Updated: October 13, 2026, 10:04 PM IST
| Paris
فرانس میں ہزاروں طلبہ نے ازسرنو احتجاج کیا، جس میں سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھمبرگ نے بھی شرکت کی،اس احتجاج کے سبب جاری تعلیمی خلل مزید پھیل گیا،حکام نے اسکولوں کے باہر ہزاروں افراد کی شرکت کی اطلاع دی جبکہ انسانی حقوق گروپ نے پولیس تشدد کی تقریباً ۱۰۰؍ شکایات درج کیں۔
منگل کو فرانس بھر میں ہزاروں افراد نئے طلبہ احتجاج میں شامل ہوئے، جس سے تعلیم میں وسیع پیمانے پر خلل پڑا ، مظاہرین فنڈنگ میں اضافے اور بہتر تعلیمی حالات کا مطالبہ کررہے تھے۔بی ایف ایم ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ نے صبح کے وقت اسکولوں کے باہر۳۶۰؍ اجتماعات میں ۳۰؍ ہزارافراد اور دوپہر تک مارچ میں۲۱؍ ہزار شرکاءدرج کئے۔وزارت اعلیٰ تعلیم نے کہا کہ ۳۵؍ فیصد اداروں میں خلل پڑا، جن میں ناکہ بندی، قبضے اور انتظامی بندش شامل ہیں۔ ایک طلبہ یونین نے علاحدہ طور پر دعویٰ کیا کہ۹۰؍ فیصد فیکلٹی کی ناکہ بندی کی گئی یا بند ہیں۔
لی پیرسئین نے رپورٹ کیا کہ لیون اور نانٹیس میں مارچ شروع ہوئے، جبکہ طلبہ نے پانچویں مرحلے کے احتجاج کے دوران پیرس، رینس اور اسٹراسبرگ میں اسکولوں کی ناکہ بندی کی ۔ وزیر تعلیم ایڈورڈ گیفرے نے فرانس انٹر کو بتایا کہ تقریباً۲۰۰؍ ادارے بند ہیں، جبکہ اس تعداد کو پچھلے ہفتے سے کم قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ہائی اسکول کے طلبہ کے لیے ایک مشاورتی پلیٹ فارم کو۸۶؍ ہزار شراکتیں موصول ہوئی ہیں اور تقریباً۱۰۰۰؍ کنٹریکٹ اساتذہ بھرتی کیے جا رہے ہیں۔بعد ازاں ہائی اسکول طلبہ یونین نے تصدیق کی کہ وہ جمعرات کو گیفرے سے ملے گی۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستان: پی ٹی آئی کے۲۷۰؍ سے زائد لیڈر و کارکنان گرفتار
علاوہ ازیں پیرس میں، طلبہ اور اساتذہ نے ہیلین باؤچر ہائی اسکول کے باہر پرامن انسانی زنجیر بنائی۔ بی ایف ایم ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ اساس لاء فیکلٹی کے باہر جھڑپوں میں ایک طالب علم زخمی ہوا۔رینس میں، حکام نے ایمیل زولا ہائی اسکول کے باہر بڑی آگ لگنے کی اطلاع دی اور طلبہ پر زور دیا کہ وہ ذمہ داروں سے دور رہیں۔بعد ازاں وزارت تعلیم نے کہا کہ تحریک شروع ہونے کے بعد سے۱۴۷؍ تعلیمی عملہ زخمی ہوا ہے، جن میں صرف پیر کو۲۰؍ افراد شامل ہیں، ان میں سے پانچ اسکول پرنسپل تھے۔ وزارت نے آج کے اعداد و شمار کو یکم اکتوبر کے بعد عملے کے لیے دوسرا سب سے زیادہ یومیہ نقصان قرار دیا۔
مزید برآں سویڈن کی موسمیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ پیرس کے شمال میں سینٹ ڈینس میں پال ایلوارڈ ہائی اسکول کے باہر مظاہرین میں شامل ہوئیں۔بی ایف ایم ٹی وی سے بات کرتے ہوئے، تھنبرگ نے انتہائی پرتشدد پولیس فورس کی مذمت کی جو بہتر سہولت کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین نوجوانوں کا سامنا کر رہی ہے۔انہوں نے کہا، ’’یہ پولیس کے بارے میں اور وہ واقعی کس کی حفاظت کرتے ہیں، سب کچھ ظاہر کرتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والوں کو نوجوانوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: روس پر۱۶۰۰؍ نئی پابندیوں کی منظوری دیدی گئی: یورپی یونین
دریں اثنا، فرانس کی ہیومن رائٹس لیگ (ایل ڈی ایچ) نے کہا کہ اسے تقریباً ایک ہفتہ قبل واقعات کو دستاویز کرنے اور قانونی کارروائی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے شروع کیے گئے آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے مبینہ پولیس تشدد سے متعلق تقریباً۱۰۰؍ شکایات موصول ہوئی ہیں۔ایل ڈی ایچ کی صدر نتھالی تہیو نے فرانس انٹر پر پولیس کے طرز عمل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی فورسز نوجوان مظاہرین کو تحفظ کے بجائے دبانے والے لوگوں کے طور پر دیکھتی ہیں۔تحریک کے مطالبات میں تعلیمی اخراجات میں اضافہ اور پارکورسپ یونیورسٹی داخلہ پلیٹ فارم کی مخالفت شامل ہے۔
تاہم صدر ایمانوئل میکرون نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ پرسکون رہیں اور لوگوں اور املاک کا احترام کریں۔لی پیرسئین کے مطابق تحریک شروع ہونے کے بعد سے ۶۸۰۰؍ سے زیادہ افراد، جن میں اکثریت نابالغوں کی ہے، کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس واچ ڈاگ آئی جی پی این نے مشتبہ پولیس تشدد کی۲۴؍ تحقیقات شروع کی ہیں۔