گھروں سے خالی سلنڈر لے کر بھرا سلنڈر دینے کا یقین دلاکر باپ اور بیٹا فرار،پولیس میں شکایت ،گیس ایجنسی نے صارفین کو متنبہ کیا۔
گیس سپلائی۔ تصویر:آئی این این
ممبرا میں بھرے ہوئے گیس سلنڈر جلدی ڈیلیوری کرنے کا جھانسہ دے کر ڈیلیوری بوائے کے ہیلپرنے ۳۶؍ سے زیادہ صارفین کے خالی سلنڈر لئے لیکن اس کے بدلے بھرا سلنڈر انہیں نہیں دیا۔ کئی دن گزر جانے کےباوجود جب صارفین کو سلنڈر نہیں ملا تو انہوں نے ہنگامہ کیا اور مقامی سوشل ورکر کے ساتھ گیس ایجنسی اور اس کےبعد ممبرا پولیس اسٹیشن پہنچ کر شکایت درج کرائی۔ گیس ایجنسی کا کہنا ہےکہ جس نے یہ چوری کی ہے وہ ایجنسی کا ملازم نہیں بلکہ ڈیلیوری بوائے کےہیلپر ہیں۔ البتہ پولیس معاملے کی جانچ کررہی ہے۔ یہ معاملہ ممبرا جیون باغ علاقے میں ہندوستان پیٹرولیم کی شری یوگیش گیس ایجنسی کےصارفین کے ساتھ ہوا۔
اس سلسلےمیں صارفین کےساتھ گیس ایجنسی کے دفتر آنے والے جیون باغ کے سوشل ورکر شکیل شیخ نے بتایا کہ ’’امتیاز علی چپلونکر عرف علی نام کا شخص متعدد گھروں سے خالی سلنڈر لے گیا لیکن انہیں بھرا ہوا سلنڈر نہیں دیا جس کی وجہ سے خواتین پریشان تھیں۔‘ ‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب تک ہمارے پاس ۳۶ ؍ تا ۵۰؍ صارفین کے نام اور فون نمبر آ چکے ہیں جن کے ساتھ اس نے ٹھگی کی ہے ۔یہ سلسلہ تقریباً مہینے بھر سے چل رہا ہے۔
اس سلسلے میں ایک متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ’’ امتیاز میرے گھر سے بھی خالی گیس سلنڈر لے کر گیا ہے اور یقین دلایا تھا کہ ایک ۲؍ دن میں بھرا ہوا سلنڈر دے جائے گا لیکن کئی دن گزر جانے کے باوجود سلنڈر نہیں لایا ۔وہ کئی دنوں سے ہمارے علاقے میں ایچ پی کے یونیفارم میں ہی سلنڈر سپلائی کررہا تھااسی لئے اس پر یقین کر کے سلنڈر اسے دے دیا تھا۔ اس سے پہلے بھی اس نے ہمیں گیس سلنڈر سپلائی کیا ہے ۔علی اور اس کا بیٹا عمران دونوں گیس سلنڈر سپلائی کرتے تھے اور اب دونوں ہی فرار ہیں۔ انہوںنے مزید کہا کہ ’’ ایچ پی گیس ایجنسی کا سمادھان نام کے ڈیلیوری بوائے نے ان دونوں کو سلنڈر سپلائی کرنے کیلئے رکھا تھا۔‘‘
گیس ایجنسی کی منیجر نے کیا کہا؟
ایچ پی کی شری یوگیش گیس ایجنسی کی منیجر اشونی جوشی نے اس بارے میں بتایا کہ جیون باغ علاقے کے سمادھان نام کا ڈیلوری بوائے ۲۰۱۲ء سے اس ایجنسی میں کام کر رہا ہے۔اس نے علی اور اس کے بیٹے کو سلنڈر سپلائی کرنے کیلئے ہیلپرکے طور پر رکھا تھا۔ گزشتہ روز مقامی سوشل ورکر کے ساتھ چند صارفین ہمارے پاس آئے اور شکایت کی کہ علی نے کئی صارفین کے گھروں سے خالی گیس سلنڈر لئے لیکن انہیں بھرا ہوا گیس سلنڈر سپلائی نہیں کیا۔ اس کے خلاف ہم نے ممبرا پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آردرج کی ہے اور پولیس اس کی جانچ کر رہی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’ جب سمادھان علاقے میں گیس سپلائی کرنے گیا تو صارفین اس کے جھگڑا کرنے لگے اور اس کے پاس سے بھرے ہوئے سلنڈر اٹھاکر بھاگنے لگے تب سمادھان کو علی اور اس کے بیٹےکی کرتوت کا پتہ چلا۔‘‘منیجر نے بتایا کہ علی اور اس کا بیٹا گیس ایجنسی کا ملازم نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں تنخواہ دی جاتی ہے۔
بھرا ہوا سلنڈر لئے بغیر خالی سلنڈر نہ دیں
منیجر سے یہ سوال پوچھنے پر کہ جب بھرا ہوا سلنڈر سپلائی کیاجاتا ہے تب ہی خالی گیس سلنڈر لیاجاتا ہے تو پھر صارفین سے خالی سلنڈر کیوں لیا گیا؟ اس تعلق سے اشونی جوشی نے کہاکہ’’ گزشتہ دنوں مَیں خود جیون باغ گئی تھی اور وہاں کےصارفین سے اپیل کی تھی کہ وہ بھرا ہوا سلنڈر لئے بغیر کسی کو بھی خالی سلنڈر نہ دیں ، اس کے باوجود صارفین نے خالی سلنڈر انہیں دیا ہے۔ اس میں ہماری غلطی نہیں ہے۔اس لئے ہم ذمہ دار نہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہاکہ اگر ڈیلیوری بوائے سمادھان اس معاملہ میں ملوث پایاجاتا ہے تو اسے نوکری سے نکال دیا جائے گا۔