متعلقہ محکمہ کو جگہ خالی کرانے کے لئے مکینوں کو ایک ماہ قبل نوٹس دینے، اہل مکینوں کو متبادل مکان فراہم کرنے اورمتاثرین کو۶؍ ماہ تک ۲؍ ہزار روپےماہانہ دینے کی ہدایت۔
EPAPER
Updated: October 12, 2026, 1:32 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai
متعلقہ محکمہ کو جگہ خالی کرانے کے لئے مکینوں کو ایک ماہ قبل نوٹس دینے، اہل مکینوں کو متبادل مکان فراہم کرنے اورمتاثرین کو۶؍ ماہ تک ۲؍ ہزار روپےماہانہ دینے کی ہدایت۔
کرلا ریلوے لائن سے متصل راجیو گاندھی نگر میںآباد کچی آبادی میں رہنے والے چند مکینوں نے بامبے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضداشت داخل کرتے ہوئے کئی برس سے مقیم رہنے کے باوجود متبادل مکان نہ دینے اور کارروائی کرنے کے نوٹس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا ۔کورٹ نے مذکورہ معاملے میں ریلوے انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات اور کرلا ریلوے لائن کے اطراف بفر زون میں رہنے والے مکینوں کی عرضداشت کا جائزہ لینے کے بعد ان کی درخواست کو مسترد کر دیا ۔ تاہم عدالت نے مکینوں کے تئیں نرم رویہ اپناتے ہوئے ریلوے انتظامیہ کو ایک ماہ میں مکان خالی کرنے کے نوٹس دینے کے ساتھ اہل مکینو ںکو متبادل مکان دینے اورتمام متاثرین کو ۶؍ ماہ تک ۲؍ ہزار روپے معاوضہ دینے کی بھی ہدایت دی ہے۔
بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ کی سربراہی کرنے والی جسٹس بھارتی ڈانگرے کے روبرو کرلا ریلوے لائن سے متصل راجیو گاندھی نگر میں رہنے والے ۷؍ مکینوں نے ریلوے کی جانب سے جھوپڑپٹی خالی کرانےاور متبادل مکان نہ دینے کے نوٹس کو چیلنج کیا تھا ۔مکینوں کا الزام تھا کہ وہ اس علاقے میں برسوں سے مقیم ہیں ۔ ان کے پاس نہ صرف الیکشن کارڈ ، آدھار کارڈ ہے بلکہ وہ بجلی کے بل کی ادائیگی کے علاوہ ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں، اس لئے انہیں پردھان منتر ی یوجنا یا ایس آر اے اسکیم کے تحت متبادل مکان دیا جانا چاہئے۔ وہیں ریلوے انتظامیہ نے مذکورہ کچی آبادی کو خالی کرانے اور نوٹس جاری کرنے کا جواز پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ علاقے میں آباد جھوپڑ پٹیوں کے سبب نہ صرف ریلوے کی ترقی اور توسیع میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے بلکہ اس سے مسافروں کے ساتھ ساتھ ریلوے لائن سے متصل کچی آبادی میں رہنے والوں کو بھی جان کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۸؍ کروڑ۲۶؍ لاکھ آبادی اورپیدائش/موت کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کیلئے محض ایک لاگ اِن!
کورٹ کا فرمان
عدالت نے دونوں فریق کی جرح سننے کے بعد کہا کہ ’’ کرلا ریلوے لائن سے متصل کچی آبادی میں رہنے والوں کو غیر قانونی قبضہ کرنے کےسبب نہ تو وہاں قیام کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے اور نہ ہی مسافروں کے ساتھ ساتھ ان کی جان کو خطرہ میں ڈالا جاسکتا ہے ۔ اگر مذکورہ غیر قانونی تجاوزات کے سبب ریلوے کی ترقی اور توسیع میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور انہیں نوٹس دے کر ہٹنے کا حکم دیا جارہا ہے تو اس کی تعمیل ہونی چاہئے ۔ ‘‘ کورٹ نےکچی آبادی میں رہنے والے مکینوں کی داخل کردہ عرضداشت کو مسترد کرتے ہوئے ریلوے کو ہدایت دی کہ وہ مذکورہ جگہ کو خالی کرانے سے قبل ایک ماہ کا نوٹس دیں ۔
کورٹ کا نرم رویہ
اس کے علاوہ کورٹ نے مکینو ںکے حق میں نرم رویہ اپناتے ہوئے یہ بھی کہا کہ’’ چونکہ مذکورہ علاقے میں رہنے والے مکین یہاں برسوں سے آباد ہیں اس لئے انہیں ایس آر اے یا پھر پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت متبادل مکان دیا جانا چاہئے ۔ ‘‘دو رکنی بنچ نےمضافاتی ضلع کلکٹر کو ہدایت دی کہ اس سلسلے میں اہل مکینو ںکے کاغذات اکٹھا کرکے انہیں متبادل مکان فراہم کرنے کی کارروائیوں کو پورا کریں ۔ ساتھ ہی ریلوے کو ایک ماہ کا نوٹس دینے کے بعد مکان نہ خالی کرنے کی صورت میں جہاں پولیس کی مدد سے مکانات خالی کرنے کا حکم دیا ، وہیں اہل مکینو ںکو متبادل مکانات کے علاوہ انہدامی کارروائیوں سے متاثر ہونے والے سبھی مکینوں کو ۶؍ ماہ تک فی مکین ۲؍ ہزار روپے مالی مدد دیئے جانے کا بھی فرمان جاری کیا ہے۔