• Tue, 13 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبئی: ایس آئی آر مخالف مظاہرین کے خلاف کارروائی،عدالت کا عمومی حکم سے انکار

Updated: October 13, 2026, 10:04 PM IST | Mumbai

ممبئی میں ایس آئی آر مخالف مظاہرین کے خلاف کارروائی پر ہائی کورٹ نے عمومی حکم دینے سے انکار کردیا، ساتھ ہی معاملے کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی، چیف الیکشن کمشنر کےخلاف ممبئی میں حالیہ مظاہروں کے دوران بڑے پیمانے پر مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ساتھ ہی انہیں ہراساں کیا گیا،اس ضمن میں بامبے ہائی کورٹ میں ایک پی آئی ایل دائر کی گئی ہے۔

Bombay High Court. Photo: INN.
بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این۔

ممبئی میں ایس آئی آر میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ۱۰؍ اور ۱۱؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس کی جانب سے وسیع پیمانے پرکی گئی احتیاطی حراستوں اور مبینہ زیادتی کے خلاف دائر ایک مفادِ عامہ کی عرضی (پی آئی ایل ) کی سماعت کے دوران بامبے ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ عدالت کوئی بھی عمومی یا مبہم حکم جاری نہیں کر سکتی ۔یہ تمام گرفتاریاں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے ایس آئی آر  میں بے ضابطگیوں پر جوابدہی کا مطالبہ کرنے والے مظاہروں کے دوران کی گئی تھیں۔ چیف جسٹس مہیش چندر ترپاٹھی اور جسٹس ادویت سیٹھنا پر مشتمل بنچ نے سرکاری وکیل منیش اپادھیائے کی جانب سے ہدایات حاصل کرنے کیلئے وقت مانگنے کے بعد معاملے کی سماعت پیر تک کیلئے ملتوی کر دی۔ 

یہ بھی پڑھئے: مظاہرین پر جارحانہ کارروائی کے اگلے دن شیواجی پارک میں پر امن احتجاج

دریں اثنا، درخواست گزار کے وکیل منیش تومر نے عبوری راحت کا مطالبہ کرتے ہوئے عدالت سے اپیل کی کہ وہ پولیس کو حراست میں لئے گئے تمام افراد کو فوری رہا کرنے کی ہدایت دے۔ تاہم، بنچ نے ایسا کوئی بھی حکم دینے سے انکار کر دیا۔عدالت نے اپنے اہم تبصرے میں کہا، ’’ہم ایسا کوئی بھی عمومی یا مبہم حکم نہیں دے سکتے۔ آپ کے پاس جتنے بھی مخصوص واقعات اور مثالیں ہیں، انہیں ریکارڈ پر لائیں، ہم ان پر لازمی کارروائی کریں گے۔‘‘ایڈووکیٹ اور سماجی کارکن ساگر کانتی لال دیورے کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست میں اگست کرانتی میدان اور شیواجی پارک میں شہریوں، عام راہگیروں اور خواتین کو بلا امتیاز حراست میں لئے جانے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے، ’’یہ مفادِ عامہ کی عرضی ممبئی کے ہر شہری کی ایک سادہ سی آزادی کے تحفظ کیلئے دائر کی گئی ہے یعنی اس شہر کی سڑکوں پر چلنے، دوسروں کے ساتھ پرامن طور پر کھڑے ہونے اور اپنے گھروں میں محفوظ رہنے کی آزادی، بغیر اس خوف کے کہ پولیس انہیں بغیر کسی انفرادی وجہ کے اٹھا کرنہ لے جائے۔‘‘
مزید برآں درخواست میں خاص طور پر ان طلبہ کو نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کی گئی ہے جنہیں جولائی ۲۰۲۶ء کے مظاہروں کے ان پرانے کیسز کی بنیاد پر گھروں سے اٹھایا گیا جنہیں سپریم کورٹ پہلے ہی منسوخ کر چکی ہے۔ مفادِ عامہ کی عرضی میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ وہ عمومی عوامی اجتماعات کو منظم کرنے کے پولیس کے قانونی اختیارات یا کسی کے سیاسی موقف سے اختلاف نہیں کر رہی ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا،’’درخواست گزار صرف ایک چیز کو چیلنج کر رہا ہے، ممبئی کے شہریوں کو بغیر کسی انفرادی، قانونی اور ریکارڈ شدہ وجہ کے حراست میں لینے کا عمل اور منسوخ شدہ ایف آئی آر یا ماضی کی حراست کو شہری کے خلاف مستقل داغ کے طور پر استعمال کرنا۔‘‘درخواست میں پولیس کے اس قدم کو حدسے تجاوز قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئین کی دفعہ ۱۴؍ ریاست کے من مانے رویے پر پابندی عائد کرتی ہے۔علاوہ ازیں کسی بھی شخص کے خلاف صرف تعلق، ماضی کی حراست، کسی فہرست میں نام ہونے یا کسی عوامی جگہ پر موجودگی کی بنیاد پر، بغیر کسی قانونی اور انفرادی وجہ کے، کوئی زبردستی کی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہائیکورٹ: کرلا ریلوے لائن کے اطراف غیر قانونی کچی آبادی کو ہٹانے کا حکم

مزید برآں، یہ زور دیا گیا ہے کہ منسوخ شدہ ریکارڈز پر کارروائی کرنا شدید امتیازی سلوک کے مترادف ہے، کیونکہ ایک منسوخ شدہ ایف آئی آر قانونی طور پر عدم موجود سمجھی جاتی ہے۔درخواست میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پرامن مظاہرین، راہگیروں اور بغیر کسی قانونی جواز کے حراست میں لئے گئے افراد کی بلا امتیاز گرفتاریوں کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس کی زیادتیوں کی آزادانہ تحقیقات، تمام الیکٹرانک ریکارڈز اور فوٹیج کو محفوظ رکھنے اور مظاہروں کے دوران پولیسنگ کیلئے معیاری طریقہ کار مرتب کرنے کا حکم بھی مانگا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK