Updated: July 27, 2026, 9:57 PM IST
| New Delhi
نئی دہلی کے جنتر منتر میں سی جے پی کی قیادت میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران نصب کیا گیا ایک سادہ سا ’’فیڈ بیک باکس‘‘ مظاہرے کی نمایاں علامت بن گیا۔ ملک بھر سے آنے والے طلبہ اور والدین نے اس میں تعلیمی نظام، امتحانی شفافیت، بھرتیوں، ذہنی صحت اور روزگار سے متعلق اپنی تجاویز اور شکایات تحریری طور پر جمع کرائیں۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ ان تجاویز کو مرتب کر کے حکومت کے سامنے اصلاحاتی سفارشات کی صورت میں پیش کیا جائے گا۔
نئی دہلی کے جنتر منتر میں کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے طلبہ احتجاج کے دوران ایک غیر معمولی اقدام نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ احتجاجی مقام پر نصب ایک ’’فیڈ بیک باکس‘‘ میں مختلف ریاستوں سے آنے والے طلبہ، والدین، اساتذہ اور دیگر شہریوں نے تعلیمی نظام سے متعلق اپنی تجاویز، شکایات اور اصلاحی سفارشات جمع کرائیں۔ منتظمین کے مطابق مقصد صرف احتجاج کرنا نہیں بلکہ عوامی آراء کی بنیاد پر ایک جامع اصلاحاتی دستاویز تیار کرنا بھی تھا۔
احتجاج کی قیادت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے مطابق اس باکس میں موصول ہونے والی تجاویز میں سب سے زیادہ زور امتحانی نظام میں شفافیت، سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے کی روک تھام، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) میں اصلاحات، سرکاری بھرتیوں کے شفاف طریقہ کار، طلبہ کی ذہنی صحت، امتحانی دباؤ میں کمی اور تعلیم میں احتساب جیسے موضوعات پر دیا گیا۔ کئی طلبہ نے اپنے ذاتی تجربات بھی تحریر کیے اور بتایا کہ امتحانی بے ضابطگیوں نے ان کے مستقبل اور ذہنی سکون پر کس طرح اثر ڈالا۔
یہ بھی پڑھئے: بہار احتجاج: پولیس کریک ڈاؤن، ۴۰۰؍ سے زائد مظاہرین گرفتار
منتظمین کا کہنا ہے کہ فیڈ بیک باکس میں جمع ہونے والی تحریری آراء کو موضوعات کے اعتبار سے الگ کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں ایک مفصل سفارشاتی رپورٹ کی شکل دی جا سکے۔ ان کے مطابق یہ رپورٹ متعلقہ سرکاری اداروں اور وزارتِ تعلیم کے سامنے پیش کی جائے گی تاکہ اصلاحات کے عمل میں براہِ راست طلبہ کی آواز بھی شامل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کا مقصد صرف مطالبات پیش کرنا نہیں بلکہ قابلِ عمل تجاویز فراہم کرنا بھی ہے۔
رپورٹ کے مطابق باکس میں جمع ہونے والے پیغامات صرف امتحانی نظام تک محدود نہیں تھے بلکہ کئی افراد نے اعلیٰ تعلیم تک مساوی رسائی، سرکاری ملازمتوں میں شفافیت، نوجوانوں کے لیے بہتر مواقع، تعلیمی اداروں میں مشاورت اور نفسیاتی معاونت جیسے نکات بھی اٹھائے۔ بعض والدین نے امتحانات کے دباؤ اور مسلسل بے یقینی کو طلبہ کی ذہنی صحت کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے مستقل اصلاحات کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: احتجاج ہونے سے لاٹھی چارج جائز نہیں ہو جاتا؛ سپریم کورٹ
پیوش پاٹل نامی ایک طالب علم نے مشورہ دیا کہ ’’اعلیٰ معیار کا مڈڈٹے میل ہر طالب علم کو دیا جانے چاہئے۔ سائنس پر توجہ مرکوز کی جانی چاہئے اور مذہب کو نظر انداز کرنا چاہئے۔ ہر اسکول میں معیاری اور یکساں تعلیمی نظام کو نافذ کرنا چاہئے۔‘‘
ایک طالب علم نے لکھا کہ ’’تعلیم کے ساتھ ماحولیات پر بھی خاص توجہ دی جانی چاہئے۔ میرے خیال میں ذہنی صحت بہت ضروری ہے ۔‘‘
ایک اور طالب علم نے تجویز دی کہ ’’اسکولوں میں انگیجنگ سیشنز ہونے چاہئیں۔ کلاس روم میں یکطرفہ تعلیم نہیں دی جانی چاہئے۔ طلبہ کو تاریخ، سیاسیات، سائنس اور دیگر علوم، ڈسکشن کے ذریعے سمجھائے جائیں۔ طلبہ کی باتیں سنی جائیں اور عملی طور پر زیادہ کام کروایا جائے۔‘‘
اروناچل پردیش کے ایک طالب علم نے مشورہ دیا کہ ’’بہتر اور معیاری تعلیم کا آغاز پرائمری ہی سے ہونا چاہئے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: پونے: جرائم کے بڑھتے معاملات کے پیش نظر کئی پولیس افسران کا تبادلہ
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا جب NEET سمیت مختلف قومی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف شروع ہونے والی تحریک صرف احتجاج تک محدود نہیں رہی بلکہ حکومت سے مذاکرات، عدالتی کارروائیوں اور اصلاحاتی تجاویز تک جا پہنچی۔ حالیہ دنوں میں حکومت نے احتجاجی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے بعد متعدد مطالبات تسلیم کیے، جبکہ جنتر منتر پر جاری دھرنا بھی ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد احتجاجی مقام سے بینرز اور نعرے ہٹائے جا رہے ہیں اور علاقے کو معمول کی حالت میں واپس لانے کا عمل جاری ہے، تاہم طلبہ کا کہنا ہے کہ تعلیمی اصلاحات کی مہم اب بھی جاری رہے گی۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق احتجاجی تحریکوں میں عوامی تجاویز جمع کرنے جیسے اقدامات پالیسی سازی کے عمل کو زیادہ شفاف اور شراکتی بنا سکتے ہیں، بشرطیکہ متعلقہ ادارے ان سفارشات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر طلبہ کی آراء کو عملی اصلاحات میں تبدیل کیا جائے تو اس سے مستقبل میں امتحانی نظام پر اعتماد بحال کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔