• Wed, 07 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مسلم خواتین کی نیلامی والے ایپ کی تخلیق میں ملوث ملزم ممبئی کی عدالت سے بری

Updated: October 07, 2026, 7:04 PM IST | Mumbai

مسلم خواتین کی نیلامی کیلئے بنے ایک ایپ کے سلسلے میں گرفتار نوجوان کو ممبئی کی ایک عدالت نے ناکافی ثبوت کا حوالہ دیتے ہوئے رہا کر دیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ موجود ثبوتوں سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ نوجوان کا اس ایپ کی تخلیق سے کوئی خاص تعلق ہے، محض ایپ کو فالو کرنا کوئی جرم نہیں ہے اس لئے نوجوان کو اس معاملے سے ڈسچارج کیا جا رہاہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

 ایک عدالت نے ۲۰۲۲ء کے ’ بُلی بائی ‘(Bulli Bai) معاملے میں گرفتار ۲۵؍ سالہ نوجوان کو اس بنیاد پر معاملے سے بری کر دیا ہے کہ اس بات کو ثابت کرنے کیلئے کافی ثبوت موجود نہیں ہیں کہ وہ اس ایپ کی تخلیق یا فرقہ پرست ہندوؤں کے ذریعے مسلم خواتین کی تصاویر نیلامی کیلئے اپ لوڈ کرنے میں ملوث تھا اس کا کوئی سائنسی یا قانونی ثبوت موجود نہیں۔ واضح رہے کہ ’ بُلی بائی ‘ ایک ایسا آن لائن پلیٹ فارم تھا جس نے جنوری ۲۰۲۲ء میں ۱۰۰؍ سے زائد مسلم خواتین کی تصاویر کو توہین آمیز تبصروں کے ساتھ نمایاں کیا تھا اور انہیں آن لائن نیلامی کیلئے پیش کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ایک سال سے بھی کم عرصے میں مسلم خواتین کو اس طرح نشانہ بنانے کا یہ دوسرا واقعہ تھا۔ اس سے قبل جولائی ۲۰۲۱ء میں’ سُلّی ڈیلز‘ (Sulli Deals) نامی ایک اور پلیٹ فارم پر بھی تقریباً ۸۰؍ مسلم خواتین کی تصاویر اسی انداز میں نمایاں کی گئی تھیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: پونے: مطالبات منظور نہ کرنے پر رکن اسمبلی روہت پوار کا پونے بند کا انتباہ

جس وقت وشال جھا نامی اس نوجوان کو بُلی بائی ایپ بنانے میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، وہ بنگلورو کے ایک ادارے میں انجینئرنگ کا طالب علم تھا۔ ممبئی پولیس کے سائبر سیل نے انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی ) کی ان دفعات کے تحت کیس درج کیا تھا جو مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے، مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی قصداً کوشش، اسٹاکنگ ، کسی خاتون کی حرمت و عفت کو مجروح کرنے سے متعلق ہیں۔ اس کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی ) ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئی تھیں۔وشال جھا کی معاملے سے رہائی (ڈسچارج) کی التجا کرتے ہوئے ان کے وکیل نے دلیل دی کہ چارج شیٹ میں ان کے موکل پر صرف یہی الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اس ایپ کو فالو کیا تھا اور اسے آگے شیئر کیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ساکیت تھانے کے مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج کو منظرعام پر لایا جائے

بعد ازاں عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ محض کسی ایپ کو فالو کرنا اپنے آپ میں کوئی جرم نہیں۔ عدالت نے یہ مشاہدہ بھی کیا کہ اگرچہ ایسے شواہد موجود ہیں کہ جھا دیگر شریک ملزمان کے ساتھ رابطے میں تھا، لیکن صرف اس کی بنیاد پر پلیٹ فارم کی تخلیق یا اسے چلانے میں اس کی شمولیت ثابت نہیں ہوتی۔چنانچہ، ایپ بنانے یا خواتین کی تصاویر اپ لوڈ کرنے اور انہیں وائرل کرنے کے عمل سے وشال جھا کا کوئی براہِ راست تعلق ثابت کرنے والے شواہد کی عدم دستیابی کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے انہیں معاملے سے ڈسچارج کر دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK