Updated: September 16, 2026, 4:09 PM IST
| Murshidabad
مرشد آباد کے سوتی علاقے کے رہائشی ۶۱؍ سالہ بزرگ کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں بنگلہ دیشی شہری ہونے کے شبہہ میں دیر رات ان کے گھر سے اٹھایا گیا اور بعد میں سرحد پار بنگلہ دیش بھیج دیا گیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ جس وقت سے انہیں لے جایا گیا ہے تب سے وہ ان کے پتے یا حالت کی تصدیق کرنے سے قاصر ہیں اور انہیں انتظامیہ کی جانب سے کوئی سرکاری معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
رماکانتا پور گاؤں کے رہائشی ابراہیم شیخ۔ تصویر: ایکس
سوتی پولیس اسٹیشن کے تحت رماکانتا پور گاؤں کے رہائشی ابراہیم شیخ کو ۲۸؍ جولائی کی رات تقریباً ۲؍ بجے ان کے گھر سے اٹھایا گیا تھا۔ اہل خانہ کے مطابق، پولیس اہلکاروں نے انہیں لے جانے سے پہلے ان کے شہریت کے دستاویزات کے بارے میں پوچھ گچھ کی تھی۔ بعد میں مقامی ذرائع سے خاندان کو معلوم ہوا کہ ابراہیم کو مبینہ طور پر بنگلہ دیش کی سرحد میں دھکیل دیا گیا ہے لیکن انہیں اس بات کی کوئی رسمی اطلاع نہیں دی گئی کہ انہیں کہاں رکھا گیا ، ان کی حراست کی قانونی بنیاد کیا ہے یا اس دوران کس قانونی طریقہ کار پر عمل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: سنبھل کےمسلم ٹیچر کو بڑی راحت،ہائی کورٹ نےمعطلی کے حکم پر روک لگائی
ابراہیم کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ بنگلہ دیش سے ہجرت کر کے نہیں آئے بلکہ ان کے آباؤ اجداد نسلوں سے اسی علاقے میں رہتے آئے ہیں ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس آدھار کارڈ، پین کارڈ اور ووٹر آئی ڈی کارڈ کے علاوہ ۱۹۴۶؍ کاایک قدیم خاندانی دستاویز بھی موجود ہے۔ اہل خانہ نے یہ بھی بتایا کہ ابراہیم کا نام ۲۰۲۶؍ کی ووٹر لسٹ میں شامل تھا، لیکن بعد میں ایس آئی آر کے دوران اسے ہٹا دیا گیا۔ ان کی والدہ حنیفہ بیوہ کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان کئی نسلوں سے ہندوستان میں رہ رہا ہے ،اگرچہ ۲۰۰۲؍ کی ووٹر لسٹ میں ان کے والدین کے نام شامل تھےلیکن اس وقت ابراہیم کا نام اس مخصوص فہرست میں نہیں تھا۔
ابراہیم کے بیٹے سوون شیخ نے الزام لگایا ہے کہ پولیس نے نہ تو کوئی ایف آئی آر دکھائی، نہ ہی کوئی تحریری نوٹس یا حراستی حکم فراہم کیا۔انہوں نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے ان کے والد کا آدھار کارڈ، پین کارڈ، ووٹر کارڈ اور ۱۹۴۶؍ کا خاندانی دستاویز مانگا اور وہ تمام کاغذات اپنے ساتھ لے کر ان کے والد کو زبردستی ساتھ لے گئے۔ مقامی رہائشی امین الشیخ کے مطابق، اہل خانہ نے سوتی پولیس اسٹیشن اور جانگی پور کے ایس پی دفتر کے متعدد چکر لگائے لیکن کوئی واضح معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔ اس معاملے پر مقامی پنچایت ممبر مجکیرا بی بی نے بغیر کسی نوٹس کے شہری کو اٹھائے جانے اور قانونی عمل کے بغیر سرحد پار دھکیلنے پر سوال اٹھاتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ ابراہیم کی والدہ نے اپنے بیٹے کی بازیابی اور عدالت میں پیشی کیلئے کلکتہ ہائی کورٹ میں ہیبیس کارپس رِٹ کے تحت درخواست دائر کی ہے۔
یہ بھی پرھئے: یو سی سی پر مودی حکومت کو بڑا جھٹکا، تین اہم اتحادیوں کا رُخ الگ
اسی نوعیت کے ایک اور معاملے میں، سوتی پولیس اسٹیشن کے ہی کالوپارہ گاؤں کے تین اور رہائشیوں کو بنگلہ دیشی ہونے کے شبہے میں ان کے گھر سے اٹھا لیا گیا۔ اہل خانہ کے مطابق، ۸؍ اگست کی آدھی رات کو عبدالجبار اور ان کے دو بیٹوں، عبدالاحد اور عبدالجہاد کو حراست میں لیا گیا۔ خاندان نے اس کارروائی کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ تینوں افراد کے نام ووٹر لسٹ میں موجود ہیں۔ وہ باقاعدگی سے انتخابات میں ووٹ ڈالتے رہے ہیں اور ان کے پاس پاسپورٹ سمیت تمام درست دستاویزات موجود ہیں، اس لئے انہیں بغیر کسی نوٹس یا قانونی کارروائی کے سرحد پار بھیجنا سراسر غیر قانونی ہے۔
حقوقِ انسانی کی تنظیم ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف ڈیموکریٹک رائٹس (APDR) نے اس معاملے پر ایک رپورٹ شائع کرتے ہوئے چاروں شہریوں کی حراست اور مبینہ طور پر انہیں بنگلہ دیش بھیجے جانے ک خدشات پر شدید سوالات اٹھائے ہیں۔ تنظیم نے حکومت سے حراست کی قانونی وجوہات، شہریت کے ثبوت، اور انہیں عدالت میں پیش نہ کئے جانے کی تفصیلات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اے پی ڈی آر کے مرکزی کمیٹی ممبر راہل چکرورتی نے ان الزامات کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے ایک غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہابراہیم شیخ ، عبدالجباراور ان کے بیٹوں کو فوری طور پر بحفاظت ان کے اہل خانہ کے حوالے کیا جائے۔ غیر آئینی و غیر انسانی طور پر لوگوں کو سرحد پار دھکیلنے کا سلسلہ روکا جائے اور ریاست کے تمام ہولڈنگ سینٹرز کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔