وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اعلان کیا ہے کہ جن ۸۱؍ لاکھ خواتین کا نام لاڈلی بہن اسکیم کی فہرست سے حذف کر دیئے گئے ہیں انہیں اب تک ادا کی گئی رقم واپس نہیں لی جائے گی ۔
EPAPER
Updated: June 03, 2026, 8:29 AM IST | Mumbai
وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اعلان کیا ہے کہ جن ۸۱؍ لاکھ خواتین کا نام لاڈلی بہن اسکیم کی فہرست سے حذف کر دیئے گئے ہیں انہیں اب تک ادا کی گئی رقم واپس نہیں لی جائے گی ۔
وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اعلان کیا ہے کہ جن ۸۱؍ لاکھ خواتین کا نام لاڈلی بہن اسکیم کی فہرست سے حذف کر دیئے گئے ہیں انہیں اب تک ادا کی گئی رقم واپس نہیں لی جائے گی ۔ البتہ ان مردوں سے پیسے ضرور وصول کئے جائیں گے جنہوں نے جعلی عرضی کے ذریعے خواتین کیلئے مخصوص اس اسکیم سے فائدہ اٹھایا۔ یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ کا یہ بیان اپوزیشن کی جانب سے ہونے والی مسلسل تنقیدوں کے بعد آیا ہے۔کے وائی سی نہ کروانے یا پھر جانچ میں نااہل پائے جانے کی بنا پر لاڈلی بہن اسکیم سے اب تک ۸۱؍ لاکھ خواتین کے نام خارج کر دیئے گئے ہیں۔
ایک روز قبل کانگریس کے سینئر لیڈر وجے ودیٹیوار نے الزام لگایاتھا کہ’’ اس اسکیم کو انتخابات میں خواتین سے ووٹ حاصل کرنے کیلئے استعمال کیا گیا ، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد مہایوتی نے انہی خواتین کے ساتھ دھوکہ کیا ۔ وجے ودیٹیوار نے کہاکہ حکومت نے ۸۰؍ لاکھ خواتین کو اس اسکیم کیلئے نااہل قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کی ہے۔ ان خواتین کے ساتھ کی گئی دھوکہ دہی مستقبل میں مہایوتی کو مہنگی پڑے گی۔‘‘ ذرائع کے مطابق لاڈلی بہن اسکیم کے تحت ای کے وائی سی اور اہلیت کی تصدیق کے بعد تقریباً ۸۱؍ لاکھ خواتین کے نام فہرست سے خارج کر دیئے گئے۔ اپوزیشن نے اسے خواتین کے ساتھ دھوکہ دہی قرار دیا ہے۔
وجے وڈیٹیوار کے علاوہ این سی پی (شرد) کے سینئر لیڈر جینت پاٹل نے بھی اس معاملے میں حکومت پر تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا’’ اگر ہم ترتیب کو دیکھیں تو سب سے پہلے الیکشن سے قبل (تمام خواتین میں) پیسے تقسیم کئے گئے۔لاڈلی بہنوں نے اس کی بنا پر مہایوتی کو دوبارہ اقتدار دلایا۔ پھر انہوں نے انہی لاڈلی بہنوں کی تفتیش کی جو کہ غیر اخلاقی ہے، دھوکہ دہی ہے۔ اس تفتیش کے ذریعے ۸۰؍ لاکھ خواتین کو کنارے کر دیا گیا۔ ‘‘ جینت پاٹل کا کہنا ہے’’ مجھے یقین ہے کہ اگلے سال وہ مزید ۵۰؍ یا ۶۰؍لاکھ خواتین کو کنارے لگائیں گے۔ وہ سالانہ بجٹ میں لاڈلی بہنوں کا حصہ کم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ پاٹل کے مطابق’’ جب یہ اسکیم متعارف کروائی گئی تھی تو کیا انہیں معلوم نہیں تھا کہ اس میں دھوکہ دہی ہو سکتی ہے؟ اس وقت، آپ اوتار بنے ہوئے تھے۔ سب کو رقم تقسیم کر رہے تھے اب آپ کو یہ کہنے کا کوئی حق نہیں ہے کہ لاڈلی بہن اسکیم سے فائدہ اٹھانے والی خواتین جعلی ہیں۔‘‘ جینت پاٹل نے کہا کہ اس بات کی ذمہ داری طے کی جائے کہ ۲؍ سال تک جعلی عرضیوں پر ان خواتین کو رقم کیسے ملی؟ کس نے دی؟اگر جعلی عرضیوں پر پیسے تقسیم ہو رہے تھے تو ذیلی سطح کے لوگ(افسران) کیا کر رہے تھے؟ ریاستی وزیر خزانہ کو اس کی بہتر معلومات ہوگی۔
ان کے علاوہ شیوسینا(ادھو) کے سنجے رائوت اور این سی پی (شرد) کی روہنی کھڑسے نے بھی الزام لگایا تھا کہ الیکشن کے وقت خواتین کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے لاڈلی بہن اسکیم متعارف کروائی گئی تھی۔ اب جبکہ مہایوتی کا مطلب نکل چکا ہے تو ان خواتین کو درکنار کیا جا رہا ہے۔ ان مسلسل تنقیدوں کے بعد منگل کے روز وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اعلان کیا کہ جن لاڈلی بہنوں کے نام فہرست سے باہر کئے گئے ہیں ان سے پیسے واپس نہیں مانگے جائیں گے۔ البتہ انہیں آئندہ پیسے نہیں ملیں گے۔ جن مردوں نے خاتون کے نام سے عرضی داخل کی تھی انہیں دیئے گئے پیسے وصول کئے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے خواتین کیلئے کچھ اور انتظام کرنے کا بھی وعدہ کیا۔