Inquilab Logo

پانچ ہزار سے زائد نئی یہودی بستیاں تعمیر ہوں گی

Updated: June 28, 2023, 11:32 AM IST | Tel Aviv-Yafo

مقبوضہ فلسطین میں ان بستیوں کے تعلق سے عالمی برادری فکرمند، امریکہ اور ترکی کو تشویش، انقرہ کے مطابق یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے جو کسی بھی طرح سے قابل قبول نہیں ہے، واشنگٹن کےمطابق دو ریاستی حل کوشدید نقصان پہنچا ہے

Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu and others in the cabinet meeting. (AP/PTI)
اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یا ہو اوردیگر کابینہ کےا جلاس میں۔ ( اےپی / پی ٹی آئی)

اسرائیل  نے عالمی برادری کی مخالفت کےباوجود فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں ہزاروں یہودی بستیاں تعمیر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس پر امریکہ اور ترکی  نے تشویش ظاہر کی  ہے۔
   واضح رہے کہ  تل ابیب نے سال کے آغاز سے اب تک ریکارڈ۱۳؍ ہزار سے زائد غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر کی منظور ی دی  ہے ۔ 
  میڈیارپورٹس کے مطابق  پیر کو  اسرائیل  نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیاں تعمیر کرنے کا اعلان کر دیا۔    میڈیا  رپورٹس  میں  مقامی میڈیا کے حوالے سے  اس کی تفصیل بتاتےہوئے کہا گیا کہ  نیتن یاہو کی حکومت نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں آباد ہزاروں فلسطینیو ںکو بے گھر کرنے کے منصوبے  پر عمل شروع کر دیا ہے اور اسی کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں۵؍ہزار ۷؍سو یہودی بستیوں کی تعمیر کی اجازت دے دی۔
 اسرائیل کی شدت پسند حکومت نے توسیع  کے منصوبے پر  امریکی دباؤ کو بھی مسترد کردیا ہے جبکہ اسرائیلی حکومت کے اس جارحانہ  اعلان کے ساتھ ہی فلسطینی قصبوں اور دیہاتوں میں یہودی آباد کاروں کی ہنگامہ آرائیوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ وہ مسلسل  فلسطین آبادی میں دھاوے بول رہےہیں اور اسرائیل کی فوج سے سرپرستی میں ہنگامہ کررہےہیں۔ 
 امریکہ نے اسرائیل کے اس فیصلے کو دو  ریاستی حل کی کوششوں کو سخت نقصان پہنچانے والا قدم قرار دیا ہے ۔ اس بارے میں منگل کو  امریکی محکمۂ خارجہ کے  ترجمان میتھیو ملرنے بتایاکہ امریکہ مقبوضہ فلسطین میں  اسرائیلی بستیوں کی تعمیرکے فیصلے سے سخت پریشان ہے۔ اس اعلان     سےدو ریاستی حل  اور مستقل امن  کے منصوبے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ 
  اسی دوران ترکی نے  اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ دریائے اردن کے مغربی کنارے پر۵؍ ہزار۷؍سو نئی رہائش گاہوں کی تعمیر کی منظوری پر مذمت کی ہے۔
  انقرہ کے دفتر خارجہ نے  حکومت اسرائیل کی غیر قانونی  آباد کاریوں  سے متعلق ایک تحریری بیان جاری کیا ہےجس میں کہا گیا  ہے،’’ہم اسرائیل کی  جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں  میں۵؍ ہزار ۷؍سونئی  رہائش گاہوں کی تعمیرکی منظوری  دینے کی مذمت کرتے  ہیں۔‘‘
  ترکی  نے اپنے بیان میں مزید کہا،’’اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی  علاقوں میں آباد کاری کی ان سرگرمیوں کو فوری طور پر ختم کرنا چاہئے جو فلسطینی عوام کے حقوق کی خلاف ورزی  ہے۔ یہ بین الاقوامی قوانین کی بھی  خلاف ورزی ہے  اورکسی بھی طرح سے قابل قبول نہیں  ہے۔
  یاد رہےکہ اس منصوبے کی منظوری کے اعلان کے بعد گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے بھی اس منصوبے کی مخالفت کی تھی اور اسے روکنے پر زور دیا تھا۔ ان کا کہناتھا کہ اس منصوبے سے  اسرائیل - فلسطین  مذاکرات کی امید ختم ہوجائے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK