مرکزی وزیر نے استعفے میں کہیں بھی نیٹ پیپر لیک یا طلبہ پر ہوئے لاٹھی چارج کے تعلق سے افسوس ظاہر نہیں کیا ہے ۔
پرکاش امبیڈکر۔ تصویر:آئی این این
مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ دینے کے بعد طلبہ سمیت ملک بھر میں لوگ خوشی منا رہے ہیں لیکن ونچت بہوجن اگھاڑی کے سربراہ پرکاش امبیڈکر نے دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مشمولات پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کے استعفے نے آگ میں تیل ڈالنے کا کام کیا ہے کیونکہ انہوں نے استعفے میں نیٹ پیپر لیک کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے بلکہ طلبہ کے احتجاج کو اس کیلئے ذمہ دار قرار دیا ۔ ساتھ ہی انہوں نے احتجاج میں غیر سماجی عناصر کے شامل ہونے کا الزام لگایا ہے ۔
پونے میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ونچت بہوجن اگھاڑی کے سربراہ پرکاش امبیڈکر نے کہا کہ ’’ دھرمیندر پردھان نے خود ہی استعفیٰ دیا ہے۔ انہوں نے یہ الزام لگایا ہے کہ احتجاج میں غیر سماجی عناصر گھس آئے تھے ۔ کہیں بھی اس بات پر افسوس کا اظہار نہیں کیا کہ نیٹ پیپرلیک کی وجہ سے ۲۲؍ طلبہ نے خود کشی کی ہے۔ پولیس کی جانب سے کی گئی غیر انسانی کارروائی کا بھی استعفے میں کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ ‘‘ پرکاش امبیڈکر کا کہنا تھا ’’طلبہ کے نقصان کی بھرپائی کی جائے گی اس تعلق سے کوئی تفصیل استعفے میں نہیں ہے۔ اس طرح کا استعفیٰ دے کر انہوں نے آگ میں تیل ڈالنے کا کام کیا ہے۔ ‘‘ ونچت سربراہ نے کہا ’’ میں کسی بھی قیمت پر نہیں جھکوں گا کہنے والے دھرمیندر پردھان کو آج ناک رگڑنی پڑی ہے۔ یہ طلبہ کی بہت بڑی جیت ہے۔‘‘ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کے تعلق سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں پرکاش امبیڈکر نے کہا ’’ سوریہ کانت کی شاید مرکزی حکومت سے کوئی دشمنی ہے جو وہ لگاتار حکومت کو نقصان پہنچانے والے بیانات دے رہے ہیں۔ پہلے انہوں نے نوجوانوں کو کاکروچ کہا تھا، اب کہا کہ ان کے پاس طلبہ پر ہوئے لاٹھی چارج کا ویڈیو دیکھنے کا وقت نہیں ہے۔ اسی سے طلبہ میں ناراضگی پیدا ہوئی۔‘‘ پرکاش امبیڈکر نے کہا کہ ونچت بہوجن اگھاڑی کی آگے بھی طلبہ کی حمایت جاری رہے گی۔