ملزم خواتین پولیس کی حراست میں، مہاتما پھلے پولیس کی جانب سے تفتیش ۔
EPAPER
Updated: November 08, 2026, 1:07 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan
ملزم خواتین پولیس کی حراست میں، مہاتما پھلے پولیس کی جانب سے تفتیش ۔
معمولی بات پر ایک مسلم دوشیزہ کو بے رحمی سے زد وکوب کرنے کا سنسنی خیز واقعہ سامنے آنے کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ متاثرہ لڑکی ایک کلینک میں ملازمت کرتی ہے جہاں پیش آنے والے معمولی تنازع نے اس وقت سنگین رخ اختیار کرلیا جب ۴؍ خواتین نے اسے بری طرح پیٹ ڈالا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مہاتما پھلے پولیس حرکت میں آگئی اور لڑکی کو زد وکوب کرنے والی چاروں خواتین کو حراست میں لے لیا۔ خبر لکھے جانے تک پولیس متاثرہ لڑکی کا بیان درج کرکے واقعہ کی مزید تفصیلات حاصل کرنے میں مصروف تھی۔
تفصیلات کے مطابق سرودے مال کی تیسری منزل پر خصوصی بچوں کے لئے ایک کلینک قائم ہے جہاں ۲۰ ؍سالہ عائشہ نامی لڑکی ملازمت کرتی ہے۔ عائشہ کی ذمہ داری خصوصی بچوں کو بولنے کی مشق کروانا ہے۔سنیچر کی شام وہ معمول کے مطابق اپنے کام میں مصروف تھی کہ اسی دوران کلینک میں کام کرنے والی ایک خاتون نے کسی بات پرناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اچانک عائشہ کو زور دار تھپڑ رسید کردیا۔ الزام ہے کہ اس کے بعد کلینک کی ہیڈ ڈاکٹر نے بھی یہ کہتے ہوئے عائشہ پر ہاتھ اٹھانا شروع کردیا کہ وہ ہمیشہ غلطیاں کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: میونسپل کارپوریشن کی آلودگی سے پاک دیوالی کی اپیل
معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ کلینک میں موجود دو دیگر خواتین نے بھی عائشہ کو مبینہ طور پر بری طرح پیٹا اور اس کا موبائل فون بھی چھین لیا۔اچانک پیش آنے والے اس واقعہ سے خوفزدہ عائشہ کسی طرح وہاں سے نکل کر سیدھے اپنے گھر پہنچی اور اپنی والدہ کو پورا واقعہ سنایا۔ بیٹی کی آپ بیتی سننے کے بعد اہل خانہ نے فوری طور پر مہاتما پھلے پولیس اسٹیشن سے رابطہ کرکے شکایت درج کروائی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر ساریکا، منیشا، مینا اور منیکا نامی۴؍ خواتین کو حراست میں لے لیا اور انہیں پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔
خبر لکھے جانے تک مہاتما پھلے پولیس کی جانب سے متاثرہ لڑکی کا بیان درج کرنے اور واقعے کی مزید تحقیقات کی کارروائی جاری تھی۔