شیوسینا (یوبی ٹی ) لیڈر سنجے راؤت نے شندے کو ’جئے چند ‘قراردیتے ہوئے مہایوتی پر جم کر تنقید کی ، جواب میں سنجے نروپم نے ادھو ٹھاکرے کو جئے چند کہا، ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے کی اہلیہ شرمیلا نے کہا کہ انتخابات پیسوں کے زور پر جیتے گئے
EPAPER
Updated: January 18, 2026, 8:55 AM IST | Mumbai
شیوسینا (یوبی ٹی ) لیڈر سنجے راؤت نے شندے کو ’جئے چند ‘قراردیتے ہوئے مہایوتی پر جم کر تنقید کی ، جواب میں سنجے نروپم نے ادھو ٹھاکرے کو جئے چند کہا، ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے کی اہلیہ شرمیلا نے کہا کہ انتخابات پیسوں کے زور پر جیتے گئے
مہاراشٹر میونسپل کارپوریشن انتخابات کے نتائج پر شیو سینا (یو بی ٹی) کے لیڈر سنجے راؤت نے ممبئی میں پریس کانفرنس کر کے حکمراں اتحاد (مہایوتی) پر شدید تنقید کی۔ راؤت نے صاف طور پر کہا کہ بی جے پی شندے گروپ کی جیت کو مکمل اکثریت کی جیت نہیں مانا جانا چاہیے، کیونکہ میونسپل کارپوریشن کے ایوان میں اپوزیشن آج بھی مضبوط پوزیشن میں ہے۔
سنجے راؤت نے یہ بھی کہا کہ سرکاری وسائل کے بل پر انتخاب لڑا گیا، اس کے باوجود مقابلہ برابر کا رہا۔راؤت نے دعویٰ کیا کہ اجیت پوار اب زیادہ دن اقتدار میں نہیں رہ سکتے۔ ان کے مطابق بی جے پی کے اندر اجیت پوار کو لے کر ناراضگی ہے اور آنے والے وقت میں اجیت پوار اور شرد پوار کی پارٹی دوبارہ ایک ہو سکتی ہے۔ راؤت نے کہا’’ایم این ایس کو۶؍ سیٹیں ملی ہیں اور وہ بہت سی سیٹیں معمولی فرق سے ہار گئی۔ شیو سینا کی بھی تقریباً ۱۲-۱۳؍ سیٹیں ایسی ہیں جہاں ہم بہت کم ووٹوں سے ہارے ہیں۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر یہ سیٹیں جیت لی جاتیں تو آج ممبئی کی سیاسی تصویر کچھ اور ہوتی۔ راؤت کے مطابق بی جے پی شندے گروپ کے پاس صرف۴؍ سیٹوں کی اکثریت ہے۔راؤت نے دو ٹوک انداز میں کہا،’’ہم ممبئی کو بڑے تاجروں کی جیب میں نہیں جانے دیں گے اور نہ ہی ٹھیکیداروں کی حکمرانی آنے دیں گے۔‘‘ راؤت نے شکست کی ایک بڑی وجہ پارٹی کے اندر موجود غداروں کو بتایا۔ انہوں نے کہا،“ہماری پارٹی میں کچھ ‘جے چند’ تھے۔ اگر یہ جے چند پیدا نہ ہوتے تو بی جے پی کی۱۰۰؍ نسلیں بھی میئر نہیں بنا پاتیں۔” سنجے راؤت نے دعویٰ کیا کہ اس انتخاب کے بعد شندے گروپ کا زوال طے ہے اور اب بی جے پی کو ان کی ضرورت نہیں رہی۔
شندے سینا لیڈر سنجے نروپم نے ادھو کو ہدف تنقید بنایا
شیو سینا شندے کے لیڈرسنجے نروپم نے میونسپل کارپوریشن انتخابات میں شیو سینا (یو بی ٹی) کی شکست پر طنز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مہاراشٹر کی سیاست میں کوئی جے چند ہے تو وہ یو بی ٹی کے سربراہ ادھو ٹھاکرے ہیں۔ انہوں نے۲۰۱۹ء میں بی جے پی کے ساتھ انتخاب لڑ کر جس طرح شیو سینا کے سربراہ بالاصاحب ٹھاکرے کے ہندوتوا نظریے سے غداری کی اور پھر کانگریس اور شرد پوار کے ساتھ ہاتھ ملایا، یہی جے چندی ذہنیت ہے۔ اسی ذہنیت کی وجہ سے ان کے ہاتھ سے پوری پارٹی نکل گئی۔ ایکناتھ شندے بہادر اور پُرعزم شیو سینک ہیں، جنہوں نے شیو سینا سربراہ کے نظریات کی بنیاد پر شیو سینا کو دوبارہ درست راستے پر لایا اور بی جے پی کے ساتھ ہندوتوا نظریے سے متاثر حکومت قائم کی۔‘‘
’’بی جے پی نے پیسوں کے زور پر الیکشن جیتا‘‘
مہاراشٹر نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے کی اہلیہ شرمیلا ٹھاکرے نے نتائج پر کہا کہ ’’شیوسینا ادھو اور ایم این ایس نے بخوبی مقابلہ کیا۔‘‘ بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میونسپل الیکشن میں روپے پیسے کی ریل پیل رہی اور طاقت کے بل پر یہ الیکشن جیتا گیا۔‘‘