• Fri, 27 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبئی سینٹرل کے بیلاسس بریج کا افتتاح

Updated: February 27, 2026, 12:49 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

مگر خراب منصوبہ بندی کے سبب شہریوں کو دشواریاں ہوں گی۔ پل سے بس اسٹاپ اور سڑک سےریلوے اسٹیشن میں داخل ہونے کے راستے بند کردیئے گئے۔ فٹ پاتھ سے سڑک پار کرنے کی سہولت بھی نہیں ۔

Vehicles passing through the Bellasis Bridge. Photo: INN
بیلاسس بریج سے گاڑیاں گزررہی ہیں۔ تصویر: آئی این این

ممبئی سینٹرل اور تاڑدیو کو جوڑنے والے اہم بیلاسس بریج کو جمعرات ۲۶؍ فروری سے عوام کیلئے کھول دیا گیا۔ تاہم بےصبری سے اس پل کے کھلنے کا انتظار کرنے والے بہت سے افراد کواس سے مایوسی ہوگی کیونکہ یہ خراب منصوبہ بندی کا ’اعلیٰ نمونہ‘ ہے اور اس میں اسٹیشن جانے والوں کی سہولت کا بالکل خیال نہیں رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے بریج کے سروں پر ٹریفک جام ہونے کا اندیشہ ہے۔ البتہ اس بریج کا نام مراٹھا اتحاد میں مالوا خطہ کی رانی اور بہت سے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی ’پُنیہ شلوک اہلیادیوی ہولکر‘ سے منسوب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ بریج از سر نو تعمیر کیلئے ۲؍ برس سے بند تھا اور متعینہ مدت سے قبل تعمیر مکمل کرکے اسے شروع کردیا گیا ہے۔ بظاہر اس بریج کی تعمیر کا معیار اچھا معلوم ہورہا ہے لیکن سڑک کے درمیان میں جس جگہ جوڑ ہے، وہاں بارش کے دوران پانی جمع ہونے کا اندیشہ ہے۔ البتہ اس کے معیار کا صحیح اندازہ برسات کے موسم میں ہی ہوسکے گا۔ 
شہریوں کیلئے یہ بری خبر ہے کہ اس بریج پر بیسٹ بسوں کے اسٹاپ ختم کردیئے گئے ہیں اور سڑک سے ریلوے اسٹیشن میں داخل ہونے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ حتیٰ کہ سامنے کے فٹ پاتھ سے سڑک پار کرکے اسٹیشن کی طرف جانا بھی ممکن نہیں ہے۔ بریج کے جس حصے پر اسٹیشن کا گیٹ ہے، صرف اسی طرف سے ٹرین کے مسافر بریج پر واقع اسٹیشن کے گیٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ریلوے اسٹیشن کا گیٹ بریج کے اوپر درمیانی حصہ پر واقع ہے اور اس تک پہنچنے کیلئے اب پیدل چلنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ 
اس بریج کی سڑک اور فٹ پاتھ کے درمیان چند فٹ اونچی دیوار تعمیر کی گئی ہے جس کی وجہ سے پورے بریج پر کہیں بھی نہ تو سڑک سے فٹ پاتھ پر جا سکتے ہیں نہ ہی ریلوے اسٹیشن سے نکل کر سڑک پر جاسکتے ہیں۔ اس دیوار کی وجہ سے نجی گاڑیوں یا ٹیکسی اور موٹر سائیکل جیسی گاڑیوں سے بھی اس پل پر واقع ممبئی سینٹرل ریلوے اسٹیشن کے گیٹ تک نہیں پہنچا جاسکتا۔ اب چاہے بیمار، معذور، بوڑھے، بچے یا حاملہ خواتین ہوں انہیں بریج کے سروں سے پیدل ہی اسٹیشن تک پہنچنا ہوگا۔ اس پر کہیں بھی خودکارزینہ یا لفٹ نہیں بنائی گئی ہے اور اسٹیشن کے اندر بھی فاسٹ ٹرینوں کے پلیٹ فارم پر خود کار زینے نہیں ہیں۔ 
لوگ اس بریج کی تعمیر نو مکمل ہونے کا اس لئے بھی بے چینی سے انتظار کررہے تھے کہ ممبئی سینٹرل ریلوے اسٹیشن آمدورفت آسان ہوجائے گا۔ تاہم نئی تعمیر میں متوسط اور غریب طبقہ کو بالکل نظر انداز کردیا گیا ہے اس لئے اب تاڑدیو یا ناگپاڑہ کی سمت سے اگر بریج کے اوپر گیٹ سے داخل ہونا ہو تو پیدل ہی جانا پڑے گا۔ 
اس بریج کے بند رہنے کے دوران لوکل ٹرینوں کے مسافر طویل مسافتی ٹرینوں کیلئے بنائے گئے صدر دروازے سے اسٹیشن میں جاتے تھے لیکن یہاں سے پلیٹ فارم تک پہنچنے کیلئے بہت زیادہ چلنا پڑتا ہے۔ اس کے مقابلے بریج پر چلنا کم پڑتا ہے لیکن فی الحال عوام کوپل کے شروع ہونے کی خبر کم ہے اس لئے مسافروں اور گاڑیوں کی تعداد کم نظر آئی ۔ بریج شروع ہونے کی خبر سے بھیڑ بھاڑ کے اوقات میں اس کے کنارے پر چلنا بھی دشوار ہوجائے گا کیونکہ بیک وقت سیکڑوں افراد اسٹیشن سے باہر آتے ہیں اور اسٹیشن جانے والوں کی بھی بھیڑ ہوتی ہے جبکہ بریج کے کنارے پر پیدل راستے کی چوڑائی اتنی ہے کہ ایک وقت میں ۲؍ افراد آس پاس چل سکتے ہیں۔ اگر اس پر بھی پرانے بریج کی طرز پر ہاکرس آگئے تو جگہ مزید کم ہوجائے گی۔ 
چونکہ بریج پر کہیں بھی فٹ پاتھ پر نہیں جایا جاسکتا اور سامنے فٹ پاتھ سے بھی اسٹیشن نہیں  آیا جاسکتا اس لئے گاڑی سے آنے والے تمام افراد تاڑدیو یا ناگپاڑہ کی طرف بریج کے کناروں پر جمع ہوں گے اور ان گاڑیوں سے ٹریفک جام کا مسئلہ بھی شدید ہوسکتا ہے یا پھر ان میں سے اکثر کو ٹریفک پولیس کے جرمانہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 
جمعرات کو وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ اس بریج کا افتتاح کیا جس میں میئر ریتو تاوڑے پروگرام کی صدر تھیں اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے، میونسپل کمشنر بھوشن گگرانی، مقامی رکن اسمبلی امین پٹیل، میونسپل کارپوریٹر امرین ابراہانی، دیگر کئی سیاستداں اور سرکاری افسران موجود تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK