Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبئی میں دودھ کے تھوک نرخ میں ۹؍روپے فی لیٹر اضافہ، یکم ستمبر سے نفاذ

Updated: August 28, 2026, 4:04 PM IST | Mumbai

تہواروں کے سیزن سے قبل ممبئی کے شہریوں کے بجٹ پر مہنگائی کا ایک اور دباؤ پڑنے والا ہے۔ ممبئی ملک پروڈیوسرز ایسوسی ایشن (ایم ایم پی اے) نے تازہ بھینس کے دودھ کے تھوک نرخ میں۹؍فی لیٹر اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بعد موجودہ تھوک قیمت ۹۳؍ سے بڑھ کر۱۰۲؍ فی لیٹر ہو جائے گی۔

Milk Production.Photo:INN
دودھ کی پیداوار۔ تصویر:آئی این این

تہواروں کے سیزن سے قبل ممبئی کے شہریوں کے بجٹ پر مہنگائی کا ایک اور دباؤ پڑنے والا ہے۔ ممبئی ملک پروڈیوسرز ایسوسی ایشن (ایم ایم پی اے) نے تازہ بھینس کے دودھ کے تھوک نرخ میں۹؍فی لیٹر  اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بعد موجودہ تھوک قیمت ۹۳؍ سے بڑھ کر۱۰۲؍ فی لیٹر ہو جائے گی۔ نئی قیمت  یکم ستمبر ۲۰۲۶ء سے ۲۸؍ فروری ۲۰۲۷ء تک نافذ رہے گی۔ 

یہ بھی پڑھئے:آشا بھوسلے کی آواز میں ریکارڈ ہوا آخری فلمی نغمہ ۸؍ ستمبر کو ریلیز ہوگا

دودھ پروڈیوسرز کے مطابق دودھ کی پیداوار کی لاگت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر مویشیوں کے چارے، اناج، تور چُنی، چنا چُنی، کھلی اور دیگر فیڈ  کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق بعض جانوروں کی خوراک کی قیمتیں تقریباً ۲۵؍ فیصد تک بڑھی ہیں۔ دودھ دینے والے مویشیوں کی قیمت میں اضافہ بھی پروڈیوسرز کی لاگت بڑھنے کی ایک وجہ بتایا گیا ہے۔      یہ بات اہم ہے کہ۱۰۲؍ فی لیٹر تھوک قیمت ہے۔ صارفین کو تیلے/ریٹیل مارکیٹ میں دودھ اسی قیمت پر ملے گا، یہ ضروری نہیں۔ خردہ قیمت میں دکاندار کا مارجن، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات شامل ہونے کی وجہ سے آخری قیمت مختلف ہو سکتی ہے۔ 
ممبئی میں بھینس کاتازہ دودھ فروخت کرنے والے ۳؍ہزار سے زیادہ خردہ فروشوں  پر اس اضافے کا اثر پڑنے کی توقع ہے۔ تھوک قیمت بڑھنے کے بعد ان کی خریداری کی لاگت بھی بڑھ جائے گی، جس کے نتیجے میں صارفین کے لیے خردہ قیمت میں بھی اضافہ ممکن ہے۔ 
 دودھ کی قیمت میں اضافہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب ملک میں تہواروں کا سیزن شروع ہونے والا ہے۔ دودھ کا استعمال صرف پینے تک محدود نہیں بلکہ  دہی، پنیر، چائے، مٹھائی، کھیر اور دیگر ڈیری مصنوعات میں بھی ہوتا ہے۔ اس لیے تازہ دودھ کی تھوک قیمت بڑھنے سے کچھ دیگر مصنوعات کی لاگت پر بھی بالواسطہ اثر پڑ سکتا ہے، اگرچہ ان کی حتمی قیمت متعلقہ کاروباری ادارے طے کریں گے۔  

یہ بھی پڑھئے:ایران: باقر قالیباب کی اسکاٹ بیسنٹ پر تنقید، کہا اپنےعوام کی ضروریات پر توجہ دیں

ممبئی میں دودھ کے تھوک نرخ میں اس سال پہلے بھی اضافہ ہوا تھا۔ فروری ۲۰۲۶ء میں قیمت۹۱؍سے بڑھ کر ۹۳؍ فی لیٹر  ہوئی تھی۔ اب ستمبر میں ایک ہی مرتبہ ۹؍کا اضافہ کیا گیا ہے۔  یہ اضافہ بنیادی طور پر  مقامی تازہ/بھینس کے تازہ دودھ کے تھوک نرخ  سے متعلق ہے۔ اسے ہر برانڈ کے پیکٹ والے دودھ کی قیمت میں لازماً ۹؍کے اضافے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ پیکٹ دودھ کی قیمت متعلقہ ڈیری کمپنی اپنی پیداوار، پیکیجنگ، تقسیم اور دیگر اخراجات کے مطابق طے کرتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK