی ردِ عمل قرار دینا مناسب نہیں۔ فیس بک، انسٹاگرام اور ایکس پر ہزاروں صارفین نے موہن بھاگوت پر شدید تنقید کی۔
جھمور گھوش نامی صارف نے لکھا کہ ’’تو کیا نفرت پھیلانا ٹھنڈے دماغ کی نشانی ہے؟‘‘
ایس وائی میولی نے حالیہ امتحانی تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ ’’پرچہ لیک جیسے معاملات پر آخر ٹھنڈے دماغ سے سوچنے کے لیے بچتا ہی کیا ہے؟‘‘
سومیر ماتھر نے لکھا کہ ’’سائنس تو یہ کہتی ہے کہ جذبات بھی عقل و فہم کی ایک اعلیٰ شکل ہیں۔‘‘
ہرپریت سوئن نے نوجوان نسل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’’جین زی نے جس پختگی، تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، ہماری نسل کو اس کا اعتراف کرنا چاہیے، نہ کہ ان کی کوششوں کو کم تر دکھانا چاہیے۔‘‘
سدھارتھ کونور نے تبصرہ کیا کہ ’’یہ نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور جمہوریت میں انہیں اس کا پورا حق حاصل ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے انتخابی سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا
رگھوناتھ جونّاویتھولا نے لکھا کہ ’’جب بار بار ایسی غلطیاں ہوں جو نوجوانوں کے مستقبل کو متاثر کریں تو وہ ٹھنڈے دماغ سے کیسے سوچ سکتے ہیں؟ اگر وہ احتجاج نہ کرتے تو یہ غلطیاں یونہی جاری رہتیں۔‘‘
سبھادیپ بسواس نے مختصر مگر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’اب بہت سوچ لیا اور بہت سن لیا، اب عمل کا وقت آ گیا ہے۔‘‘
پنکج کمار نے نسلوں کے تقابل پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا کہ ’’اگر بڑی عمر کی نسلیں واقعی اتنی ہی معقول ہوتیں تو پھر بھارت آج اس صورتحال میں کیوں ہوتا؟‘‘
ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ ’’جین زی ماضی میں نہیں، مستقبل میں یقین رکھتی ہے۔ ماضی پر رونے کے بجائے مستقبل کی بات کی جانی چاہیے۔‘‘
کچھ صارفین نے طنزیہ انداز بھی اختیار کیا۔ ویولا سیباسٹین نے لکھا کہ ’’آر ایس ایس تو بہت پرسکون ہے، وہ ہر کام بڑے سکون سے کرتی ہے، اس لیے سب پرسکون رہیں۔‘‘