عراقی الیکشن میں مقتدیٰ الصدر کی پارٹی کو برتری مگر نتائج پر تنازع

Updated: October 13, 2021, 7:52 AM IST | Baghdad

نوری المالکی کی پارٹی دوسرے نمبر پر پہنچ گئی، ابتدائی رجحانات کے بعد کئی پارٹیوں نے انہیں چیلنج کرنے کا اعلان کیا، نتائج کو ’’چھیڑ چھاڑ پر مبنی‘‘ اور ’’فراڈ‘‘ کا نتیجہ قراردیا

Muqtada al-Sadr`s party has emerged as the largest party in Iraq`s National Assembly. His supporters celebrate the victory. (Photo: Agency)
مقتدیٰ الصدر کی پارٹی عراق کی قومی اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی بن کرابھری ہے۔اس لئے ان کا وزیراعظم بننےکا بھی امکان ہے۔ ان کے حامی فتح کا جشن مناتے ہوئے۔ (تصویر: ایجنسی)

 عراق میں اتوار کو منعقد ہونے والے پارلیمانی الیکشن  کے ابتدائی نتائج میں   ملک کےشیعہ مذہبی پیشوا مقتدیٰ الصدر کی پارٹی کو واضح اکثریت ملتی ہوئی نظر آرہی ہے۔  یاد رہے کہ ۲۰۰۳ء کے امریکی حملے اور صدام حسین کو اقتدار سے  بے  دخل کرنے  کے بعد عراق میں  ہونے  والے  پانچویں عام انتخابات  میں سب سے کم یعنی  ۴۱؍ فیصد ووٹنگ ہی ہوئی ہے۔ مقتدیٰ  الصدر کی پارٹی  ۳۲۹؍ رکنی اسمبلی میں   ۷۳؍ سیٹوں پر فتح حاصل کرکے سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرتی ہوئی نظر آرہی ہے جس  کے بعد الصدر کے وزیراعظم بننے کے امکانات بھی روشن ہوگئے ہیں  مگر دیگر پارٹیوں نے ان نتائج کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے چیلنج کرنے کافیصلہ کیا ہے۔ ان میں اکثریت ایران حامی پارٹیوں کی ہے۔ 
نوری المالکی کی پارٹی دوسرے نمبر پر 
 ابتدائی نتائج کے مطابق سابق وزیراعظم نوری المالکی کی قیادت  والی جماعت دوسرے نمبر پرہے۔ الفتح اتحاد جو   ۴۸؍ سیٹوں کے ساتھ اسمبلی میں دوسری پوزیشن پر تھا وہ اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق درجن بھر نشستوں تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔  الفتح اتحاد اور دیگر پارٹیوں نے مشترکہ طورپر انتخابی نتائج کو مسترد کردیا ہے۔ 
نتائج کو چیلنج کرنے کا اعلان 
  اپوزیشن کی جانب سے جاری کئے گئے  مشترکہ بیان   کے مطابق ’’ہم نتائج کو خارج کرتے  اورانہیں چیلنج کریں گے۔‘‘ بیان پر دستخط کرنے والوں  میں ۲۰۱۴ء سے ۲۰۱۸ء کے درمیان وزیراعظم رہنے والے حیدرا لعابدی کی پارٹی کے ذمہ دار بھی شامل ہیں۔اس میں مزید کہاگیا ہے کہ ’’ووٹوں کے ساتھ چھیر چھاڑ کو روکنے کیلئے ہم ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔‘‘ مقتدیٰ الصدر کے زیرقیادت بلاک نے۲۰۱۸ء  میں ۵۴؍نشستیں جیتی تھیں اور حکومتوں کی تشکیل میں اہم   رول ادا کیا  تھا۔وہ عراق میں تمام غیرملکی مداخلت کی مخالف ہیں اور ایران کو بھی اس معاملے میں تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔
 احتجاجی تحریکوں سے ابھرنے والوں کو فائدہ 
 پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج سے یہ بھی ظاہر ہورہا ہے۲۰۱۹ءمیں عراق میں بے روزگاری ، مہنگائی اور ارباب اقتدار کی  بدعنوانیوں کے خلاف احتجاجی تحریک سے ابھرنے والے اصلاحات کے حامی امیدواروں نے۳۲۹؍رکنی  اسمبلی میں  کئی نشستیں حاصل کی ہیں۔ 
 نئے قانون کے تحت قبل ازوقت انتخاب ہوا
 عراق میں یہ پارلیمانی انتخابات نئے قانون کے تحت قبل از وقت منعقد کیےگئے ہیں۔ وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی نے یہ قانون سیاسی جماعتوں کی اقتدار پر مضبوط گرفت کو کمزور کرنے اور اصلاحات کے حامی امیدواروں کی راہ ہموار کرنے کے طریقے کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ اس کے تحت انتخابی حلقوں کو چھوٹا کر دیا گیا  ہے اور پارٹیوں کی سرپرستی میں امیدواروں کی فہرستوں کو نشستیں دینے کا طریقہ بھی ترک کردیا گیا ہے۔
ووٹنگ کافیصد انتہائی کم رہا
 عراق میں اتوار ۱۰؍اکتوبر کو ہونے والے   انتخابات میں حیرت انگیز طور پر بہت کم رائے دہندگان نے حصہ لیا۔۲۰۱۹ء میں ملک میں نوجوانوں کی قیادت میں ایک عوامی تحریک شروع ہوئی تھی جس نے ملک میں ایک طوفان برپا کیا اور اسی سے حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس کے بعد یہ پہلے پارلیمانی انتخابات تھے۔حکومت مخالف کارکنان کے وسیع انتخابی بائیکاٹ کی وجہ سے عراق کی نوجوان آبادی میں  زیادہ جوش و خروش نہیں  اور انہوں نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔ 

iraq Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK