• Wed, 16 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یو سی سی پر مودی حکومت کو بڑا جھٹکا، تین اہم اتحادیوں کا رُخ الگ

Updated: September 16, 2026, 11:02 AM IST | Agency | New Delhi

تیلگو دیشم پارٹی، جے ڈی یو اور چراغ پاسوان کی ایل جے پی نے اس تعلق سے حکومت کو فریقین سے بات چیت کرنے اور قابل قبول راستہ تلاش کرنے کا مشورہ دیا۔

The NDA has approved the UCC in four states, but it has faced opposition everywhere. Photo: INN
این ڈی اے نے چارریاستوں میں یوسی سی کو منظور ی دی ہے لیکن ہر جگہ اس کی مخالفت ہوئی ہے۔ تصویر: آئی این این

بی جے پی ابھی تک حد بندی کے مجوزہ قانون ہی سے جوجھ رہی تھی کہ اس کے اتحادیوں نے یونیفارم سول کوڈ پر بھی اسے ناکوں چنے چبوانے کااشارہ دیا ہے۔ این ڈی اے اتحادیوں کے ان اشاروں نےمرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی پریشانیوں میں اضافہ کردیا ہے کیونکہ ابھی دو دن قبل ہی انہوں نے اس تعلق سے بیان دیا تھا۔ ایک تقریب کے دوران امیت شاہ نے طمطراق اور رعونت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ لوک سبھا انتخابات۲۰۲۹ء سے قبل این ڈی اے کی حکمرانی والی تمام ۲۱؍ ریاستوں میں یو سی سی نافذ کر دیا جائے گا۔ ان کے اس بیان کے بعد سیاسی گلیاروں میں بحث و مباحثے کا دور شروع ہوگیا۔  اپوزیشن کی جماعتیں تو پہلے ہی سے اس کے خلاف تھیں، این ڈی اے کے اندر بھی شش و پنج کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔  امیت شاہ کا بیان سامنے آنے کے بعدبی جے پی کی ۳؍ اہم اتحادی جماعتوں نے یو سی سی کے تئیں اپنا موقف واضح ہے جو این ڈی اے کی نیند حرام کرنے کیلئے کافی ہے۔ جے ڈی یو، ٹی ڈی پی اور لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) نے اس حساس مسئلے پر کافی غور و فکر اور احتیاط کے ساتھ اپنی رائے رکھی ہے اور اس کی مخالفت کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:گروگرام کیس: ’دو ویڈیوز کافی ہیں‘، خاتون بائیکر کا کار ڈرائیور کو دوٹوک جواب

اس معاملے پر تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کا کہنا ہے کہ فی الحال اس مسئلے پرکوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ ابھی اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، جب کبھی ضرورت محسوس ہوگی، تب اس بارے میں سوچیں گے۔ٹی ڈی پی نے مزید کہا کہ نفاذ سے قبل اس تعلق سے فریقین سے ضرور بات کی جائے گی۔ خیال رہے کہ این ڈی اے کےساتھ رہتے ہوئے بھی کئی معاملات پر ٹی ڈی پی نے اپنا الگ موقف اختیار کیا ہے۔ این ڈی اے میں شامل ہونے سے قبل ٹی ڈی پی نے واضح طورپر کہا تھا کہ یو سی سی کے معاملے میں ہم مسلمانوں کے ساتھ رہیں گے۔

دوسری طرف جے ڈی یو لیڈر شیام رجک نے کہا کہ یہ بل  جس وقت پارلیمنٹ میں آیا تھا، تو ہمارے لیڈر (نتیش کمار) نے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ وہ بل کی حمایت تو کرتے ہیں، لیکن اسے اپنی ریاست میں نافذ نہیں ہونے دیں گے۔ ہم آج بھی اپنی اسی بات پر قائم ہیں۔ جے ڈی یو کے کارگزار صدر سنجے جھا نے بتایا کہ وہ اس مسئلے پر وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کر کے اس مسئلے پر گفتگو کریں گے۔اسی طرح لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے قومی صدر چراغ پاسوان نے این ڈی اے کے برعکس اپنےموقف کااظہار کیا ہے۔ انہوں نے احتیاط کے ساتھ ہی سہی لیکن کہا کہ ان کی پارٹی یکسانیت اور تنوع کی حمایت میں ہے۔ آئین نے الگ الگ معاشرے کی روایات اور رسم و رواج کو منظوری دی ہے۔ درج فہرست قبائل کو آئین کے مختلف شیڈولز اور آرٹیکلز کے تحت رعایت دی گئی ہے، جو اس کا ثبوت ہے۔ چراغ پاسوان نے یہ بھی کہا کہ یو سی سی کی تجویز کو پہلے پبلک ہونا چاہئے، سبھی متعلقہ فریقین کے مفادات پر غور و فکر کیا جانا چاہئے اوراس پر تفصیلی بحث ہونی چاہئے۔ 

یہ بھی پڑھئے:بی جے پی کامیاب مگر پکڑ کمزور، ناراضگی کا واضح اثر

جے ڈی یو اور  ٹی ڈی پی کا سیاسی مزاج

جے ڈی یو اور ٹی ڈی پی کی ہمیشہ ہی سے آزادانہ رخ اختیار کرنے کی تاریخ رہی ہے۔۲۰۱۴ء سے دونوں پارٹیاں بی جے پی کے مختلف معاملات پر مختلف نظریہ پیش کرتی رہی ہیں۔ اس دوران وہ کبھی این ڈی اے کا حصہ رہیں تو کبھی باہر ہوگئیں۔ اتحادی پارٹی ہونے کے باوجود بھی جے ڈی یو کے اراکین پارلیمان نے۲۰۱۹ء میں۳۷۰؍ ہٹائے جانے کے بل کی حمایت نہیں کی تھی اور اراکین پارلیمان باہر چلے گئے تھے۔ وزیر اعظم مودی کی تیسری مدت میں حالانکہ دونوں پارٹیاں بی جے پی کے کافی قریب نظر آرہی ہیں، لیکن اب یکساں سول کوڈ پر مختلف موقف اختیار کیا ہے۔

چار ریاستوں کی اسمبلی میں یوسی سی منظور

بی جے پی حکومت۴؍ ریاستوں میں یکساں سول کوڈ قانون لاچکی ہے۔ اتراکھنڈ میں جنوری۲۰۲۵ء سے یو سی سی نافذ ہو چکا ہے جبکہ گجرات، آسام اور مدھیہ پردیش میں یو سی سی کے نفاذ کی تجویز اسمبلی میں پاس ہوچکی ہے۔ صدر جمہوریہ کی منظوری کے بعد ان ریاستوں میں بھی نافذ ہو جائے گا۔ وہیں مہاراشٹر، مغربی بنگال اور چھتیس گڑھ نے یو سی سی قانون تیار کرنے کیلئے کمیٹیاں تشکیل دی ہیں اور راجستھان میں کابینہ نے ڈرافٹ بل پاس کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK