Inquilab Logo Happiest Places to Work

’ پبلک ٹرانسپورٹ ڈے‘ کو خاطرخواہ پزیرائی نہیں ملی

Updated: June 13, 2026, 11:45 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

بی کے سی میں بیسٹ بسوں کی تعداد میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں کیا گیا۔ بڑی تعداد میں کاریں نظر آئیں۔ بہت سے افراد پیدل دفتر پہنچے۔

A woman thanks passengers at BKC Metro Station as part of the `Public Transport Today` campaign. Photo: PTI
’پبلک ٹرانسپورٹ ٹوڈے‘ مہم کے تحت ایک خاتون بی کے سی میٹرواسٹیشن پرمسافروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے۔ تصویر: پی ٹی آئی

باندرہ کرلا کمپلیکس (بی کے سی) میں جمعہ کو پہلے’ ویکلی پبلک ٹرانسپورٹ ڈے‘ کو شہریوں کی جانب سے خاطرخواہ پزیرائی نہیں ملی۔ تاہم آمدورفت کے ذرائع میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو ملی۔ نجی کاروں کی تعداد اور شیئرڈ آٹو رکشا سے حسب معمول سفر کیا گیا۔ دفاتر تک پہنچانے کیلئے بیسٹ بسوں کی تعداد بھی محدود رہی۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ایندھن کم استعمال کرنے کے مشورے، ریاستی حکومت کے سرکاری ملازمین کو پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے اور اعلیٰ سرکاری افسران کو ہفتے میں کم از کم ایک دن پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے جاری سرکیولر کے پیش نظر ’ممبئی میٹرو پولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی (ایم ایم آر ڈی اے) ‘نے شہر کے اہم تجارتی علاقے بی کے سی میں ہر جمعہ کو `’ویکلی پبلک ٹرانسپورٹ ڈے‘ منانے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت یہاں کام کرنے والے۲؍ لاکھ افراد کو ہر جمعہ کو ٹرین، بس اور میٹرو سے سفر کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ 
جمعہ ۱۲ ؍جون اس مہم کا پہلا دن تھا اورباندرہ کرلا کمپلیکس ( بی کے سی) میں واقع سرکاری محکموں کے اکثر و بیشتر ملازمین نے سرکاری دباؤ میں اس پر عمل کیا۔ تاہم غیرسرکاری ملازمین نے یا تو اس میں زیادہ دلچسپی نہیں لی یا چاہتے ہوئے بھی اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہ لے سکے کیونکہ یہاں ’لاسٹ مائل کنیکٹیکٹیویٹی‘ یعنی ٹرین اور میٹرو جیسے پبلک ٹرانسپورٹ کے اسٹیشن پر پہنچنے کے بعد دفتر تک پہنچنے کیلئے بیسٹ بس وغیرہ آسانی سے دستیاب نہیں ہوتی۔ اگرچہ یہ سرکاری مہم ہے، اس کے باوجود بیسٹ بسوں کی خدمات میں اتنا اضافہ نہیں کیا گیا، جتنی ضرورت تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: سینٹرل اور ویسٹرن ریلوے میں بڑے پیمانے پر مسافروں کیخلاف کارروائی

صبح بھیڑ بھاڑ کے اوقات میں میٹرو اور باندرہ ریلوے اسٹیشنوں پر معمول کے مطابق بھیڑ نظر آئی جس سے اندازہ ہورہا تھا کہ بی کے سی جانے والے نئے مسافر نے ان دونوں ذرائع میں اوسط تعداد میں منتقل ہوئے ہوں گے۔ باندرہ اسٹیشن سے مشرق کی طرف باہر آنے کے بعد بیسٹ بس کا انتظار کرنے والوں کی تعداد محدود تھی جبکہ شیئرڈ رکشا سے جانے والوں کی تعداد زیادہ تھی۔ 
بی کے سی میں میٹرو اسٹیشن سے باہر آنے والے ایک شخص نے بتایا کہ وہ یہاں ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتا ہے اس لئے اپنا نام نہیں بتانا چاہتا۔ تاہم اس کے مطابق اس مہم کی وجہ سے میٹرو ٹرین میں جس طرح کی بھیڑ بڑھنی چاہئے تھی، ویسا کچھ دکھائی نہیں دیا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ آفس میں گفتگو کے دوران اس نے ایسی کوئی بات نہیں سنی کہ اس کے کسی ساتھی ملازم نے آج اپنی کار نہ لانے کا فیصلہ کیا ہو۔ 
میٹرو اسٹیشن کے باہر اور چند اہم جنکشن پر کچھ افراد پلے کارڈ لے کر کھڑے تھے اور عوام کو پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے اور اس مہم میں حصہ لینے کا مشورہ دے رہے تھے۔ اس طرح اس تعلق سے بیداری لانے کی کوشش کررہے تھے۔ البتہ بھاویش مہاترے نامی ایک شخص نے سوشل میڈیا پر یہ پیغام ڈالا کہ انہیں اس مہم کا اثر نظر آیا۔ ان کے مطابق ملازمین کو ریلوے اسٹیشن سے دفتر لے جانے والی دفتر کی گاڑی سے آفس پہنچنے میں انہیں ۲۰ ؍سے ۲۵ ؍منٹ لگ جاتے تھے لیکن جمعہ کو وہ ۵ ؍منٹ میں دفتر پہنچ گئے۔ 
واضح رہے کہ بی کے سی میں ’سٹی فلو‘ اپنی بس خدمات فراہم کرتا ہے اور اس کمپنی نے جمعہ کو ۵۰ ؍زائد بسیں چلانے کا اعلان کیا تھا۔ بی کے سی میں ۲؍لاکھ سے زائد افراد برسر روزگار ہیں اس لئے اس مہم کے نتیجہ میں میٹرو۳؍ اور باندرہ ریلوے اسٹیشن پر بہت زیادہ بھیڑ ہونے کا اندازہ تھا لیکن ایسا کچھ نظر نہیں آیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK