ان کی وکیل نے کے آر کے کی گرفتاری کو غیرقانونی بتایا تھا اور دیگر دلائل دیئے تھے جس پر عدالت نے ضمانت کی عرضی قبول کرلی۔
EPAPER
Updated: February 01, 2026, 3:56 PM IST | Mumbai
ان کی وکیل نے کے آر کے کی گرفتاری کو غیرقانونی بتایا تھا اور دیگر دلائل دیئے تھے جس پر عدالت نے ضمانت کی عرضی قبول کرلی۔
فائرنگ کے کیس میں اداکار کمال راشد خان (کے آر کے) کو ۲۵؍ ہزار روپے کے ذاتی مچلکہ پر عبوری ضمانت دے دی گئی تھی اور سنیچر کو وہ جیل سے رہا ہوگئے ہیں۔ ان کی وکیل نے کے آر کے کی گرفتاری کو غیرقانونی بتایا تھا اور دیگر دلائل دیئے تھے جس پر عدالت نے ضمانت کی عرضی قبول کرلی۔
یہ بھی پڑھئے: نل بازاراور اندھیری میں انہدامی کارروائی ،کاروباری پریشان
اداکار کی وکیل ثناء رئیس خان نے عدالت میںاپنے موکل کے خلاف کی گئی پولیس کارروائی میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی تھی مثلاً ملزم پر بھارتیہ نیائے سنہیتا کی غلط دفعہ کا اطلاق کیا گیا ہے۔ اگرچہ ان پر دفعہ ۱۱۰؍ کا اطلاق کیا گیا ہے جس پر سیشن کورٹ کو سماعت کا اختیار ہے لیکن بادی النظر میں یہ دفعہ اس کیس پر عائد نہیں ہوتی اس لئے مجسٹریٹ کورٹ نے انہیں ضمانت دے دی۔
وکیل نے یہ بھی دلیل دی تھی کہ اس کیس میں استغاثہ یہ ہی نہیں بتاپارہا ہے کہ ملزم کی نیت کیا تھی اور یا اسے یہ علم تھا کہ گولی کہاں گئی۔ ان پر ایسا الزام نہیں ہے کہ انہوں نے عمارت کی طرف یا کسی فرد کی طرف نشانہ لگا کر گولی چلائی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کانگریس کے نظریات کو زمینی سطح تک لے جانے کیلئے ’ٹیلنٹ ہنٹ‘ مہم
انہوں نے یہ بھی کہا کہ واقعہ کے ۶؍ دن گزرنے کے بعد پولیس نے کسی شخص کا بیان لکھ دیا ہے جس کا نام بھی ریمانڈ درخواست میں بتایا نہیں گیا ہے جو کہہ رہا ہے کہ ہاں فائرنگ ان کی بلڈنگ سے ہی ہوئی تھی۔انہوں نے نشاندہی کی کہ کے آر کے پاس پستول کا لائسنس ہے اور اس سے گولی محض ۲۰؍ سے ۳۰؍ میٹر دور تک جاسکتی ہے جبکہ جس عمارت سے کارتوس کے خول برآمد ہوئے ہیں وہ ان کے موکل کی رہائش گاہ سے تقریباً ۱۵۰۰؍ میٹر دور ہے۔ اس لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ یہ گولیاں ان کے آتشیں اسلحہ سے چلائی گئی ہوں۔ مزید یہ کہ کارتوس کے تعلق سے پولیس کے پاس کوئی سائنسی ثبوت مثلاً بیلیسٹک رپورٹ نہیں ہےجس سے ثابت ہوکہ یہ کے آر کے کی پستول سے چلائی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: آج سے سی ایس ایم ٹی میں پلیٹ فارم نمبر ۱۶؍اور ۱۷؍بند
انہوں نے کے آر کے کی گرفتاری کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں گرفتاری سے پہلے لازمی نوٹس نہیں دیا گیا اورسپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق انہیں گرفتاری کی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔