سری لنکا کے ہیڈ کوچ گیری کرسٹن نے کہا ہے کہ ملک میں ایسی ٹیسٹ پچیں تیار کی جانی چاہئیں جہاں اسپنرز کے ساتھ ساتھ فاسٹ بولرز کو بھی وکٹیں حاصل کرنے کے مواقع ملیں، کیونکہ اس طرح کھلاڑی مختلف حالات میں کھیلنے کی صلاحیت اور صبر پیدا کر سکتے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 28, 2026, 5:02 PM IST | Colombo
سری لنکا کے ہیڈ کوچ گیری کرسٹن نے کہا ہے کہ ملک میں ایسی ٹیسٹ پچیں تیار کی جانی چاہئیں جہاں اسپنرز کے ساتھ ساتھ فاسٹ بولرز کو بھی وکٹیں حاصل کرنے کے مواقع ملیں، کیونکہ اس طرح کھلاڑی مختلف حالات میں کھیلنے کی صلاحیت اور صبر پیدا کر سکتے ہیں۔
سری لنکا کے ہیڈ کوچ گیری کرسٹن نے کہا ہے کہ ملک میں ایسی ٹیسٹ پچیں تیار کی جانی چاہئیں جہاں اسپنرز کے ساتھ ساتھ فاسٹ بولرز کو بھی وکٹیں حاصل کرنے کے مواقع ملیں، کیونکہ اس طرح کھلاڑی مختلف حالات میں کھیلنے کی صلاحیت اور صبر پیدا کر سکتے ہیں۔کرسٹن نے ہندوستان کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز کے لیے تیار کی گئی پچوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ پچیں روایتی طور پر اسپن کے لیے سازگار اور جلد نتیجہ دینے والی سطحوں کے بجائے محنت طلب تھیں۔ دونوں ٹیسٹ پانچویں دن تک گئے، جبکہ سیریز میں مجموعی طور پر ۶۷؍ وکٹوں میں سے فاسٹ بولرز نے ۲۴؍ وکٹیں حاصل کیں۔ سری لنکا کی جانب سے اسیتھا فرنانڈو ۱۰؍وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایسی پچوں کے حامی ہیں جن پر صرف اسپنرز کے لیے حالات پیدا نہ کیے جائیں۔ ان کے مطابق سری لنکا کو ایسی سطحیں تیار کرنی چاہئیں جہاں فاسٹ بولرز بھی میچ جتانے میں کردار ادا کر سکیں۔ گال ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں سری لنکا کے فاسٹ بولرز نے ۱۰؍ میں سے ۷؍ وکٹیں حاصل کیں، جو اس بات کی حوصلہ افزا مثال ہے کہ تیز گیند باز بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔کرسٹن نے اسیتھا فرنانڈو کی کارکردگی کو عالمی معیار کی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سری لنکا کو ان پر مکمل انحصار کے بجائے مزید فاسٹ بولنگ آپشنز تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کو۲۰؍وکٹیں حاصل کرنے کے لیے صرف اسپن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے اور اس مقصد کے لیے فاسٹ بولنگ کے شعبے کو مضبوط بنانے پر خاص توجہ دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے:پراگنانندھا نے تاریخ رقم کرتے ہوئے گلوبل چیس ٹور جیت لیا
سری لنکا کے لیے سیریز کی ایک بڑی دریافت سونال دینوشا رہے، جنہوں نے ایس ایس سی میں پانچویں روز شاندار سنچری بنا کر میچ بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کرسٹن نے ان کی اننگز کو سری لنکا کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی بہترین بچاؤ والی اننگز میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے دیگر کرکٹرز کے لیے بھی ایک بہترین مثال ہے کہ مشکل حالات میں مضبوط بولنگ اٹیک کے خلاف کس طرح ٹیسٹ کرکٹ کھیلی جا سکتی ہے۔
کرسٹن نے کہا کہ دینوشا دباؤ والے حالات میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں اور وہ اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے سمجھ داری سے کھیلتے ہیں۔ ان کے مطابق چھٹے نمبر پر بیٹنگ کرنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ بلے باز اکثر دباؤ میں میدان میں آتا ہے، لیکن دینوشا نے مشکل حالات میں خود کو ثابت کیا ہے اور ان کی ٹیسٹ کرکٹ کے بارے میں سمجھ بوجھ قابل تعریف ہے۔
کرسٹن نے کہا کہ وہ صرف اسپنرز کے لیے وکٹیں تیار کرنے کے حق میں نہیں ہیں بلکہ ایسی سطحیں چاہتے ہیں جہاں سری لنکا کے فاسٹ بولرز بھی میچ جتوانے میں اہم کردار ادا کر سکیں۔ ان کے مطابق ٹیم کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب کھلاڑیوں کو مختلف حالات میں کھیلنے کا موقع ملے۔ انہوں نے خاص طور پر گال ٹیسٹ کی دوسری اننگز کا حوالہ دیا جہاں سری لنکا کے فاسٹ بولرز نے۱۰؍ میں سے سات وکٹیں حاصل کیں۔
انہوں نے اسیتھا فرنانڈو کی شاندار کارکردگی کی بھی تعریف کی اور انہیں عالمی معیار کا بولر قرار دیا۔ کرسٹن نے کہا کہ فرنانڈو گزشتہ کئی برسوں سے سری لنکا کے اہم فاسٹ بولر ہیں، تاہم ٹیم کو ان کے لیے مزید مددگار تیز گیند باز تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ لہارا کمارا اس سیریز میں صرف تین وکٹیں حاصل کر سکے اور ان کی اوسط ۳۳ء۵۷؍ رہی۔ کرسٹن کے مطابق سری لنکا صرف ایک فاسٹ بولر پر انحصار نہیں کر سکتا اور اسے ۲۰؍ وکٹیں حاصل کرنے کے لیے اسپن کے ساتھ تیز گیند بازی کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:پراگنانندھا نے تاریخ رقم کرتے ہوئے گلوبل چیس ٹور جیت لیا
سیریز میں سری لنکا کے ابھرتے ہوئے اسٹار سونال دینوشا رہے، جنہوں نے ایس ایس سی میں مشکل حالات میں پانچویں دن شاندار سنچری بنا کر میچ بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کرسٹن نے ان کی اس اننگز کو سری لنکا کی ٹیسٹ کرکٹ تاریخ کی بہترین میچ بچانے والی اننگز میں شمار ہونے کے قابل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلی اننگز میں سنچری کے علاوہ فالو آن کے بعد مضبوط بولنگ اٹیک کے خلاف دباؤ میں دینوشا کی کارکردگی ملک کے دیگر کرکٹرز کے لیے بھی ایک بہترین مثال ہے۔کرسٹن نے کہا کہ چھٹے نمبر پر بیٹنگ کرنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ بلے باز اکثر دباؤ کے عالم میں کریز پر آتا ہے، لیکن دینوشا مشکل حالات میں بہتر کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ویسٹ انڈیز کے دورے کے دوران بھی دینوشا کی یہی خوبی دیکھی تھی۔ کرسٹن کے مطابق وہ اپنی مضبوطیوں کو سمجھتے ہیں، بولرز کی حکمت عملی کو بھانپتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے مشکل حالات کا مقابلہ کرتے ہیں۔