Inquilab Logo

آج پانچویں مرحلہ کی پولنگ، ممبئی پر نظریں

Updated: May 20, 2024, 10:06 AM IST | Mumbai

اُدھو اورشندے کا وقار داؤ پر، مہاراشٹر میں آج پارلیمانی الیکشن کی تکمیل، ملک بھر میں۴۹؍ سیٹوں  پرووٹنگ، امیٹھی اور رائے بریلی پر توجہ۔

Officials on election duty leaving for election center with voting machine in Lower Paris. Photo: INN.
 انتخابی ڈیوٹی پر مامور اہلکار لووَر پریل میں ووٹنگ مشین لے کر انتخابی مرکز کیلئے روانہ ہوتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این۔

پیر کو لوک سبھا الیکشن کے پانچویں  مرحلے میں  ممبئی کی ۶؍ اور مہاراشٹرکی ۱۳؍ سیٹوں  پر ووٹنگ کے ساتھ ہی مہاراشٹر میں  انتخابی ہلچل ختم ہوجائے گی کیوں  کہ مذکورہ ۱۳؍ سیٹوں  پر پولنگ کے ساتھ ہی یہاں  کی ۴۸؍ سیٹوں پر ووٹنگ کا عمل مکمل ہوجائےگا۔ پیر کو ہی جموں  کشمیر کے بارہمولہ پارلیمانی حلقے میں اور ۴؍ دیگر ریاستوں کی ۳۵؍ سیٹوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ایک طرف جہاں  ممبئی میں   اُدھو ٹھاکرے اور ایکناتھ شندے کا وقار داؤ پر لگا ہوا ہے وہیں   پورے ملک کی نگاہیں  امیٹھی اور رائے بریلی پر بھی مرکوز ہیں۔ رائے بریلی سے راہل گاندھی امیدوار ہیں جبکہ امیٹھی میں  مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کا مقابلہ گاندھی پریوار کے معتمد خاص کشوری لال شرما سے ہے۔ 
ممبئی میں شیوسینا بمقابلہ شیوسینا
ممبئی کے ۶؍ پارلیمانی حلقوں  میں   سے ۳؍ پر شیوسینا(اُدھو)ا ور شیوسینا (شندے) کے امیدواروں   کے درمیان مقابلہ ہے جبکہ ایک پر اُدھو کی پارٹی بی جےپی سے لوہا لے رہی ہے۔ ممبئی ساؤتھ سینٹرل میں شیوسینا (شندے) کے  ۲؍ بار کے ایم پی راہل شیوالے کو اُدھو کی پارٹی سے انل دیسائی چیلنج دے رہے ہیں  جبکہ ممبئی ساؤتھ کیلئے یامنی جادھو(شندے گروپ) کو اروند ساونت (شیوسینا، اُدھو) سے مقابلہ کرنا ہے۔  ممبئی نارتھ میں شیوسینا (شندے) کے رویندر وائیکر، شیوسینا(اُدھو) کے امول کولیکر سے لوہا لے رہے ہیں ۔ ممبئی نارتھ سینٹرل میں  بی جےپی کے امیدوار ایڈوکیٹ اُجول نکم کو کانگریس کی ورشا گائیکواڈ چیلنج کررہی ہیں جبکہ ممبئی نارتھ ایسٹ پر بی جےپی کے مہیر کوٹیچا کو شیوسینا (ادھو) کے مضبوط امیدوار سنجے دینا پاٹل کا سامنا ہے۔ 
کلیان میں وزیراعلیٰ کا وقار داؤ پر 
ممبئی کی ۶؍ سیٹوں  کے علاوہ کلیان، تھانے، بھیونڈی، پال گھر، ناسک، دھنڈوری اور ھولیہ کی سیٹوں  پر بھی پیر کو ہی ووٹ ڈالے جائیں گے۔ کلیان سے وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کے بیٹے ڈاکٹر شری کانت شندے کو اُدھو سینا کی امیدوار ویشالی دریکر رانے سےجبکہ تھانے میں  ان کے قریبی ساتھی نریش مہسکے کو اُدھو کی پارٹی کے راجن وچارے سےسخت مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ ان دعوؤں   کے بیچ کہ عوامی سطح پر شیوسینکوں   میں  اُدھو ٹھاکرے کیلئے ہمدردی کی لہر چل رہی ہے، شری کانت شندے اور مہسکے کی سیٹ بچانا وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کیلئے وقار کا مسئلہ بن گیا ہے۔ 
مہاراشٹر بی جےپی کیلئے اہمیت کا حامل
مہاراشٹر یوپی کے بعد سب سے زیادہ پارلیمانی سیٹوں  والی ریاست ہے۔ یہاں  ۳۵؍ سیٹوں  پر ابتدائی ۴؍ مراحل میں  ووٹ ڈالے جا چکے ہیں۔ بقیہ ۱۳؍ سیٹوں  پر پولنگ کے ساتھ ہی یہاں پیر کو ووٹنگ کا عمل مکمل ہو جائےگا۔ ۲۰۱۹ء میں  بی جےپی کی قیادت میں این ڈی اے کے حصے میں  مہاراشٹر کی ۴۲؍ سیٹیں آئی تھیں۔ 
مگر اب منظر نامہ بدلا ہوا ہے۔ اُدھو ٹھاکرے اب این ڈی اے کے ساتھ نہیں  ہیں  اور ایکناتھ شندے کی قیادت میں  جوشیوسینا بی جےپی کے ساتھ ہے، عام شیوسینکوں  کی اسے وہ تائید حاصل نہیں  ہے جو ۴۸؍ میں سے ۴۲؍ سیٹوں  پر فتح دلاسکتی ہو۔ حالانکہ اس کمی کو پورا کرنے کیلئے بی جےپی نے این سی پی میں  پھوٹ ڈال کر اجیت پوار کو اپنے ساتھ لے لیا ہے جبکہ راج ٹھاکرے کو بھی اس امید پر اپنے اتحاد میں شامل کرلیا ہے کہ ان کے سہارے کچھ اورمراٹھی ووٹر زعفرانی اتحاد کی طرف راغب ہوجائیں گے۔ اس کے بعد بھی عوامی رجحان کو دیکھتے ہوئے زعفرانی اتحاد کیلئے سابقہ سیٹوں  کو برقرار رکھنا ہی بڑا چیلنج ہے۔ 
پانچویں  مرحلے میں جس ریاست میں  سب سے زیادہ سیٹوں  پر ووٹنگ ہونی ہے، وہ اتر پردیش ہے۔ یہاں امیٹھی اور رائے بریلی پر سب کی نگاہیں  مرکوز ہیں مگر لکھنؤ سے مرکزی وزیر راج ناتھ سنگھ بھی لگاتار تیسری بار میدان میں  ہیں۔ پیر کو جن ۴۹؍ سیٹوں  پر ووٹ ڈالے جائیں گے، ان میں  سے ۲۰۱۹ء میں   بی جے پی نے۳۲؍ پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ کانگریس کو صرف رائے بریلی کی ایک سیٹ پر جیت حاصل ہوئی تھی۔ اس بار بی جے پی۴۹؍ میں سے۴۰؍ سیٹوں پر الیکشن لڑ رہی ہے جبکہ کانگریس۱۸؍ سیٹوں پر۔ حالات کودیکھتے ہوئے کانگریس کی سیٹوں  میں اضافہ اور بی جےپی کی سیٹوں میں کمی کا امکان ظاہر کیا جارہاہے۔ 
ووٹ کیسے دیں 
پولنگ بوتھ میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے بیٹھے ہوئے افسر کوووٹر سلپ دیں۔ وہ ووٹر لسٹ میں  آپ کے نام کی تصدیق کریگا اور پھر آپ کا شناختی کارڈ دیکھےگا۔ 
دوسرا افسر آپ کی انگلی پر سیاہی کا نشان لگائے گا، آپ کو ایک پرچی دےگا۔ اس کے ساتھ ہی وہ آپ سے رجسٹر (فارم ۱۷) پردستخط بھی لے گا۔ 
وہ پرچی آپ تیسرے افسر کے حوالے کریں۔ وہ ووٹنگ مشین کو آپ کے ووٹ کیلئے تیار کرےگا اور آپ کو بوتھ کے اندر جانے کیلئے کہے گا۔ 
وہاں آپ کو ووٹنگ مشین اور وی وی پیٹ نظر آئے گی۔ مشین پر اس امیدوار کے نام اور انتخابی نشان کے سامنے والا نیلا بٹن دبائیں جسے آپ ووٹ دینا چاہتے ہیں۔ بٹن دباتے ہی آپ کو بیپ کی آواز سنائی دے گی اور مشین پرنام کے آگے سرخ بتی جلے گی۔ 
وی وی پیٹ کی طرف دیکھیں۔  آپ کو کاغذ کی پرچی نظر آئے گی۔ تصدیق کرلیں  کہ جسے آپ نے ووٹ دیاہے پرچی پر اسی امیدوار کا نام اور انتخابی نشان ہے۔ یہ سلپ محض ۷؍ سیکنڈ تک نظر آئے گی۔ اس کے بعد پرچی کٹ کر وی وی پیٹ کے اندر چلی جائے گی اور آپ کا ووٹنگ کا عمل مکمل ہوجائیگا۔ 
نوٹ: موبائل فون یا کوئی اور الیکٹرانک آلہ پولنگ سینٹر میں لے جانا ممنوع ہے، اس لئے اسے ساتھ نہ لے جائیں   یا پھر باہر رکھنے کا کوئی انتظام کرلیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK