ٹرمپ کی رہائش گاہ سے سو سےزائد خفیہ دستاویز ملے

Updated: August 25, 2022, 12:32 PM IST | Agency | Washington

امریکی نیشنل آرکائیوز کے مطابق فلوریڈا میں واقع سابق امریکی صدر کی رہائش گاہ سے رواں ماہ ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے جو اشیاء اپنے قبضے میں لی ہیں ، ان میں ۷۰۰؍ صفحات پر مشتمل سو سے زیادہ خفیہ دستاویز بھی شامل ہیں

Mar-a-Lago Resort, Trump`s residence in Palm Beach..Picture:AP/PTI
پام بیچ میں ٹرمپ کی رہائش گاہ مار اے لاگو ریزارٹ ۔۔ تصویر: اےپی / پی ٹی آئی

 امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ سے خفیہ دستاویزات کے سلسلے میں امریکی نیشنل آرکائیوز نے بتایا کہ فلوریڈا میں واقع رہائش گاہ سے رواں ماہ ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے  جو اشیاء اپنے  قبضے میں لی ہیں ، ان میں ۷۰۰؍ صفحات  پر مشتمل سو سے زیادہ خفیہ دستاویز بھی شامل  ہیں۔  یہ انکشافات مئی میں لکھے گئے خط میں سامنے آئے جو ریکارڈ ایجنسی نے ریپبلکن سابق صدر کے وکیل کو بھیجا تھا۔نیشنل آرکائیوز اینڈ ریکارڈس ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جنوری میں ۱۵؍ بکسوں میں بڑی مقدار میں خفیہ  دستاویز برآمد کئے گئے تھے جن میں سے کچھ کی `انتہائی خفیہ  کے طور پر نشان دہی کی گئی تھی۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ عدالت کی جانب سے ایف بی آئی کو پام بیچ میں ٹرمپ کی رہائش گاہ مار اے لاگو ریزارٹ کی ۸؍ اگست کو تلاشی لینے کی اجازت کیوں دی گئی تھی ؟ نیشنل آرکائیو نامی ادارہ امریکہ کے سرکاری ریکارڈ کو محفوظ کرنے کا ذمہ دار ہے۔ مذکورہ خط۱۰؍مئی کو قائم مقام امریکی آرکائیوسٹ ڈیبرا اسٹیڈیل وال نے ٹرمپ کے وکیل ایوان کورکورن کو بھیجا تھا۔خط ایک قدامت پسند صحافی جان سولومن نے جاری کیا تھا جسے ڈونالڈ ٹرمپ نے جون میں اپنے صدارتی ریکارڈ تک رسائی کا اختیار دیا تھا۔ بعد ازاں نیشنل آرکائیوز نے ۲؍روز قبل اپنی ویب سائٹ پر اس کی ایک نقل پوسٹ کی تھی۔خط میں کہا گیا کہ `بکسوں میں موجود  دستاویز میں درجہ بندی کے نشانات کے ساتھ۷۰۰؍ صفحات پر مشتمل۱۰۰؍ سے زیادہ دستاویزہیںجن میں کچھ کی درجہ بندی اعلیٰ ترین سطح کے دستاویزکے طور پر کی گئی ہے۔  خیال رہے کہ۸؍اگست کی تلاشی اس وفاقی تفتیش کا حصہ تھی   جس میں یہ جانناتھا کہ کیا ڈونالڈ ٹرمپ نے۲۰۲۰ء کے دوبارہ انتخاب میں ناکامی کے بعد جنوری۲۰۲۱ء میں اپنا عہدہ چھوڑتے وقت وہائٹ ہاؤس سے دستاویزات کو غیر قانونی طور پر ہٹا دیا تھا اور انہوں نے ریکارڈ ہٹانے کی حکومتی تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش بھی کی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK