راہل گاندھی اور پرشانت کشور سمیت ۱۵۰؍ سے زائد اہم شخصیات کی جاسوسی کا انکشاف

Updated: July 20, 2021, 7:46 AM IST | New Delhi

اپوزیشن شدید برہم، حکومت سے جواب طلب، پارلیمنٹ میں احتجاج،پہلا ہی دن ہنگامہ خیز، کارروائی کئی بار ملتوی، سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کرنے والی سپریم کورٹ کی خاتون اسٹاف بھی نشانے پر تھی

No action could be taken on the first day of the session due to opposition protests.Picture:PTI
پارلیمنٹ میں اجلاس کے پہلے دن اپوزیشن کے احتجاج کی وجہ سے کارروائی نہیں ہوسکی

 کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور مشہور انتخابی حکمت عملی کار سمیت ۱۵۰؍ سے زائد اہم شخصیات کی جاسوسی کے انکشاف پر پورا ملک حیران ہے۔ ایک اسرائیلی سافٹ ویئر کی مدد سے کی جانے والی اس جاسوسی پر اپوزیشن نے حکمراں جماعت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اوراس سے سخت باز پرس کی ہے۔ جاسوسی کی شکار ہونے والی  ان اہم شخصیات میں اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ ہی جہاں حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے کچھ وزیر بھی ہیں، وہیں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی پر جنسی ہراسانی الزام عائد کرنے والی سپریم کورٹ کی خاتون اسٹاف کا نام بھی شامل ہے۔
نشانے پر ملک کے اہم صحافی بھی
  یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد پارلیمنٹ میں اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔اس احتجاج کی وجہ سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی کئی بار ملتوی ہوئی اور پھر آخر میں اسپیکر کو کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کرنے  پر مجبور ہونا پڑا۔  خیال رہے کہ جن لوگوں کے فون ٹیپ کرنے کی باتیں سامنے آئی ہیں، ان میں راہل گاندھی، ان کے اسٹاف میں شامل ۵؍ افراد،پرشانت کشور،چیف الیکشن کمشنر اور بعض ججوں سمیت کچھ موقر صحافیوں کے نام بھی شامل ہیں۔ اپوزیشن اراکین نے اسے آواز دبانے کی ایک کوشش قرار دیا۔
اسپیکر کی اپیل بے اثر  ثابت ہوئی
 اس معاملے پر ہنگامہ بڑھا توپارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ وہ ایوان کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ حکومت کسی بھی مسئلے پر بات کرنے کیلئے تیار ہے۔ لوک سبھااسپیکر اوم برلا نے اراکین پارلیمان کو اپنے طور پرمطمئن کرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ جب حکومت نے اپوزیشن کو سننے اور ان کی باتوں کا جواب  دینے کی یقین دہانی کرادی ہے تو ممبران کو اپنی نشستوں پر بیٹھ جانا چاہئے۔اس کے بعد اسپیکر نے مرکزی وزیر مواصلات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور الیکٹرانکس اشوینی وشنو کو بلایا جنہوں نے  اپوزیشن کے احتجاج کے دوران سیاستدانوں، صحافیوں اور اسرائیلی سافٹ ویئر کے استعمال سےمتعلق دیگر اہم شخصیات  کی جاسوسی کے الزامات کے بارے میں میڈیا رپورٹس پر ایک بیان پڑھ کر حکومت کے مؤقف کی وضاحت کی۔ انہوں نے اس رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس سنسنی کے پیچھے جو بھی وجہ ہے ، اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔
حکومت کے جواب سے اپوزیشن مطمئن نہیں  
  وزیرمواصلات نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان میں قائم پروٹوکول کی وجہ سے غیر قانونی طور پر کسی کی جاسوسی یا نگرانی ممکن نہیں ہے۔وزیر مواصلات کے بیان کے بعد  اسپیکر نے دوبارہ ممبروں سے اپیل کی کہ وہ پرسکون ہوجائیں اور اپنی جگہوں پر بیٹھ جائیں اور ایوان کی کارروائی میں تعاون کریں لیکن حزب اختلاف کے اراکین وزیر مواصلات کے جواب سے مطمئن نہیں ہوئے۔ اس کے بعد اسپیکر نے منگل کی صبح۱۱؍ بجے تک ایوان کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔
اپوزیشن شدید برہم
 اس سے قبل  ایک مرتبہ کی التوا کے بعد  جیسے ہی دوپہر ۲؍بجے ایوان شروع  ہوا کانگریس، ترنمول کانگریس، این سی پی اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی دیگر جماعتوں کے اراکین اپنے  ہاتھوں میں پلے کارڈ لئے ہوئے اسپیکر کے پوڈیم کے گرد جمع ہوگئے اور نعرے لگانے لگے۔
جاسوسی کا’ جن‘ بوتل سے باہر
 کانگریس کےسینئر  دگ وجے سنگھ نے اس حوالے سے ایک ٹویٹ  میں کہا کہ ’پیگاسز جاسوسی کیس ‘  کا جن بوتل سے باہر آگیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ ان کے توجہ دلاؤ تجویز پر مرکزی حکومت نے ’پیگاسز اسپائر ویئر‘ کی جانب سے جاسوسی و جھوٹے شواہد پلانٹ کرنے کی سازش کرنے کے الزام کو خارج کیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ اب جبکہ یہ ثابت ہوگیا کہ میں صحیح تھا تو برائے مہربانی اب یہ بھی بتادیں کہ یہ کون کررہا ہے؟ اور کیا اس کیلئے وزارت داخلہ سے منظوری لی گئی ہے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK