• Mon, 12 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تریپورہ میں مندر کیلئے عطیہ نہ دینے پر مسجد ،مسلمانوںکی دکانیں اورمکان نذر آتش

Updated: January 12, 2026, 9:53 AM IST | Agency | Tripura

بھگوا شدت پسندوں کی تخریبی کارروائی میں۱۰؍ افراد زخمی، پولیس پر خاموش تماشائی بنے رہنے کا الزام، تشدد کے بعد ۱۰؍ افراد کو حراست میں  لیا۔

Police officers conducting a flag march after the violence. Picture: INN
تشدد کے بعد پولیس اہلکار فلیگ مارچ کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
مندر کیلئے چندہ  کے تنازع  کے  بعد سنیچر کو   تریپورہ کے اونا کوٹی ضلع میں  شدت پسند بھگوا عناصر نے سنیچر کو مسلمانوں کی  املاک کو نشانہ بناتے ہوئے کئی دکانوں، مکانوں  اور ایک مسجد کو آگ لگا دی۔  خبر رساں ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کے مطابق کمارگھاٹ سب ڈویژن کے سعیدرپار علاقے میں تشدد کے اس واقعہ میں پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم ۱۰؍ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ 
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اویناش کمار رائے نے اتوار کو حالات  کے پرامن ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے بتایا کہ’’ اب تک  تشدد کے کسی نئے واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے اور نیم فوجی دستے حساس علاقوں میں فلیگ مارچ کر رہے ہیں۔‘‘انہوں نے  بتایا کہ ’’تشدد کے الزام میں ۱۰؍ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘‘ اس بیچ ’’مکتوب میڈیا‘‘ نے مقامی لوگوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ واقعہ سنیچر کی صبح اس وقت پیش آیا جب بھگوا عناصر کا ایک گروہ ایک   دکان پر  مندر کیلئے چندہ لینے پہنچا۔ دکاندار جس کی شناخت علی کے طور پر کی گئی ہے، نے مذکورہ گروہ کو بتایا کہ وہ پہلے ہی کچھ رقم دے چکے ہیں اور چند دنوں میں مزید دیں گے۔علی کے مطابق’’لیکن انہوں نے بات نہیں سنی اور اسی وقت  مزیدپیسوں کا مطالبہ کرنے لگے...پھر انہوں نےمار پیٹ شروع کردی... حملے کے بعد مجھے اسپتال لے جایا گیا۔ وہ میرے گھر گئے اور اسے آگ لگا دی۔‘‘  انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ حملے کے دوران پولیس اہلکار موقع پر موجود تھے لیکن انہوں نے مداخلت نہیں کی۔
مولانا عبد المالک  نامی مقامی شخص  نے بتایا گروہ نے قبرستان میں بھی آگ لگا دی۔ ان کے مطابق’’انہوں نے صرف لوگوں کو مارنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ۵؍یا ۶؍گھروں کو آگ لگا دی، مسلمانوں کی  دکانیں جلائیں اور ’سعیدر پار مسجد‘ کو بھی نذرِ آتش کر دیا۔موٹر سائیکلیں، کاریں، حتیٰ کہ ایک ٹریکٹر بھی تباہ کر دیا گیا۔‘‘ عبدالمالک نے بھی  تصدیق کی کہ موقع پرپولیس اہلکار  موجود  تھے مگر انہوں نے کوئی مداخلت نہیں کی۔کانگریس قانون ساز پارٹی کے لیڈر بیراجیت سنہا نے تشدد کی اس واردات کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا  ہےکہ انہیں متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK