ہندوستان کا اشیاء پر مبنی تجارتی خسارہ فروری میں کم ہو کر ۱ء۲۷؍ارب ڈالر رہ گیا ہے، جو گزشتہ ماہ۶۸ء۳۴؍ ارب ڈالر تھا۔ یہ معلومات پیر کے روز وزارت تجارت و صنعت کی جانب سے دی گئی۔
EPAPER
Updated: March 17, 2026, 9:55 AM IST | New Delhi
ہندوستان کا اشیاء پر مبنی تجارتی خسارہ فروری میں کم ہو کر ۱ء۲۷؍ارب ڈالر رہ گیا ہے، جو گزشتہ ماہ۶۸ء۳۴؍ ارب ڈالر تھا۔ یہ معلومات پیر کے روز وزارت تجارت و صنعت کی جانب سے دی گئی۔
ہندوستان کا اشیاء پر مبنی تجارتی خسارہ فروری میں کم ہو کر ۱ء۲۷؍ارب ڈالر رہ گیا ہے، جو گزشتہ ماہ۶۸ء۳۴؍ ارب ڈالر تھا۔ یہ معلومات پیر کے روز وزارت تجارت و صنعت کی جانب سے دی گئی۔گزشتہ ماہ ملک کی اشیاء کی برآمدات بڑھ کر۶۱ء۳۶؍ ارب ڈالر ہو گئیں، جو جنوری میں ۵۶ء۳۶؍ ارب ڈالر تھیں۔ دوسری جانب درآمدات کم ہو کر۷۱ء۶۳؍ ارب ڈالر رہ گئیں، جو اس سے پہلے ۲۴ء۷۱؍ارب ڈالر تھیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ء کے اپریل سے فروری کے عرصے میں ملک کی اشیاء کی برآمدات۹۳ء۴۰۲؍ ارب ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ ۶۶ء۳۹۵؍ ارب ڈالر تھیں۔ یہ جائزہ مدت میں سالانہ بنیاد پر۸۴ء۱؍ فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ جاری ہے، جو ۲۸؍ فروری کو شروع ہوئی تھی اور جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں آبنائے ہرمز متاثر ہوئی ہے۔ اسی آبنائے سے دنیا کے تقریباً ۲۰؍ فیصد تیل اور گیس کی برآمدات ہوتی ہیں۔ اس راستے کی بندش سے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو چاول جیسی اشیاء کی ہندوستان سے برآمدات پر بھی اثر پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اروندھتی ریڈی اور فاطمہ ثناآئی سی سی ویمن پلیئر آف دی منتھ کے لیے نامزد
پہلے ہندوستان کی توانائی کی درآمدات کا تقریباً۵۰؍ فیصد آبنائے ہرمز کے ذریعے آتا تھا، لیکن اب اس میں تنوع آ گیا ہے اور اس کا بڑا حصہ روس سے آنے لگا ہے۔ ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ہندوستان کے اسٹریٹجک تیل کے ذخائر اور ۴۰؍سپلائر ممالک سے توانائی کی درآمدات میں تنوع پیدا کرنے سے عالمی توانائی بحرانوں سے نمٹنے کی ملک کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اسی لچک کے باعث ایران جنگ سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باوجود ہندوستان میں کوئی توانائی بحران پیدا نہیں ہوا، کیونکہ حکومت سپلائی کے انتظام کے ذریعے صورتحال کو سنبھال رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ماتربھومی: سلمان خان نے اپنی فلم ’’بیٹل آف گلوان‘‘ کا نام کیوں بدلا؟
جہاز رانی اور بندرگاہوں کی وزارت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ہندوستان ایران کے ساتھ بھی براہِ راست رابطے میں ہے تاکہ اس کے تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت مل سکے۔ ہندوستانی پرچم بردار جہاز جگ لادکی اتوار کو متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ سے تقریباً ۸۰۸۰۰؍ میٹرک ٹن مربان خام تیل لے کر بحفاظت ہندوستان کے لیے روانہ ہوا۔ جہاز اور اس پر سوار تمام ہندوستانی ملاح محفوظ ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ علاقے میں موجود تمام ہندوستانی ملاح محفوظ ہیں اور گزشتہ۲۴؍ گھنٹوں میں ہندوستانی ملاحوں سے متعلق کسی حادثے کی اطلاع نہیں ملی۔