دُنیا بھر میں مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے

Updated: May 05, 2022, 9:10 AM IST | Washington

امریکی صدر جو بائیڈن کا عید الفطر کے خطاب میں  اظہار تشویش، مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنائے جانے کی مذمت کی اور امریکہ کیلئے مسلمانوں کی خدمات کا اعتراف کیا

Joe Biden with Dr. Talib M. Sharif, imam of Washington`s Muhammad Mosque, at the Eid ceremony at the White House. (Photo: AP / PTI)
وہائٹ ہاؤس میں عید کی تقریب میں جوبائیڈن واشنگٹن کی مسجد محمد کے امام ڈاکٹر طالب ایم شریف کے ساتھ ۔ (تصویر: اے پی / پی ٹی آئی)

 عید الفطر کے موقع پر   وہائٹ ہائوس میں منعقدہ  تقریب  میں  امریکی   صدر  جوبائیڈن  نے امریکی سماج میں مسلمانوں کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے اس  بات پر تشویش کااظہار کیا کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہاہے۔ انہوں نے مذہب کی بنیاد پر کسی  کے بھی نشانہ بنائے  جانے کی پرزور مذمت کی ۔اس بات  پر فخر کااظہار کرتے ہوئے کہ امریکہ  میں مقیم مسلمان ا پنے ملک کو ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط اور توانا کرتے ہیں، بائیڈن   نے اعتراف کیا کہ جس سماج میں وہ رہ رہے ہیں، اس میں انہیں چیلنجز اور خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
  مسلمان نشانہ بنائے جارہے ہیں
  انہوں نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو نہ صرف عید کی مبارکباد پیش کی بلکہ یہ اعتراف کیا کہ اس وقت مسلمانوں کو پوری دنیا میں نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن وہ اتنے مضبوط اور خدا  پر ان کا اعتماد ایسا پختہ ہے کہ   ہرمرتبہ ستائے جانے کے بعد  وہ اور بھی   مضبوط ہوکر ابھرتے ہیں۔ وہائٹ ہاؤس میں عید کے تعلق سے منعقدہ اس سرکاری تقریب میں   نائب صدر کملا ہیرس کے شوہر ڈگلس ایمہوف  نے بھی شرکت کی ۔ گزشتہ دو برسوں سے کوروناوبا کے باعث سماجی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں میں نرمی کے بعد اس بار امریکہ میں عید کے روایتی رونقیں بحال ہو گئی ہیں۔وائٹ ہاؤس نے​ اتوار کو رمضان کے اختتام اور عید کی آمد کے موقع پر صدر جو بائیڈن اور خاتونِ اوّل جل بائیڈن کا خصوصی مشترکہ پیغام بھی جاری کیا ہے۔
 عید غریبوں کو یاد رکھنے کا موقع
 ​اس پیغام میں  امریکی صدر نے کہا کہ  عید مسلمانوں کو غربت، بھوک، تنازعات اور بیماری سے متاثرہ افراد کو یاد رکھنے اور سب کے بہتر مستقبل کی تعمیر کیلئے مشترکہ کوششوں کی یادہانی کا موقع بھی ہے۔انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ قرآن انسانوں پر انصاف کے ساتھ کھڑے ہونےکیلئے زور دیتا ہے اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اقوام اور قبائل ایک دوسرے سے تعارف کیلئے بنائے گئے ہیں۔
  انہوں نے کہا کہ ہم پوری دنیا میں مسلمانوں پر ہونے والے پرتشدد حملے دیکھ رہے ہیں لیکن ساتھ ہی مسلمانوں کا صبر بھی دیکھ رہے ہیں۔ یہی مسلمان ہیں اور یہی ان کا جذبہ ہے جو امریکہ کو بھی مضبوط بناتا ہے اور ہر مشکل سے لڑنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ اپنے مشترکہ پیغام میں صدر اور خاتونِ اول نے کہا کہ سب کیلئے یکساں مذہبی آزادی کی روایت  نے ہی امریکہ کو اتنا بہتر بنایا ہے اور مسلمان اس روایت کا اہم حصہ ہیں۔
ایغور  اور روہنگیامسلمانوں کا حوالہ دیا
 وہائٹ ہاؤس کی اس تقریب میں پاکستانی گلوکار اور کمپوزر عجوب آفتاب بھی مقررین کی فہرست میں شامل تھے جبکہ شرکاء میں  واشنگٹن ڈی سی  کی مسجد محمد  کے امام ڈاکٹر طالب ایم شریف کا نام اہمیت کا حامل ہے۔  جو بائیڈن نے اس موقع پر چین میں  ایغوراور میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ہونےوا لے مظالم کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’آج ہم ان لوگوں کو بھی یاد کررہے ہیں جو اس مبارک تہوار کو نہیں مناسکتے۔ ان میں ایغور اور روہنگیا مسلمان  نیز وہ تمام افراد شامل ہیں قحط، تشدد، تنازع اور بیماری کی وجہ سے عید کی خوشیاں نہیں منا پارہے ہیں۔‘‘  بائیڈن  نے امریکہ  میں مساوات کو مزید فروغ دینے اور مسلمانوں کیلئے معاشرہ میں  زیادہ داری کے فروغ کو اپنی حکومت کے فریم  ورک کا حصہ قراردیا۔ 

Joe Biden Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK