Inquilab Logo Happiest Places to Work

مسجد کے امام کے ساتھ مارپیٹ، پولیس میں شکایت کے بعد ملزم گرفتار

Updated: June 13, 2026, 10:14 AM IST | Sharjil Qureshi | Jalgaon

جلگائوں ضلع کے پارولہ تعلقے میں شرمناک واقعہ، راستے میں روک کر زبردستی نعرے لگوائے، ملزمین پر ایم پی ڈے کے تحت کارروائی کا مطالبہ۔

The social organization filed a complaint on behalf of the Maulana. Photo: INN
سماجی تنظیم نے مولانا کی طرف سے شکایت درج کروائی۔ تصویر: آئی این این

جلگائوں ضلع کے پارولہ تعلقے میں واقع تامس واڑی گائوں میں مسجد کے امام ساتھ گالی گلوچ اور جبراً نعرے لگوانے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے اور مسلمانوں کے وفد پولیس سے اصرار کے بعدملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مقامی تنظیم نے ملز م کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے اس کے خلاف ایم پی ڈی اے کے تحت معاملہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 
اطلاع کے مطابق سید حکیم ہاشم جلگائوں ضلع کے بیاول تعلقے کے رہنے والے ہیں اور چند روز قبل ہی پارولہ کے تامس واڑی قصبے میں  واقع نورانی مسجد میں بطور امام و خطیب رجوع ہوئے ہیں ۔ ایک روز قبل وہ فجر کی نماز پڑھا کر مسجد سے اپنے گھر کی طرف جارہے تھے کہ راستہ میں قصبے کے بس اسٹینڈ کے پاس انہیں ہیمنت مچھندر پوار عرف ناٹیا نے زبردستی روک لیا اور باز پرس کرنے لگا۔ ساتھ ہی گالی گلوچ کی مگر مولانا اسے کوئی جواب دیئے بغیر ہی تامس واڑی میں اپنی عارضی رہائش کی طرف چلے گئے۔ اسکے بعد اگلے دن پھر جب مولانا سید حکیم علی فجر کی نماز کے بعد گھر جارہے تھے تبھی ہیمنت نے انہیں روکا اور کہا ’’ تیرا آدھار کارڈ سرپنچ کے پاس جمع کروا‘‘ اس نے انتہائی گستاخی کے ساتھ ان کا گریبان پکڑ کر ان کے گال پر تھپڑ مارا، اور راہ گیروں کو روک کر بھیڑ اکٹھا کرلی۔ اتنا ہی نہیں اس نے اپنے ساتھی کو نزدیک بلاکر اپنی اس حرکت کا ویڈیو بھی بنوایا۔ مولانا سے زبردستی جے شری رام اور جے سیتا رام کے نعرے لگوائے گئے۔ اس واقعے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا۔ مولانا نے دھیمی آواز میں نعرے لگائے توہیمنت نے زور سے نعرے لگانے کیلئے کہا۔ اس معاملے کا ویڈیو وائرل ہونے پر جلگائوں کی سماجی تنظیم ایکتا سنگٹھن کاایک وفد پارولہ پولیس اسٹیشن پہنچا جس نے پولیس سے اس معاملے میں کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے ہیمنت مچھندر پوار عرف ناٹیا اور سمادھان بھاو صاحب دھوبی کے خلاف بی این ایس کی ۶؍ الگ الگ دفعات کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔ ساتھ ہی ہنومنت کو گرفتار کر لیا ہے۔ اطلاع کے مطابق پولیس نے ہیمنت سے معافی بھی منگوائی ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر اس کا معافی مانگتے ہوئے ویڈیو بھی وائرل ہوا ہے۔ 
ایم۔ پی ڈی اے تحت کاروائی کا مطالبہ
جلگائوں کی سماجی تنظیم ایکتا سنگٹھن کی طرف سے سوشل میڈیا پر ریاستی حکومت اور ضلع انتظامیہ کے نام ایک پوسٹ شیئر کی گئی ہے جس میں میں ہیمنت پوار عرف ناٹیا کا پولیس ریکارڈ ظاہر کیا گیا ہے۔ پوسٹ میں کہا گیا ہے کہہیمنت کے خلاف ۲۰۲۲ء تا ۲۰۲۴ء الگ الگ ۵؍ معاملات درج کئے گئے ہیں جن کا ریکارڈ بھی پوسٹ میں دیا گیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ کارروائی کے باوجود پوار میں کو ئی تبدیلی آنے کی توقع نہیں ہے اس لئے اسکے خلاف اب ایم پی ڈی اے ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے۔ واضح ہوکہ یہ سبھی مقامات پارولہ اسٹیشن میں درج ہیں ۔ 
یاد رہے کہ ریاست کے دیگر اضلاع کی طرح جلگائوں میں گزشتہ چند سال میں فرقہ پرستی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ حالیہ معاملے کے سبب مقامی مسلمانوں میں سخت ناراضگی ہے کیونکہ مسجد کے امام کے ساتھ بدسلوکی کی گئی ہے۔ مقامی باشندوں کا مطالبہ ہے کہ پولیس ملزم کے دیگر ساتھی کو بھی جلد از جلد گرفتار کرے اور انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے۔ 
 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK