ممبئی کانگریس کی صدر ورشا گائیکواڑ نے کہاکہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ انا کی شکست ہے، یہ سچائی اور آئین کی جیت ہے۔’آپ‘ کی جانب سے شیواجی پارک میں ’ وجے اتسو‘ منایا گیا۔
ممبئی: مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ دینے پر ممبئی کانگریس اور ممبئی عام آدمی پارٹی کی جانب سے سنیچر کی شام کو جشن منایاگیا اور اسے ملک کے طلبہ اور نوجوانوں کی جیت قرار دیا گیا۔ ان تقاریب میں کوئی سیاسی پارٹی کا پرچم استعمال نہیں کیاگیا تھا بلکہ مظاہرین اپنے ہاتھوں میں ترنگا اور مختلف نعرے لکھے ہوئے پلے کارڈز لئے ہوئے تھے۔دونوںہی پارٹیوں کی جانب سے کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی) کے سربراہ ابھیجیت دپکے ،سماجی کارکن سونم وانگ چک اور جین زی کو مبارکباد دی گئی ۔
’’آمہی ممبئیکر‘‘کی جانب سے
جشن اور قومی ترانہ گانے کا پروگرام
مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ دینے اور نوجوانوں کے مطالبات کو پورا کرنے کی یقین دہانی کےبعد ’ ’آمہی ممبئیکر‘‘(یعنی ہم ممبئی والے ہیں) کی جانب سے باندرہ بینڈ اسٹینڈ پر نوجوانوں کی فتح کا جشن اور قومی ترانہ گانے کا ایک پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام میں رکن پارلیمان ورشا گائیکواڑ، سابق وزیر اسلم شیخ، ایم ایل اے امین پٹیل، ڈاکٹر جیوتی گائیکواڑ، سینئر سماجی کارکن تشار گاندھی، سماجوادی پارٹی کے لیڈر اوررکن اسمبلی رئیس شیخ،سچن ساونت، ارشد اعظمی، ممبئی یوتھ کانگریس کی صدر زینت شبرین ، متعدد کارپوریٹروں، عہدیداروں اور کارکنوں کے ساتھ ساتھ ممبئی کےہزاروں شہری بھی موجود تھے۔ مظاہرے کے دوران ورشا گائیکواڑ اور رکن اسمبلی امین پٹیل نے آئین کی کاپی لی ہوئی تھی جبکہ دیگر شرکاء بابا صاحب امبیڈکر کی تصویر اور مودی پر تنقید کرنے والی تصویریںلئےہوئے تھے۔
ورشاگائیکواڑ نےکیا کہا؟
ممبئی کانگریس کی صدر و رکن پارلیمان ورشا گائیکواڑ نے کہاکہ’’ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو آخر کار استعفیٰ دینا پڑا لیکن یہ مسئلہ ان کے استعفیٰ سے ختم نہیں ہوتا۔ جب ملک کے نوجوان لڑتے ہیں تو ایک نئی تاریخ رقم ہوتی ہے، آج وہی ہوا ہے اور مغرور ڈکٹیٹر کو کروڑوں نوجوانوں کے دباؤ کے سامنے جھکنا پڑا ہے۔ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ انا کی شکست ہے ۔یہ سچائی اور آئین کی جیت ہے۔‘‘
رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ’’ کانگریس اس مغرور حکومت کے خلاف لڑتی رہے گی۔ اگرچہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا ہے لیکن اس احتجاج کے دوران طلبہ کو جن پولیس اہلکار اور افراد نے غیر انسانی طریقے سے مارا پیٹا ، ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ’’ نیٹ پیپر لیک ہونے کی وجہ سے۲۵؍ طلبہ نے خودکشی کی ہے، ان کے اہل خانہ کو خاطر خواہ مالی مدد دی جانی چاہئے اور ان کے ساتھ انصاف کیاجاناچاہئے۔‘‘
اس موقع پر دیگر مقررین نے بھی اپنے خطاب میں کہا کہ’’ ملک کے نوجوانوں کے مستقبل سے کسی بھی قسم کا کھلواڑ برداشت نہیں کیا جائے گا اور طلبہ کی جائز آواز کو دبانے کی ہر کوشش کی مخالفت کی جائے گی۔ ‘‘اس دوران طلبہ کی تحریک کو آخری دم تک جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا۔
جشن کے دوران مظاہرین نے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ نوجوانوں نے پُرجوش انداز میں’’دھرمیندر پردھان تو جھانکی ہے، نریندر مودی ابھی باقی ہے‘‘ کے نعرے لگائے، جبکہ ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا کر طلبہ کے مطالبات کے حق میں آواز بلند کی۔
مقررین نے کہا کہ’’ ملک کا نوجوان اپنے مستقبل، تعلیم اور روزگار کے تحفظ کیلئے سڑکوں پر آیا ہے، اس لیئ حکومت کو چاہئےکہ وہ طاقت کے استعمال یا نظرانداز کرنے کے بجائے طلبہ کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنے اور ان کے مسائل کا فوری حل نکالے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ’’ تعلیم اور روزگار سے متعلق معاملات سیاست سے بالاتر ہیں اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کا اعتماد بحال کرے۔‘‘
عام آدمی پارٹی نے شیواجی پارک میں ’ وجے اتسو‘منایا
ممبئی عام آدمی پارٹی کی جانب سے شیواجی پارک میںنوجوانوں کی فتح کا جشن ’ وجے اتسو‘ کے نام سے منایا گیا۔ اس موقع پر ڈھول تاشے بجاکر اور ناچتے ہوئے شیواجی پارک کے اطراف ریلی نکالی گئی اور ایک دوسرے کو مبارکباد دی گئی ۔ اس کے بعد مینا تائی ٹھاکرے کے مجسمہ کے پاس قومی ترانہ گا کر جشن کی تقریب ختم کی گئی ۔