Inquilab Logo Happiest Places to Work

دھاراوی میں ۵۹۰؍ مذہبی عمارتیں، ان کا فیصلہ ریاستی پینل کرے گا

Updated: July 12, 2026, 9:02 PM IST | Mumbai

ممبئی کے دھاراوی میں ۵۹۰؍ مذہبی عمارتیں ہیں، ایک ریاستی پینل نے فیصلہ کرنا شروع کر دیا ہے کہ ان میں سے کون رہیں گے، کون منتقل ہوں گے اور کون ہٹائے جائیں گے۔

Dharavi. Photo: INN.
دھاراوی۔ تصویر: آئی این این

ممبئی کے دھاراوی میں ۵۹۰؍ مذہبی عمارتیں ہیں۔ ایک ریاستی پینل نے فیصلہ کرنا شروع کر دیا ہے کہ ان میں سے کون رہیں گے، کون منتقل ہوں گے اور کون ہٹائے جائیں گے۔وزیرِ اعلیٰ دیویندر فڈنویس کو پیش کی گئی اپنی پہلی عبوری رپورٹ میں، کمیٹی نے آٹھ ڈھانچوں کو ہٹانے کی سفارش کی ہے جو ۲۹؍ ستمبر ۲۰۰۹ء کے بعد تعمیر ہوئے تھے واضح رہے کہ یہ وہ تاریخ ہے جو سپریم کورٹ نے عوامی زمین پر غیر مجاز مذہبی ڈھانچوں کے لیے مقرر کی تھی جبکہ تین پرانے ڈھانچوں کو منتقل یا ضم کرنے کی تجویز دی ہے۔ کمیٹی نے اب تک ۱۴۹؍ سماعتیں کر لی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: پمپری چنچوڑ: راحت کے کام میں مصروف این ڈی آر ایف کے جوانوں کو سانس لینے میں دقت

رپورٹ کے مطابق انضمام کے فریم ورک کے تحت، وہ ڈھانچے جو انفرادی طور پر قائم نہیں رہ سکتے، کیونکہ وہ ماسٹر پلان یا ڈیولپمنٹ کنٹرول ریگولیشنز کی خلاف ورزی کرتے ہیں، انہیں ایک مشترکہ، بڑی مذہبی سہولت میں ضم کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل سے واقف اہلکاروں نے بتایا کہ جن ڈھانچوں کو انفرادی منتقلی کا اہل نہیں سمجھا جاتا، انہیں اس مشترکہ کمپلیکس میں جگہ دی جا سکتی ہے بشرطیکہ ان کے ذمہ داران تعاون کریں۔
جن ڈھانچوں کو ہٹایا جانا ہے ان میں، متھماروی امما ٹرسٹ کا ڈھانچہ، دو ہنومان مندر، دو شیو مندر، اور تین سائی بابا مندر شامل ہیں۔جبکہ تین ڈھانچوں شری ہنومان مندر، ماریامن مندر اور شری کارتک سوامی مندر کو بھی منتقلی یا انضمام کے لیے تجویز کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ڈھانچے ۲۹ ستمبر ۲۰۰۹ء سے پہلے موجود تھے، اس لیے انہیں ان زمروں میں رکھا گیا جو ہٹانے کی بجائے منتقلی یا انضمام کی اجازت دیتے ہیں۔ اس میں یہ بھی درج ہے کہ شری ہنومان مندر کے نمائندے نے اسی نوعیت کے دیگر مذہبی ڈھانچوں کے ساتھ انضمام پر اتفاق کیا۔رپورٹ کہتی ہے کہ ان تین ڈھانچوں کو ہٹانے کی بجائے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے یا اسی نوعیت کے مذہبی ڈھانچوں کے ساتھ شامل کیا جا سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کرناٹک میں ’ریسیڈنس سرٹیفکیٹ‘ پر بی جے پی کو اعتراض

واضح رہے کہ کمیٹی کے زیرِ عمل فریم ورک کے تحت، وہ ڈھانچے جو اپنی موجودہ جگہوں پر نہیں رہ سکتے لیکن ریاستی پالیسی کے تحت تحفظ کے اہل ہیں، انہیں ہٹانے کی بجائے منتقل یا ضم کیا جا سکتا ہے۔بارہواں ڈھانچہ، شری سدھی ونائک مندر، جس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، اس ڈھانچے کے نمائندوں نے ۲۸؍ نومبر ۲۰۲۵ء کو ذاتی سماعت میں شرکت کی اور عملے کے ساتھ تعاون کرنے کا عہد کیا۔ بعد میں کمیٹی کو مطلع کیا گیا کہ پروجیکٹ کی حد میں نظرثانی کے بعد، یہ ڈھانچہ اب متعلقہ علاقے میں نہیں آتا، اس لیے اسے غور سے خارج کر دیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ری ڈیولپمنٹ ایریا کے اندر مذہبی ڈھانچوں کا مسئلہ ۲۰؍ اگست ۲۰۲۴ء کو پروجیکٹ کی نگرانی کرنے والی سیکرٹریز کمیٹی میں زیرِ بحث آیا، کیونکہ پروجیکٹ ایریا میں اس طرح کے ڈھانچوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔تاہم اس بحث کے بعد، ان ڈھانچوں کا جائزہ لینے اور ان کی باقاعدگی، منتقلی، انضمام یا ہٹانے کے بارے میں سفارشات دینے کے لیے ایک علاحدہ کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK