ممبرا: اسکالر شپ کی اسکیموں سے آگاہ کرنے کیلئے ورکشاپ

Updated: September 13, 2021, 12:39 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbra

اپنے کورس کے مطابق اسکالر شپ کا انتخاب کیجئے اور ضروری دستاویزات کے ساتھ فارم پُر کیجئے: ماہرین

Picture.Picture:INN
سابق جوائنٹ سیکریٹری ( منترالیہ) عین العطار سمینار ۔ تصویر: آئی این این

حکومت کی جانب  سےاسکالر شپ کی متعدد اسکیموں سے ممبرا کوسہ کے طلبہ ،سرپرستوں، سوشل ورکروں اور غیر سرکاری  تنظیموں کو آگاہ کرنے کی غرض سے الامداد فاؤنڈیشن کی جانب سے اتوار کو ایک سمینار کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس سمینار میں مرکزی اور ریاستی حکومت کی اسکالر شپ کی متعدد اسکیموں کے تعلق سے تفصیلی معلومات دی گئی۔ماہرین نے شرکاء سے درخواست کی کہ وہ  اپنے بچوں کے کورس کے مطابق اسکالر شپ کا انتخاب کریں اور مکمل دستاویز پُر کر کے اسکالر شپ حاصل کریں۔
 قسمت کالونی روڈ پر واقع خدیجہ ہال میں مذکورہ سمینار کی کامیابی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ہال سرپرستوں سے پوری طرح بھر گیا تھااورمتعدد خواتین نے کھڑے کھڑے ہی پروگرام  میں حصہ لیا۔ چند سرپرستوں نے ماہرین کی تقریر کا ویڈیو بھی بنایا ۔ منترالیہ کی سابق جوائنٹ سیکریٹری عین العطار نے بتایا کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے بعد   مرکزی اورریاستی حکومت نے کئی اسکیمیں شروع  کی ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ طلبہ غربت کے سبب تعلیمی سلسلہ منقطع نہ کریں۔ تعلیم کیلئے ۵؍ ہزار سے لے کر ۲۵؍ ہزار اور چند اسکیموں میں تو اس سے بھی زیادہ اسکالر شپ دی جاتی ہے۔ پری میٹرک پوسٹ میٹرک ، میرٹ کم مینس کے علاوہ راجر شی چھتر پتی شاہو مہاراج اسکالر شپ ( برائے ڈپلومہ ، گریجوکیشن ، پوسٹ گریجویشن)، مائناریٹی سیکنڈ شفٹ اسکالر شپ اور دیگر اسکیمیں شروع کی گئی ہیں لیکن اکثر طلبہ اور سرپرستوں کو اس کا علم نہیں ہوتا جس کے سبب وہ ان اسکیموں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا اپنے کورس اور اہلیت کے مطابق اسکیم کا انتخاب کریںاور ضروری دستاویز کے ساتھ آن لائن فارم پُر کریں۔
 دانش لامبے نے اسکالر شپ کیلئے ۱۰؍ اہم دستاویز کے تعلق سے تفصیل پیش کی ۔ پروگرام میںدیگر مقررین نے بھی اہم معلومات دیں۔

mumbra mumbai Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK