بیشتر مدارس نے قربانی کی کھالیں وصول ہی نہیں کیں

Updated: July 26, 2021, 12:23 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

چمڑے کی کم قیمت اور عملہ کی کمی اس کی وجہ بتائی جبکہ کچھ مدارس کے ذمہ داران نے کہا کہ کسی قیمت پر اس روایت کو ترک نہیں کیا جاسکتا خواہ نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑجائے

This year, many madrassas did not receive the skins.Picture:INN
امسال بہت سے مدارس نے قربانی کی کھالیں وصول نہیں کیں۔تصویر: آئی این این

:عید قرباں میں جو مسائل یا حکومت سے مطالبات تھے وہ اپنی جگہ ،اس دفعہ حیرت انگیز طور پر بیشتر مدارس کی جانب سے قربانی کی کھالیں ہی وصول نہیں کی گئیں جس کا نتیجہ یہ ہوا بہت سے لوگوں کو کھالیں دفن کرنی پڑیں ۔اس کے برخلاف کچھ مدارس نے کھالیں وصول کیں اور موجودہ حالات میں انہیں کسی قدر غنیمت قیمت بھی ملی جس سے مدارس کو کچھ نہ کچھ مالی فائدہ ہوا۔اس کے علاوہ چند فیصد لوگوں نے قربانی کی کھالوں کے  ساتھ نقد رقم دے کر بھی مدارس کی مدد کی۔ قربانی کی کھالیں وصول نہ کرنے والے مدارس کے ذمہ داران کی دلیل یہ تھی کہ مدارس بند ہونے سے عملہ کم تھا اور چمڑے کی قیمت بھی بہت کم تھی اس لئے خسارے کا سودا تھا جبکہ جن مدارس نے کھالیں وصول کیں ان ذمہ داران کے پیش نظر مدارس کے ساتھ ملت کا وسیع تر مفاد تھا  اور ان کا کہنا تھا کہ اس روایت کو ترک نہیں کیا جاسکتا ، خواہ نفع کےبجائےکچھ نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑ جائے۔  
رابطہ مدارس میں شامل ۹۹؍فیصد اداروں نے چمڑا نہیں وصولا
 رابطہ مدارس اسلامیہ ممبئی، تھانے اورپال گھر کے ترجمان مولانا عبدالقدوس شاکر حکیمی سے استفسار کرنے پر انہوں نے رابطے میں شامل مدارس کی مجموعی صورتحال یہ بتائی کہ دارلعلوم امدادیہ چونا بھٹی، مدرسہ تعلیم القرآن دین بندھو نگر وڈالا اور مدرسہ اشرف العلوم نالاسوپارہ کے علاوہ کسی اور مدرسے نے چمڑہ وصولنے کا اہتمام نہیں کیا البتہ معراج العلوم چیتا کیمپ اور اکا دکا کچھ ایسے اور مدارس تھے جنہوں نے چمڑہ وصولنے کا اہتمام تو نہیں کیا لیکن جو کھالیں لوگوں نے مدرسے میں ازخود  پہنچائیں اسے انہوں نے جمع کر لیا۔
  انہوں نے چمڑہ وصول نہ کرنے کی وجہ قیمت میں گراوٹ اور مدارس بند ہونے سے عملہ اور اسٹاف کی کمی قرار دیا۔ ان سے یہ پوچھنے پر کہ جب ملت کے افراد ہر موقع پر مدارس کا خیال رکھتے ہیں تو کیا چمڑے کی قیمت کم ہونے سے چمڑہ وصولنا ترک کر دیا جائے گا؟ اور اس معاملے میں ملت کو یونہی چھوڑ دیا جائے گا  تو انہوں نے اس کا اعتراف کیا اور کہا کہ یہ بہت اہم بات ہے آئندہ اس کا انشاء اللہ ضرور خیال رکھا جائے گا۔
کم قیمت مستقل مسئلہ 
 دھاراوی میں چمڑے کے بڑے تاجرحاجی عنایت حسین سے رابطہ قائم کرنے پر انہوں نے بتایا کہ چمڑے کی کم قیمت مستقل مسئلہ ہے۔ جہاں تک قربانی کی کھالیں خریدنے کا معاملہ ہے تو چونکہ اس کا تعلق مدارس سے  ہے اسی لئے کوشش یہ کی جاتی ہے کہ گنجائش کے اعتبار سے مدارس کو بہتر قیمت دی جائے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اس دفعہ کچھ مدارس کی جمع کردہ کھالیں ۵۳؍روپے میں تو کچھ کی ۵۱؍روپے میں اور کچھ کی اور قیمت پر خریدی گئیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK