Updated: January 06, 2026, 3:30 PM IST
|
Agency
| Sydney
انگلینڈ کے ۳۸۴؍رنوں کے جواب میں میزبان ٹیم نے ۲؍وکٹ پر ۱۶۶؍رن بنا لئے،ٹریوس ہیڈ کی ناٹ آؤٹ ہاف سنچری۔
انگلینڈ کے بلے باز جو روٹ نے ۴۱؍ویں ٹیسٹ سنچری بنائی۔ تصویر: پی ٹی آئی
ایشیز سیریز کے پانچویں اور آخری ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کے تجربہ کار بلے باز جو روٹ اور آسٹریلیا کے جارح بلے باز ٹریوس ہیڈ کی شاندار اننگز کی بدولت میچ کا دوسرا دن سنسنی خیز رہا۔پہلی اننگز میں انگلینڈ کی ٹیم چائے سےکچھ دیرقبل۳۸۴؍رنوں پر آؤٹ ہو گئی۔ انگلینڈ کی جانب سے جو روٹ نے شاندار بلے بازی کرتے ہوئے ۱۶۰؍رنوں کی یادگار اننگز کھیلی، جو ان کے ٹیسٹ کریئر کی۴۱؍ویں سنچری ہے۔ روٹ کا یہ آسٹریلیا میں ایشز سیریز کا بھی بہترین اسکور بھی ہے۔ جواب میں آسٹریلیا نے دن کے اختتام تک پہلی اننگز میں ۲؍ وکٹ پر ۱۶۶؍رن بنا لئے تھے، جس میں ٹریوس ہیڈ کی ناقابل شکست ۹۱؍رن کی اننگز بھی شامل ہے۔
روٹ کی تاریخی سنچری
جوروٹ نے ناہموار حالات میں اپنی کلاس کا شاندار مظاہرہ کیا۔ ۴؍ ایشز دوروں کا تجربہ رکھنے والے روٹ نے ۱۴۶؍ گیندوں میں اپنی ۴۱؍ویں ٹسٹ سنچری مکمل کی، جس میں ۱۱؍چوکے شامل تھے۔ سنچری مکمل کرنے کے بعد انہوں نے وہی کندھے اچکانے والا انداز اپنایا، جیسا انہوں نے گزشتہ ماہ برسبین میں اپنی پہلی ایشیز سنچری کے دوران کیا تھا۔ روٹ نے کہاکہ اس پوری سیریز میں ہمیں شاندار حمایت ملی ہے۔ اگرچہ ہم ٹیم کے طور پر اپنے اہداف حاصل نہ کر سکے، لیکن حمایت کبھی کم نہیں ہوئی۔ یہ جشن اسی کیلئے تھا۔۲۴۲؍ گیندوں کی طویل اننگز کھیلنے کے بعد روٹ ۱۶۰؍ رن پر مائیکل نیسر کوریٹر ن کیچ تھما کر آؤٹ ہوئے۔ میدان سے لوٹتے وقت تقریباً کھچا کھچ بھرے اسٹیڈیم میں تماشائیوں نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔ روٹ نے تسلیم کیا کہ یہ ممکنہ طور پر آسٹریلیا کا ان کا آخری دورہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس سنچری کے ساتھ روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سنچریوں کی فہرست میں رکی پونٹنگ کے برابر پہنچ گئے۔ ان سے آگے اب صرف سچن تینڈولکر (۵۱) اور جیک کیلس (۴۵) ہیں۔
انگلینڈ کی اننگ کا اختتام
روٹ اور ہیری بروک کے درمیان ۱۶۹؍ رنوں کی شراکت نے آسٹریلیا کو دباؤ میں ڈال دیا تھا لیکن اسکاٹ بولینڈ (۲؍وکٹ) اور مشل اسٹارک (۲؍وکٹ) نے بروقت وکٹ لے کر واپسی کرائی۔ بولینڈ نے بروک (۸۴) کو آؤٹ کر کے سیریز کی بہترین شراکت توڑی۔ اسٹارک نے ایک بار پھر بین اسٹوکس کو صفر پر آؤٹ کیا، جو اس سیریز میں پانچویں بار ہوا۔ مائیکل نیسر نے شاندار گیند بازی کرتے ہوئے۴؍وکٹیں حاصل کیں اور انگلینڈ کی اننگز سمیٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔
آسٹریلیا کا شاندار آغاز
آسٹریلیا کی اننگز کا آغاز جارحانہ رہا۔ ٹریوس ہیڈ اور جیک ویڈرالڈ نے محض۱۰؍ اووروں میں ٹیم کا اسکور ۵۰؍کے اوپر پہنچا دیا۔ انگلینڈ کے کپتان اسٹوکس نے ویڈرالڈ (۲۱) کو آؤٹ کر کے پہلی کامیابی دلائی لیکن ہیڈ نے اپنا جارحانہ انداز برقرار رکھا۔ہیڈ نے ۵۵؍ گیندوں میں نصف سنچری مکمل کی اور سیریز میں اپنے ۵۰۰؍رن بھی مکمل کر لئے ۔
ہیڈ اور مارنس لابوشین کے درمیان ۱۰۵؍ رنوں کی تیز شراکت ہوئی، تاہم دن کے آخری سیشن میں اسٹوکس نے لابوشین (۴۸) کو آؤٹ کر کے انگلینڈ کو کچھ راحت دلائی۔ دوسرے دن کا کھیل ختم ہونے تک آسٹریلیا نے ۲؍وکٹ پر ۱۶۶؍رن بنائے تھے۔ انگلینڈ ابتدائی۳؍ ٹیسٹ ہار کر پہلے ہی ایشز گنوا چکا ہے لیکن باکسنگ ڈے ٹیسٹ جیتنے کے بعد اس نے سیریز کو باعزت بنانے کی کوشش جاری رکھی ہے۔