• Sun, 01 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اصغرعلی میموریل لیکچر:سینئر وکلاء کی حکومت پر تنقیدیں،عدالتوں کو بھی نشانہ بنایا

Updated: February 01, 2026, 4:29 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

ایڈوکیٹ دُشینت دوے اور ایسپی چنائی نے کہاکہ موجودہ سیاستداں اپنے مفاد کیلئے آئین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں اور اس کے بقاکیلئے عوام کو کھڑا ہونا پڑے گا جیسا کہ کسانوں نے اپنے حق کی لڑائی لڑی تھی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اصغر علی انجینئر میموریل کے ۲۷؍ ویں لیکچر میں ملک کے معروف وکلاء دُشینت دوے اور ایسپی چنائی نے سیاستدانوں پر سخت تنقیدیں کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی مفاد کیلئے سیاسی پارٹیاں آئین پر اس طرح عمل نہیں کرتیں جیسا کرنے کی ضرورت ہے اور ملک اور عوام کے مفاد کو نقصان پہنچا رہی ہیں جس کی مثال یہ ہے کہ جان بوجھ کر ضرورت سے کم ججوں کی تقرری کی جاتی ہے جس کہ وجہ سے لاکھوں کیس التواء میں پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں کہی گئی باتوں پر عمل نہ کیا جائے تو یہ کھوکھلے جملوں کے سوا کچھ نہیں اور تبدیلی کیلئے عوام کو کھڑا ہونا پڑے گا۔ 

یہ بھی پڑھئے: گوونڈی خواجہ اجمیری بینر معاملہ: پولیس کانوٹس جاری، گرفتاری کا بھی انتباہ

اس پروگرام میں امریکہ سے آئے ہوئے سائنسداں وحید مقدم نے بھی خطاب کیا جو مرحوم اصغر علی انجینئر کے دوستوں میں سے ہیں۔ انہوں نے اصغر علی انجینئر کی بے لوث خدمات کے تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار کیا جبکہ دونوں سینئر وکلاء نے ملک کی ہر بڑی سیاسی پارٹی کا نام لے کر انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ اپنائے جارہے سوتیلے رویے پر سخت اظہار تشویش بھی کیا۔ 

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل دُشینت دوے نے ’’آئین جیسا کہ اس کے معماروں نے تصور کیا تھا اور اس کی عصری تشریح‘‘ کے عنوان پر سیر حاصل طویل لیکچر دیا جس میں انہوں نے کئی اہم موضوعات پر گفتگوکی۔ انہوں نے کہا کہ ’’برسراقتدار حکومت اپوزیشن مکت بھارت بنانا چاہتی ہے اور میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ بہت جلد وہ اپنے اس ہدف کو پورا کرلیں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: فائرنگ کیس میں اداکار کمال راشد خان جیل سے ضمانت پر رہا ہو گئے

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ہمارے ملک میں بولنے کی آزادی ہے لیکن کہنے کے بعد آزادی باقی نہیں رہتی۔‘‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت گورنروں کا استعمال کررہی ہے اور یہ گورنر صرف دہلی سے ملنے والی ہدایات پر عمل کرتے ہیں، اپنے مشیروں کے مشوروں پر عمل نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو، مغربی بنگال، جھار کھنڈ اور دیگر کئی ریاستوں میں ایسا ہورہا ہے۔ اصل میں گورنر صرف مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کے درمیان کڑی ہوتے ہیں لیکن اب اس قوت کا بھی ناجائز فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔

ان کے مطابق ڈاکٹر امبیڈکر اور دیگر افراد نے عدالت کو ذمہ داری سونپی تھی کہ وہ پارلیمنٹ اور حکومت کو غلط کام نہ کرنے دیں لیکن عدلیہ اس تعلق سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہے۔ عدالتوں کا قیام آئین اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے عمل میں آیا تھا لیکن یہ اس میں بھی وہ ناکام ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر صرف یو پی میں ۶۰۰؍افراد کو فرضی انکائونٹر میں مارا جاسکتا ہے اور اس پر حقوق انسانی کمیشن کوئی سوال نہیں اٹھاتا، سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ نے اپنی آنکھیں بند رکھی ہیں تو کیا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’بڑی تعداد میں عوام بھی ان انکائونٹر کو جائز مانتے ہیں کہ چند بُرے افراد سے چھٹکارا مل گیا لیکن یہ کون طے کرے گا کہ وہ بُرے لوگ ہیں، انہیں قانون کا سامنا کرائو اور عدالت کو کہنے دو یہ بُرے لوگ ہیں اور اگر عدالت کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ اتنے بُرے ہیں تو انہیں سزائے موت دے لیکن عوام سیاستدانوں اور پولیس کے ذریعہ اس کا فیصلہ کروانا چاہتے ہیں تو ملک محفوظ نہیں ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ کبھی بھی کسی کو بھی چُن لیا جائے گا اور انکائونٹر میں مار دیا جائے گا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: نل بازاراور اندھیری میں انہدامی کارروائی ،کاروباری پریشان

مسلمانوں کے تعلق سے حکومت کے رویہ پر انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو مخصوص بستیوں تک محدود کیا جارہا ہے۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ میں احمدآباد میں جس جگہ رہتا ہوں وہاں عظیم پریم جی بھی گھر نہیں خرید سکتے۔ انہوں نے مثال دی کہ ان کے ایک مسلمان دوست نے ایک ہندو کالونی میں گھر خرید لیا تھا لیکن ایک مہینے میں اس خریدو فروخت کو باطل قرار دے دیا گیا، اس شخص کو گھر واپس دینا پڑا اور جس رجسٹرار نے رجسٹری کی تھی اسے ملازمت سے معطل کردیا گیا تھا۔ 

سینئر کائونسل ایسپی چنائی نے کہا کہ آئین محض جملے ہیں، آئین آزادی یا حقوق کو محفوظ نہیں بناسکتے جب تک اسے نافذ کرنے والی ایجنسیاں اور عوام اس پر عملدرآمد نہ کریں۔ 

انہوں نے کہا کہ ۱۹۵۰ء میں ہندوستان نے جمہوری اور آئین پر چلنے والے ملک کے طور پر شروعات کی تھی لیکن اسی وقت ہندو راشٹر کا نظریہ رکھنے والے افراد بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو راشٹر کا موضوع ۱۹۳۰ء میں ہی شروع ہوگیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان ہندو ملک ہے ۔

یہ بھی پڑھئے: این سی پی کے انضمام کا فیصلہ نئی قیادت کرے گی : شردپوار

ایسپی چنائی اور دشینت دوے نے گاندھی جی، جواہر لال نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اور ان جیسے افراد نے ملک کی جمہوریت کو سنبھالا جبکہ ایس پی چنائی نے اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور نرسمہا رائو کے خالص سیکولر ہونے پر سوال اٹھائے۔ انہوں  نے  راجیو گاندھی کے ذریعہ سیاسی مفاد کیلئے بابری مسجد کے دروازے کھلوانے کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق ان سب چیزوں کی وجہ سے ملک کی سیاست آج موجودہ شکل میں موجود ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK