• Wed, 07 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پونے: مطالبات منظور نہ کرنے پر رکن اسمبلی روہت پوار کا پونے بند کا انتباہ

Updated: October 07, 2026, 1:29 PM IST | Agency | Pune

حکومت سے کہا: ایم پی ایس سی کے صدر کا استعفیٰ نہیں لیا تو آئندہ ۴۸؍ گھنٹے میں طلبہ پونے بندکردیں گے یا منترالیہ پر دھاوا بول دیں گے۔

MLA Rohit Pawar and Amin Patel with protesters on the SM Joshi Bridge. Photos: PTI
ایس ایم جوشی بریج پر مظاہرین کے ہمراہ رکن اسمبلی روہت پوار اور امین پٹیل۔ تصویر: پی ٹی آئی
یہاں ایم پی ایس سی امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف  احتجاج کے پانچویں دن این سی پی (شردپوار) کے رکن اسمبلی روہت پوار نے متنبہ کیا ہے کہ اگر حکومت نے   ایم پی ایس سی کے صدر وویک بھیمنوار  کا استعفیٰ نہیں لیا تو آئندہ ۴۸؍ گھنٹے میں طلبہ پونے کردیں گے یا ممبئی  میں منترالیہ پر دھاوابول دیں گے۔ انہوں نے ریاستی وزیر نتیش رانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی سیاسی معاملہ نہیں بلکہ طلبہ کے مستقبل کا سوال ہے۔  
احتجاج میں سیاسی لیڈران کی شرکت
پونے میں ۳؍ جگہوں پر ایم پی ایس سی طلبہ کا احتجاج جاری ہے ۔ ایس ایم جوشی بریج پراحتجاج کے پانچویں دن   اپوزیشن کے مختلف لیڈران  بھی شریک ہوئے جن میں کانگریس کے رکن اسمبلی امین پٹیل بھی شامل  تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ میں نے پونے میں ایم پی ایس ایس طلبہ کے احتجاج کی جگہ کا دورہ کیا اور ان کے مطالبات کی پُرزور حمایت کرتا ہوں۔ مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ انصاف، شفافیت اور بروقت فیصلوں کے حقدار ہیں۔ ان کے خدشات کو سنا جانا چاہئے اور بغیر کسی مزید تاخیر کے ان کا ازالہ کیا جانا چاہئے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’میں ایم ایل اے روہت پوار کی قیادت میں ہونے والے اس احتجاج کی حمایت کرتا ہوں اور متعلقہ حکام پر زور دیتا ہوں کہ وہ طلبہ سے بات چیت کریں اور ان کے جائز مطالبات کو جلد از جلد منظور کریں۔‘‘
واضح رہے کہ  راہل گاندھی۷؍ یا۸؍ اکتوبر کو پونے کا دورہ کر کے مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن(ایم پی ایس سی) میں اصلاحات کے مطالبے کے تحت احتجاج کرنے والے طلبہ اور امیدواروں سے ملاقات کر سکتے ہیں۔  
 
 
پولیس نے ۵۱؍ طلبہ کو نوٹس دیا
چونکہ پونے میں ایم پی ایس سی انتظامیہ کے خلاف پولیس کی جانب سے اجازت نہ دینے کے باوجود احتجاج جاری ہے، اس لئے  اب منتظمین اور مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔ ایس ایم جوشی بریج، تلک چوک اور شاستری روڈ پر گزشتہ ۴؍دن سے احتجاج جاری ہے اور پولیس نے مرکزی علاقے میں ۵۱؍ طلبہ کو نوٹس جاری کئے ہیں۔
ایم پی ایس سی مقابلہ جاتی امتحانات کیلئے مختلف فیصلوں کے خلاف طلبہ احتجاج  کررہے ہیں ۔گزشتہ ۴؍ دن  سے جاری احتجاج میں ہزاروں  طلبہ شریک ہیں جبکہ سیاسی لیڈران بھی اس میں شرکت کررہے ہیں جن میں روہت پوار ، راج ٹھاکرے اور دیگرلیڈران بھی شامل ہیں۔ احتجاج کا دورہ سیاسی طور پر کیا جا رہا ہے۔اس احتجاج کیلئے پولیس سے پیشگی اجازت ضروری ہے۔ تاہم پونے پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج کیلئے متعلقہ  محکمے سے ضروری اجازت نہیں لی گئی ہے۔ اس لئے پولیس نے منتظمین کو احتجاج نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ چونکہ اس کے بعد بھی احتجاج جاری ہے، اس لئے پولیس نے احتجاج کے مقام کی فلم بندی کرکے صورتحال کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنا شروع کردیا ہے۔امن و امان کی صو رتحال کو برقرار رکھنے کیلئے تینوں مقامات پر پولیس کو تعینات کیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے احتجاجی مقام پر صورتحال پر نظر رکھی جارہی ہے۔پولیس نے پہلے خبردار کیا تھا کہ اگر اجازت نہ ملنے کے بعد بھی احتجاج جاری رہا تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ایک سینئر پولیس افسر نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ ’’مظاہرے کی جگہ پر کی گئی فلم بندی، منتظمین کو دی گئی ہدایات اور اس کے بعد بھی جاری احتجاج کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے بعد مقدمہ درج کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔‘‘
دریں اثناء ایم پی ایس سی طلبہ کے احتجاج کے پیش نظر ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل کی گئی ہے۔ ایم پی ایس سی امتحا ن میں مبینہ بے ضابطگیاں، طلبہ کے مطالبات اوراحتجاج سے جڑے مسائل نے بھی اب اس   جانب  مبذول کرائی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK