• Sun, 08 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

الہاس نگر: فضائی آلودگی کے پیش نظر میونسپل انتظامیہ متحرک

Updated: November 08, 2026, 1:06 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Ulhasnagar

پٹاخوں سے ہونے والی آلودگی اور شور سے پریشانی کی شکایت کیلئے میونسپل کارپوریشن نے ٹول فری نمبرجاری کیا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

دیوالی کے موقع پر فضائی آلودگی کے سنگین خطرات اور شہریوں کو درپیش سانس و صحت سے متعلق مسائل کے پیش نظر میونسپل انتظامیہ پوری طرح متحرک ہو گیا ہے۔ موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی فضا میں بڑھتی خنکی اور زہریلے ذرات کے ارتکاز کی وجہ سے گزشتہ چند دنوں میں الہاس نگر کی فضا ناہمواری کا شکار ہوئی ہے اور ایئر کوالٹی انڈیکس ( اے کیو آئی) مسلسل ابتری کی جانب گامزن ہے۔اس بگڑتی صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے الہاس نگر میونسپل کارپوریشن نے سخت ضابطے نافذ کر دئیے ہیں اور شہریوں کے تعاون کے لئے خصوصی مانیٹرنگ کا نظام تشکیل دیا ہے۔
الہاس نگر میونسپل کارپوریشن کے محکمہ ماحولیات نے واضح کیا ہے کہ پٹاخوں کی آلودگی پر قابو پانے اور غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کیلئے   ایک مخصوص ٹول فری نمبر۱۸۰۰۲۳۳۱۱۰۱؍ فعال کر دیا گیا ہے۔ شہری اس ہیلپ لائن پر قواعد کی خلاف ورزی یا ضرورت سے زیادہ تیز آواز والے پٹاخوں کے استعمال اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کی شکایت فوری طور پر درج کرا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ریزرو ہی نہیں تتکال ٹکٹ کی فراہمی بھی انتہائی مشکل مرحلہ

انتظامیہ نے عوام سے پُرزور اپیل کی ہے کہ وہ خطرناک وممنوعہ پٹاخوں کی خرید و فروخت سے مکمل گریز کریں اور رواں سال ماحول دوست اورآلودگی سے پاک دیوالی منانے کو ترجیح دیں۔  انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق حکومتِ ہند کے واضح نوٹیفکیشن کی روشنی میں ۱۲۶ ؍ڈیسیبل سے زیادہ کی آواز پیدا کرنے والے تمام پٹاخوں کی تیاری، فروخت اور استعمال پر مکمل ممانعت عائد ہے۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت بیریم سالٹ، لیتھیم، آرسینک، سیسہ اور پارہ جیسے زہریلے کیمیکل پر مشتمل پٹاخوں پر سختی سے پابندی عائد کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیمیائی اجزا فضا میں مل کر جان لیوا زہریلی گیس پیدا کرتے ہیں جو نہ صرف انسانی صحت بلکہ نباتات اور چرند پرند کے لئے بھی شدید مہلک ثابت ہوتے ہیں۔
ہائی کورٹ کے وضع کردہ احکامات کی پاسداری کو لازمی قرار دیتے ہوئے دکانداروں کو سخت تنبیہ جاری کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی پٹاخے کی فروخت سے باز رہیں۔ میونسپل انتظامیہ نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ پٹاخے صرف وہی افراد فروخت کر سکتے ہیں جنہوں نے کارپوریشن سے باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کیا ہو اور یہ فروخت صرف انتظامیہ کی جانب سے مختص کردہ مخصوص مقامات پر ہی کی جا سکے گی۔ حکومتِ مہاراشٹر کی ’ماجھی وسندھرا‘ اور سوچھ سرویکشن ۲۰۲۶ءکا حوالہ دیتے ہوئے میونسپل حکام نے شہریوں سے استدعا کی ہے کہ وہ روایتی پٹاخوں کے بے جا استعمال سے پرہیز کریں اور پلاسٹک کے بجائے کپڑے یا کاغذ کے تھیلوں کو اپنائیں اور شہر کو صاف، سرسبز اور محفوظ رکھنے میں شہری ذمہ داری کا ثبوت دیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK