عام شہریوں کو غیر ضروری دستاویزات کیلئے ہراساں کرنے اورپولیس پر بدعنوانی کا الزام،تھانے پولیس کمشنرسے تحریری شکایت
EPAPER
Updated: November 08, 2026, 1:07 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
عام شہریوں کو غیر ضروری دستاویزات کیلئے ہراساں کرنے اورپولیس پر بدعنوانی کا الزام،تھانے پولیس کمشنرسے تحریری شکایت
یہاں پاسپورٹ ویری فکیشن کےنام پرشہریوں کوپولیس کی جانب سے بہت پریشان کیا جا رہا ہے ۔ نوجوانوں سے قطع نظر بزرگوں سے اسکول خارجہ اور پیدائشی اسنادطلب کئے جا رہے ہیں ۔ایک کے بجائے متعدد رہائشی دستاویزات اور جن کاغذات کی ضرورت نہیں ہے وہ بھی لانے کیلئے کہا جا رہاہے ۔ دستاویزات کی کمی کو بنیاد بنا کر مبینہ طور پر ان سے موٹی رقم اینٹھی جا رہی ہے ۔ عوام کی اس پریشانی کے مدنظرسماجی کارکن اورمہاراشٹر ریاستی اُجرت مشاورتی بورڈ کےصدر سیدعلی اشرف عرف بھائی صاحب کی قیادت میں ایک وفد نے جمعہ کو تھانے کےپولیس کمشنر اسوتوش ڈومبرے کو میمورنڈم دیا اور ممبرا میں پاسپورٹ ویری فکیشن کیلئے شہریوں کو جو پریشان کیا جا رہا ہے اس پر روک لگانے کا مطالبہ کیا۔پولیس کمشنر نے وفد سےمعاملہ کی تحقیقات کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔
اس ضمن میں ریاض ایجوکیشنل اینڈ چیئرٹیبل ٹرسٹ کے صدر عبدالعظیم شیخ نے بتایا کہ ’’ ممبرا میں پاسپورٹ پولیس ویری فکیشن کے دوران عام شہریوں کو پریشانیوں، غیر ضروری دستاویزات کی طلبی، انکوائری میں تاخیر اور بے ضابطگیوں سے گزرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے میں نے حق معلومات قانون (آرٹی آئی) کے تحت ممبرا پولیس سے باضابطہ جواب بھی طلب کیا ہےجس میں پاسپورٹ ویری فکیشن کے قواعد، طریقۂ کار اور مطلوبہ دستاویزات کی قانونی حیثیت کے بارے میں سرکاری وضاحت طلب کی ہےجس کے مطابق یہاں کے بزرگوں، خواتین اور نوجوانوں سے غیر ضروری دستاویزات طلب کئے جا ر ہے ہیں ۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اپوزیشن نے احتجاج کو دوسری جنگ آزادی قرار دیا
عبدالعظیم شیخ کے مطابق ’’متعدد اُمیدواروں سے پاسپورٹ ویری فکیشن کے دوران پراپرٹی ٹیکس کی رسید، بالغ درخواست گزاروں سے والدین کے اسکول خارجہ یا پیدائش سرٹیفکیٹ اور بزرگ شہریوں سے بھی کئی دہائی پرانے یہی دستاویزات طلب کئے جا رہے ہیں ۔ ایک معمر خاتون جس کی پیدائش ۱۹۴۷ء میں ہوئی ہے ، اس سے بھی برتھ سرٹیفکیٹ لانے کیلئے کہا گیا ہے۔ علاوہ ازیں بعض شہریوں کی پاسپورٹ انکوائری کئی مہینوں سے زیر التواء ہیں ۔ کچھ درخواست گزاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اپنے گھر پر موجود تھے لیکن طویل انتظار کے بعد کسی ضروری کام سے باہر جانے پر پولیس اہلکار گھر پہنچے اور ان کے پتے پر موجود نہ ہونے کی رپورٹ بھیج دی جس کی وجہ سے انہیں پاسپورٹ نہیں مل سکا ہے ۔اس کے ساتھ ہی ویری فکیشن کیلئے پرہزاروں روپے رشوت طلب کئے جانے کابھی کچھ اُمیدواروں نے پولیس پر الزام عائد کیا ہے ۔ہمارا یہ سوال ہے کہ ممبرا میں پاسپورٹ ویری فکیشن کے دوران اضافی دستاویزات کس قانون، ضابطے، ایس اوپی یا افسر کے حکم کے تحت طلب کئے جا رہے ہیں؟‘‘
شہریوں کو ہراساں کرنے کا الزام
سیدعلی اشرف عرف بھائی صاحب نے بتایاکہ’’ ممبرا پولیس ان دنوں پاسپورٹ ویری فکیشن کے نام پر عام شہریوں کو ہراساں کر رہی ہے ۔ رہائش اور املاک کے ایسے دستاویزات طلب کئے جا رہے ہیں جن کی ضرورت نہیںہے ۔ ان دستاویزات کے نہ ہونے پر اُمیدواروں سے بھاری رقم اینٹھی جا رہی ہے ۔ ویر ی فکیشن نہ ہونے سے لوگوں کوپاسپورٹ نہیں مل رہا ہے ۔ پاسپورٹ نہ ہونے سے لوگ عمرہ کرنے نہیں جا پا رہے ہیں۔اس طرح کی شکایات کے موصول ہونے پر ہم نے جمعہ کو تھانےکے پولیس کمشنر اسوتوش ڈومبرے سے وفدکی شکل میں ملاقات کی۔ پولیس کمشنر نے ہماری شکایت پر فوری طور پر اپنی کارروائی شروع کردی ہے۔‘‘