اعلیٰ پولیس افسران نےحفاظتی نقطۂ نظر سے انتظامات کا جائزہ لیا اورٹرسٹیان سے صلاح ومشورہ کیا۔ زائرین کی مسلسل رہنمائی کی جاتی رہی۔
ناریل واڑی قبرستان کے باہر زائرین اور پولیس اہلکار نظر آرہے ہیں۔ تصویر: انقلاب
منگل کوشب برأت پر شہر ومضافات کے تمام قبرستانوں میںزائرین ِکا جم غفیر نظرآیا۔جوان ،بزرگ اوربچوں نےاپنے مرحومین کے حق میں دعائے مغفرت اورایصال ثواب کیلئے قبرستان کارخ کیا۔مضافات میں بہت سے قبرستانو ں میںزائرین کے اِزدہام کے سبب گیٹ سے پہلے بانس یا رسی باندھ کراوربعض قبرستانوں میں احتیاطاً ڈو رفریم میٹل ڈٹیکٹر سے گزار کر قبرستان میں داخلہ دیا گیا تاکہ کسی قسم کا حادثہ یا بھگدڑجیسی صورت پیدا نہ ہو۔
خصوصا بڑا قبرستان (مرین لائنس)، ناریل واڑی قبرستان ، نوپاڑہ قبرستان (باندرہ) ،اویس قرنی قبرستان (چارکوپ)، ماہم ،کرلا ، وکھرولی ، گھاٹکوپر، سانتاکروز، اندھیری ، جوگیشوری ، گوونڈی ، چیتا کیمپ ، گوریگاؤںاور دیگر قبرستانوں میں اعلیٰ پولیس افسران نے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا اور ٹرسٹیان سے بات چیت کی۔
بڑاقبرستان (مرین لائنس )کے تعلق سے جامع مسجد ٹرسٹ کے منیجرنجیب اختر تنگیکرنے نمائندۂ انقلاب کوبتایاکہ’’ اعلیٰ افسران نے ہم لوگوں کےہمراہ انتظامات کاجائزہ لیا او رمجمع کی کثرت کے پیش نظر اپنی جانب سے سخت حفاظتی پہرہ رکھا گیا۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایاکہ’’بڑا قبرستان میںعصر کی نماز سے ہی بھیڑشروع ہوجاتی ہے اوربڑی تعداد میں لوگ عصر کی نماز قبرستان مسجد میںادا کرتے ہیں، ،مغرب میں بھی یہی کیفیت رہتی ہے ۔ اس لئے اسی مناسبت سے کافی پہلے سے ہی انتظامات کرلئے گئے تھے۔‘‘نجیب اخترتنگیکر کے مطابق’’فاتحہ خوانی کیلئے آنے والوں کا سلسلہ علی الصباح تک جاری رہتا ہے ۔ اسی حساب سے ہر طرح کے انتظامات کے لئے تیاری کی گئی تاکہ زائرین کوکوئی پریشانی نہ ہو۔‘‘
ناریل واڑی قبرستان انتظامیہ کمیٹی کے ذمہ داریٰسین چشتی کے مطابق ’’اعلیٰ پولیس افسران نے تو متعدد مرتبہ جائزہ لیا اورکچھ مشورے بھی دیئے۔ ٹرسٹ کی جانب سےبھی زائرین کی مسلسل نگرانی کے ساتھ اعلانات کے ذریعے انہیں بار بار متوجہ کیاجاتا رہا تاکہ بھیڑبھاڑ کے سبب کوئی مسئلہ نہ ہو اور آنے جانے میں کوئی پریشانی نہ ہو اور نہ ہی کسی قسم کا اندیشہ رہے ۔‘‘
اوشیورہ قبرستان کے نگراں عبدالاحد خان کے مطابق ’’زائرین کی بکثرت آمد کے سبب ہرطرح کی سہولت کیلئے پیشگی تیاری کی گئی تھی اوربڑی تعداد میںپولیس کے جوان بھی پہرہ دیتے رہے۔‘‘
نوپاڑہ قبرستان (باندرہ )میںاے سی پی اورسینئرانسپکٹر وغیرہ نے ٹرسٹیان اور نگرانی رکھنےوالوں کے ہمراہ جائزہ لیا اورباہم تبادلۂ خیال کیا ۔اس موقع پرموجود عرفان پوار کے مطابق ’’ میٹنگ میںجس طرح باہم تبادلۂ خیال کیا گیا تھا،اسی حساب سے انتظام کیا گیا اورخاص طور پرحفاظتی نقطۂ نظر سےکئی چیزوں کوملحوظ رکھا گیا تاکہ کوئی شرانگیزی نہ کرسکے ۔‘‘
حاجی علی درگا ہ انتظامیہ کمیٹی کے منیجر محمد احمد طاہر نےانقلاب کو بتایاکہ’’ سمندر میں طغیانی کے سبب گیٹ رات میں۱۲؍ بجے سے ۳؍ بجے تک بند رکھا گیا مگر اس کے بعد بھی بڑی تعداد میںعقیدتمند پہنچنے والے تھے، اس کا خیال رکھتے ہوئے مغرب بعد سے رات میں ۱۲؍ بجے تک گیٹ بند ہونے سے قبل تک اور طغیانی ختم ہونے کے بعد شب میں۳؍ بجے سے صبح تک زائرین کیلئے خاص انتظام کیا گیا تھا۔ پارکنگ کے لئے ریس کورس میںنظم کیا گیاتھا جبکہ ۱۵۰؍رضاکار اورتاڑدیو پولیس کے جوان سخت نگرانی کرتے رہےاور۷۸؍سی سی ٹی وی کیمروں سے بھی حالات پرنگاہ رکھی گئی۔‘‘